قرآن مجيد
سورة ق
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
ق۔ قسم ہے قرآن کی جو بہت بڑی شان والا ہے!
|
|
2 |
بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ فَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا شَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ۚ﴿۲﴾
بلکہ انھوںنے تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا، توکافروں نے کہا یہ ایک عجیب چیز ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی ہو گئے؟ یہ واپس لوٹنا بہت دور ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
بے شک ہم جان چکے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
بلکہ انھوں نے سچ کو جھٹلادیا جب وہ ان کے پاس آیا۔ پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں ۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
تو کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کیسے اسے بنایا اور اسے سجایا اور اس میں کوئی درزیں نہیں ہیں۔
|
|
7 |
اور زمین، ہم نے اسے پھیلایا اور اس میں گڑے ہوئے پہاڑ رکھے اور اس میں خوبی والی ہر قسم اگائی۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
ہر اس بندے کو دکھانے اور یاد دلانے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
اور ہم نے آسمان سے ایک بہت بابرکت پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ باغات اور کاٹی جانے والی (کھیتی) کے دانے اگائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور کھجوروں کے درخت لمبے لمبے، جن کے تہ بہ تہ خوشے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
بندوں کو روزی دینے کے لیے اور ہم نے اس کے ساتھ ایک مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح نکلنا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور کنویں والوں نے اور ثمود نے۔
|
|
13 |
اور عاد اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اور درختوں کے جھنڈ والوں نے اور تبع کی قوم نے، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں؟ بلکہ وہ ایک نئے پیدا کیے جانے کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتاہے اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
|
|
17 |
جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔
|
|
18 |
وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آئے گی۔ یہ ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
اور صور میں پھونکا جا ئے گا، یہی عذاب کے وعدے کا دن ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
اور ہر شخص آئے گا، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
بلاشبہ یقینا تو اس سے بڑی غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کر دیا، تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا یہ ہے وہ جو میرے پاس تیار ہے۔
|
|
24 |
جہنم میں پھینک دو تم دونوں (فرشتے) ہر زبردست ناشکرے کو، جو بہت عناد رکھنے والا ہے ۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
جو خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا، شک کرنے والا ہے۔
|
|
26 |
جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا، سو دونوں اسے بہت سخت عذاب میں ڈال دو۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب !میں نے اسے سر کش نہیں بنایا اور لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
فرمایا میرے پاس جھگڑا مت کرو، حالانکہ میں نے تو تمھاری طرف ڈرانے کا پیغام پہلے بھیج دیا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے؟
|
|
31 |
اور جنت پر ہیز گاروں کے لیے قریب کر دی جائے گی، جو کچھ دور نہ ہوگی۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع والا، خوب حفاظت کرنے والا ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
جو رحمان سے بغیر دیکھے ڈر گیا اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہی ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
ان کے لیے جو کچھ وہ چاہیں گے اس میں ہو گا اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلیں ہلاک کر دیں، جو پکڑنے میں ان سے زیادہ سخت تھیں۔ پس انھوں نے شہروں کو چھان مارا، کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے؟
|
|
37 |
بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے یقینا نصیحت ہے جس کا کوئی دل ہو، یا کان لگائے، اس حال میں کہ وہ (دل سے) حاضر ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کی تسبیح کر اور سجدے کے بعد کے اوقات میں بھی ۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
اور کان لگا کر سن جس دن پکارنے والا ایک قریب جگہ سے پکارے گا۔
|
|
42 |
جس دن وہ چیخ کو حق کے ساتھ سنیں گے، یہ نکلنے کا دن ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
یقینا ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
جس دن زمین ان سے پھٹے گی، اس حال میں کہ وہ تیز دوڑنے والے ہوں گے، یہ ایسا اکٹھا کرنا ہے جو ہمارے لیے نہایت آسان ہے ۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں اور توان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں، سو قرآن کے ساتھ اس شخص کو نصیحت کر جو میرے عذاب کے وعدے سے ڈرتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|