🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة طه
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
طه
طٰہٰ ۔
2
ما أنزلنا عليك القرآن لتشقى
ہم نے تجھ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو مصیبت میں پڑجائے۔
ابن کثیر ↑
3
إلا تذكرة لمن يخشى
بلکہ نصیحت کرنے کے لیے، اس کو جو ڈرتا ہے۔
ابن کثیر ↑
4
تنزيلا ممن خلق الأرض والسماوات العلى
اس کی طرف سے اتارا ہوا ہے جس نے زمین کو اور اونچے آسمانوں کو پیدا کیا۔
ابن کثیر ↑
5
الرحمن على العرش استوى
وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔
ابن کثیر ↑
6
له ما في السماوات وما في الأرض وما بينهما وما تحت الثرى
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو گیلی مٹی کے نیچے ہے۔
ابن کثیر ↑
7
وإن تجهر بالقول فإنه يعلم السر وأخفى
اور اگر تو اونچی آواز سے بات کرے تو وہ تو پوشیدہ اور اس سے بھی پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔
ابن کثیر ↑
8
الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب سے اچھے نام اسی کے ہیں۔
ابن کثیر ↑
9
وهل أتاك حديث موسى
اور کیا تیرے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے؟
10
إذ رأى نارا فقال لأهله امكثوا إني آنست نارا لعلي آتيكم منها بقبس أو أجد على النار هدى
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بے شک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں تمھارے پاس اس سے کوئی انگارا لے آئوں، یا اس آگ پر کوئی رہنمائی حاصل کر لوں۔
ابن کثیر ↑
11
فلما أتاها نودي يا موسى
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی اے موسیٰ!
12
إني أنا ربك فاخلع نعليك إنك بالواد المقدس طوى
بے شک میں ہی تیرا رب ہوں، سو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے، بے شک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔
ابن کثیر ↑
13
وأنا اخترتك فاستمع لما يوحى
اور میں نے تجھے چن لیا ہے، پس غور سے سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔
ابن کثیر ↑
14
إنني أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدني وأقم الصلاة لذكري
بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔
ابن کثیر ↑
15
إن الساعة آتية أكاد أخفيها لتجزى كل نفس بما تسعى
یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔
16
فلا يصدنك عنها من لا يؤمن بها واتبع هواه فتردى
سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہو جائے گا۔
ابن کثیر ↑
17
وما تلك بيمينك يا موسى
اور یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ!؟
18
قال هي عصاي أتوكأ عليها وأهش بها على غنمي ولي فيها مآرب أخرى
کہا یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوںاور میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔
ابن کثیر ↑
19
قال ألقها يا موسى
فرمایا اسے پھینک دے اے موسیٰ!
ابن کثیر ↑
20
فألقاها فإذا هي حية تسعى
تو اس نے اسے پھینکا تو اچانک وہ ایک سانپ تھا جو دوڑتا تھا۔
21
قال خذها ولا تخف سنعيدها سيرتها الأولى
فرمایا اسے پکڑ اور ڈر نہیں، عنقریب ہم اسے اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔
ابن کثیر ↑
22
واضمم يدك إلى جناحك تخرج بيضاء من غير سوء آية أخرى
اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو کی طرف ملا، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکتا ہوا) نکلے گا، اس حال میں کہ ایک اور نشانی ہے۔
ابن کثیر ↑
23
لنريك من آياتنا الكبرى
تاکہ ہم تجھے اپنی چند بڑی نشانیاں دکھائیں۔
24
اذهب إلى فرعون إنه طغى
فرعون کی طرف جا، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
25
قال رب اشرح لي صدري
اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔
26
ويسر لي أمري
اور میرے لیے میرا کام آسان کر دے۔
ابن کثیر ↑
27
واحلل عقدة من لساني
اور میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے۔
ابن کثیر ↑
28
يفقهوا قولي
کہ وہ میری بات سمجھ لیں۔
ابن کثیر ↑
29
واجعل لي وزيرا من أهلي
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک بوجھ بٹانے والا بنادے۔
ابن کثیر ↑
30
هارون أخي
ہارون کو، جو میرا بھائی ہے۔
ابن کثیر ↑
31
اشدد به أزري
اس کے ساتھ میری پشت مضبوط کر دے۔
ابن کثیر ↑
32
وأشركه في أمري
اور اسے میرے کام میں شریک کر دے۔
ابن کثیر ↑
33
كي نسبحك كثيرا
تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں۔
ابن کثیر ↑
34
ونذكرك كثيرا
اور تجھے بہت یاد کریں۔
ابن کثیر ↑
35
إنك كنت بنا بصيرا
بے شک تو ہمیشہ ہمارے حال کو خوب دیکھنے والا رہا ہے۔
ابن کثیر ↑
36
قال قد أوتيت سؤلك يا موسى
فرمایا بے شک تجھے تیرا سوال عطا کر دیا گیا اے موسیٰ!
37
ولقد مننا عليك مرة أخرى
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ پر ایک اور بار بھی احسان کیا۔
ابن کثیر ↑
38
إذ أوحينا إلى أمك ما يوحى
جب ہم نے تیری ماں کو وحی کی، جو وحی کی جاتی تھی۔
ابن کثیر ↑
39
أن اقذفيه في التابوت فاقذفيه في اليم فليلقه اليم بالساحل يأخذه عدو لي وعدو له وألقيت عليك محبة مني ولتصنع على عيني
یہ کہ تو اسے صندوق میں ڈال، پھر اسے دریا میں ڈال دے، پھر دریا اسے کنارے پرڈال دے ، اسے ایک میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھالے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔
ابن کثیر ↑
40
إذ تمشي أختك فتقول هل أدلكم على من يكفله فرجعناك إلى أمك كي تقر عينها ولا تحزن وقتلت نفسا فنجيناك من الغم وفتناك فتونا فلبثت سنين في أهل مدين ثم جئت على قدر يا موسى
جب تیری بہن چلی جاتی تھی، پس کہتی تھی کیا میں تمھیں اس کا پتا دوں جو اس کی پرورش کرے؟ پس ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے۔ اور تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا، پھر کئی سال تو مدین والوں میں ٹھہرا رہا، پھر تو ایک مقرر اندازے پر آیا اے موسیٰ!
ابن کثیر ↑
41
واصطنعتك لنفسي
اور میں نے تجھے اپنے لیے خاص طور پر بنایا ہے۔
42
اذهب أنت وأخوك بآياتي ولا تنيا في ذكري
تو اور تیرا بھائی میری آیات لے کر جائو اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔
ابن کثیر ↑
43
اذهبا إلى فرعون إنه طغى
دونوں فرعون کے پاس جائو، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
ابن کثیر ↑
44
فقولا له قولا لينا لعله يتذكر أو يخشى
پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔
ابن کثیر ↑
45
قالا ربنا إننا نخاف أن يفرط علينا أو أن يطغى
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! یقینا ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا، یا کہ حد سے بڑھ جائے گا۔
46
قال لا تخافا إنني معكما أسمع وأرى
فرمایا ڈرو نہیں، بے شک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔
ابن کثیر ↑
47
فأتياه فقولا إنا رسولا ربك فأرسل معنا بني إسرائيل ولا تعذبهم قد جئناك بآية من ربك والسلام على من اتبع الهدى
تو اس کے پاس جائو اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے، یقینا ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آئے ہیں اور سلام اس پر جو ہدایت کے پیچھے چلے۔
ابن کثیر ↑
48
إنا قد أوحي إلينا أن العذاب على من كذب وتولى
بے شک ہم، یقینا ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس پر ہے جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
ابن کثیر ↑
49
قال فمن ربكما يا موسى
اس نے کہا تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ!؟
50
قال ربنا الذي أعطى كل شيء خلقه ثم هدى
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔
ابن کثیر ↑