قرآن مجيد
سورة الرحمٰن
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
اس بے حد رحم والے نے۔
|
|
2 |
یہ قرآن سکھایا۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
اس نے انسان کو پیدا کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اسے بات کرنا سکھایا۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
سورج اور چاند ایک حساب سے (چل رہے) ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
اور بے تنے کے پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں ۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اور آسمان، اس نے اسے اونچا اٹھایا اور اس نے ترازو رکھی۔
|
|
8 |
تاکہ تم ترازو میں زیادتی نہ کرو۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
اور انصاف کے ساتھ تول سیدھا رکھو اور ترازو میں کمی مت کرو۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور زمین، اس نے اسے مخلوق کے لیے بچھا دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
اس میں پھل ہیں اور کھجور کے درخت جو (خوشوں پر) غلافوں والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
اور دانے جو بھُس والے ہیں اور خوشبودار پھول۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
تو (اے جن و انس! ) تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔
|
|
15 |
اور جنّ کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
(وہ) دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اس نے دو سمندروں کو ملادیا ، جو اس حال میں مل رہے ہیں کہ۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے (جس سے) وہ آگے نہیں بڑھتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
ان دونوں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
اور اسی کے ہیں بادبان اٹھائے ہوئے جہاز سمندر میں، جو پہاڑوں کی طرح ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
ہر ایک جو اس( زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔
|
|
27 |
اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
ہم جلد ہی تمھارے لیے فارغ ہوں گے اے دو بھاری گروہو!
|
|
32 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
اے جن و انس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا، پھر تم اپنے آپ کو بچا نہیں سکو گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
پھر جب آسمان پھٹ جائے گا، تو وہ سرخ چمڑے کی طرح گلابی ہو جائے گا۔
|
|
38 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھا جائے گا اور نہ کسی جنّ سے۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے، پھر پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
یہی ہے وہ جہنم جسے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
وہ اس کے درمیان اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر کاٹتے رہیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔
|
|
47 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
دونوں بہت شاخوں والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
ان دونوں میں دو چشمے ہیں، جو بہ رہے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|