قرآن مجيد
سورة الشعراء
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
101 |
اور نہ کوئی دلی دوست۔
|
ابن کثیر ↑
|
102 |
تو کاش کہ ہمارے لیے واپس جانے کا ایک موقع ہو، توہم مومنوں میں سے ہو جائیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
103 |
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اوران کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
104 |
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
105 |
نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔
|
|
106 |
جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
107 |
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
108 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
|
ابن کثیر ↑
|
109 |
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
110 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
|
ابن کثیر ↑
|
111 |
انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جوسب سے ذلیل ہیں۔
|
|
112 |
اس نے کہا اور مجھے کیا علم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
113 |
ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمے ہے، اگر تم سمجھو۔
|
ابن کثیر ↑
|
114 |
اور میں ایمان والوں کو کسی صورت نکال دینے والا نہیں ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
115 |
میں نہیں ہوں مگر ایک کھلم کھلا ڈرانے والا۔
|
ابن کثیر ↑
|
116 |
انھوں نے کہا اے نوح! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔
|
|
117 |
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
118 |
پس تو میرے درمیان اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے،کھلا فیصلہ اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں، انھیں بچالے۔
|
ابن کثیر ↑
|
119 |
تو ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے، بچا لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
120 |
پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
121 |
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
122 |
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
123 |
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔
|
|
124 |
جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
125 |
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
126 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
|
ابن کثیر ↑
|
127 |
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
128 |
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
129 |
اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
130 |
اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
131 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
|
ابن کثیر ↑
|
132 |
اور اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمھاری مدد کی جنھیں تم جانتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
133 |
اس نے چوپاؤں اور بیٹوں کے ساتھ تمھاری مدد کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
134 |
اور باغوں اور چشموں کے ساتھ۔
|
ابن کثیر ↑
|
135 |
یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
136 |
انھوں نے کہا ہم پر برابر ہے کہ تو نصیحت کرے، یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔
|
|
137 |
نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی عادت۔
|
ابن کثیر ↑
|
138 |
اور ہم قطعاً عذاب دیے جانے والے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
139 |
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
140 |
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
141 |
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔
|
|
142 |
جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
143 |
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
144 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
|
ابن کثیر ↑
|
145 |
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
146 |
کیا تم ان چیزوں میں جو یہاں ہیں، بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے۔
|
|
147 |
باغوں اور چشموں میں۔
|
ابن کثیر ↑
|
148 |
اور کھیتوں اور کھجوروں میں، جن کے خوشے نرم و نازک ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
149 |
اور تم پہاڑوں سے تراش کر گھر بناتے ہو، اس حال میں کہ خوب ماہر ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
150 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
|
ابن کثیر ↑
|