قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ
سُوءٍ
کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر |
لفظ |
آیت |
1 |
سُوءٍ |
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ [3-آل عمران:30]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہو جاتی اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
جس دن ہر شخص حاضر کیا ہوا پائے گا جو اس نے نیکی میں سے کیا اور وہ بھی جو اس نے برائی میں سے کیا، چاہے گا کاش! اس کے درمیان اور اس کے درمیان بہت دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں سے بے حد نرمی کرنے والا ہے۔
|
2 |
سُوءٍ |
إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا [4-النساء:149]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اگر تم کسی نیکی کو علانیہ کرو یا پوشیده، یا کسی برائی سے درگزر کرو، پس یقیناً اللہ تعالیٰ پوری معافی کرنے واﻻ اور پوری قدرت واﻻ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو، یا اسے چھپائو، یا کسی برائی سے در گزر کرو تو بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
|
3 |
سُوءٍ |
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ [12-يوسف:51]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بادشاه نے پوچھا اے عورتو! اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے جب تم داؤ فریب کر کے یوسف کو اس کی دلی منشا سے بہکانا چاہتی تھیں، انہوں نے صاف جواب دیا کہ معاذ اللہ ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں پائی، پھر تو عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات نتھر آئی۔ میں نے ہی اسے ورغلایا تھا، اس کے جی سے، اور یقیناً وه سچوں میں سے ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس نے کہا تمھارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا؟ انھوں نے کہا اللہ کی پناہ! ہم نے اس پر کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی بیوی نے کہا اب حق خوب ظاہر ہو گیا، میں نے ہی اسے اس کے نفس سے پھسلایا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا سچوں سے ہے۔
|
4 |
سُوءٍ |
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ بَلَى إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [16-النحل:28]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وه جو اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وه جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کرتے تھے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، تو وہ فرماں برداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے۔ کیوں نہیں! یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔
|
5 |
سُوءٍ |
وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ آيَةً أُخْرَى [20-طه:22]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال لے تو وه سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے یہ دوسرا معجزه ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگالو وہ کسی عیب (وبیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ (یہ) دوسری نشانی (ہے)
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو کی طرف ملا، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکتا ہوا) نکلے گا، اس حال میں کہ ایک اور نشانی ہے۔
|
6 |
سُوءٍ |
إِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ [27-النمل:11]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
لیکن جو لوگ ﻇلم کریں پھر اس کے عوض نیکی کریں اس برائی کے پیچھے تو میں بھی بخشنے واﻻ مہربان ہوں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
مگر جس نے ظلم کیا، پھر برائی کے بعد بدل کر نیکی کی تو بے شک میں بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہوں۔
|
7 |
سُوءٍ |
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ [27-النمل:12]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، وه سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے، تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جا، یقیناً وه بدکاروں کا گروه ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا۔ (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، کسی عیب کے بغیر (چمکتا ہوا) سفید نکلے گا، نو نشانیوں میں، فرعون اور اس کی قوم کی طرف۔ بلاشبہ وہ نافرمان لوگ تھے۔
|
8 |
سُوءٍ |
اسْلُكْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِنْ رَبِّكَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ [28-القصص:32]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکدار) نکلے گا اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنا بازو اپنی جانب ملالے، سو یہ دونوں تیرے رب کی جانب سے فرعون اوراس کے سرداروں کی طرف دو دلیلیں ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔
|