قرآن مجيد
سورة طه
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
طٰہٰ ۔
|
|
2 |
ہم نے تجھ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو مصیبت میں پڑجائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
بلکہ نصیحت کرنے کے لیے، اس کو جو ڈرتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اس کی طرف سے اتارا ہوا ہے جس نے زمین کو اور اونچے آسمانوں کو پیدا کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو گیلی مٹی کے نیچے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اور اگر تو اونچی آواز سے بات کرے تو وہ تو پوشیدہ اور اس سے بھی پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب سے اچھے نام اسی کے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
اور کیا تیرے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے؟
|
|
10 |
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بے شک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں تمھارے پاس اس سے کوئی انگارا لے آئوں، یا اس آگ پر کوئی رہنمائی حاصل کر لوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی اے موسیٰ!
|
|
12 |
بے شک میں ہی تیرا رب ہوں، سو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے، بے شک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
اور میں نے تجھے چن لیا ہے، پس غور سے سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔
|
|
16 |
سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہو جائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
اور یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ!؟
|
|
18 |
کہا یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوںاور میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
فرمایا اسے پھینک دے اے موسیٰ!
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
تو اس نے اسے پھینکا تو اچانک وہ ایک سانپ تھا جو دوڑتا تھا۔
|
|
21 |
فرمایا اسے پکڑ اور ڈر نہیں، عنقریب ہم اسے اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو کی طرف ملا، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکتا ہوا) نکلے گا، اس حال میں کہ ایک اور نشانی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
تاکہ ہم تجھے اپنی چند بڑی نشانیاں دکھائیں۔
|
|
24 |
فرعون کی طرف جا، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
|
|
25 |
اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔
|
|
26 |
اور میرے لیے میرا کام آسان کر دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
اور میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
کہ وہ میری بات سمجھ لیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک بوجھ بٹانے والا بنادے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
ہارون کو، جو میرا بھائی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
اس کے ساتھ میری پشت مضبوط کر دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
اور اسے میرے کام میں شریک کر دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
اور تجھے بہت یاد کریں۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
بے شک تو ہمیشہ ہمارے حال کو خوب دیکھنے والا رہا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
فرمایا بے شک تجھے تیرا سوال عطا کر دیا گیا اے موسیٰ!
|
|
37 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ پر ایک اور بار بھی احسان کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
جب ہم نے تیری ماں کو وحی کی، جو وحی کی جاتی تھی۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
یہ کہ تو اسے صندوق میں ڈال، پھر اسے دریا میں ڈال دے، پھر دریا اسے کنارے پرڈال دے ، اسے ایک میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھالے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
جب تیری بہن چلی جاتی تھی، پس کہتی تھی کیا میں تمھیں اس کا پتا دوں جو اس کی پرورش کرے؟ پس ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے۔ اور تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا، پھر کئی سال تو مدین والوں میں ٹھہرا رہا، پھر تو ایک مقرر اندازے پر آیا اے موسیٰ!
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
اور میں نے تجھے اپنے لیے خاص طور پر بنایا ہے۔
|
|
42 |
تو اور تیرا بھائی میری آیات لے کر جائو اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
دونوں فرعون کے پاس جائو، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! یقینا ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا، یا کہ حد سے بڑھ جائے گا۔
|
|
46 |
فرمایا ڈرو نہیں، بے شک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
تو اس کے پاس جائو اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے، یقینا ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آئے ہیں اور سلام اس پر جو ہدایت کے پیچھے چلے۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
بے شک ہم، یقینا ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس پر ہے جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
اس نے کہا تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ!؟
|
|
50 |
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔
|
ابن کثیر ↑
|