🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الشمس
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰہَا ۪ۙ﴿۵﴾
اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا ![5]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 5) {وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا: بَنٰي يَبْنِيْ بِنَاءً} (ض) بنانا۔ واضح رہے کہ عام طور پر {مَنْ} علم والوں، مثلاً اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور انسانوں کے لیے آتا ہے، جبکہ{مَا} ان کے علاوہ کے لیے آتا ہے، مگر بعض اوقات کسی خاص مقصد کی وجہ سے اس کا الٹ بھی ہو جاتا ہے اور {مَا} علم والوں کے لیے بھی آجاتا ہے، جیسا کہ { مَا } یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا! یہاں {مَنْ} کے بجائے { مَا } اس لیے لایا گیا ہے کہ وہ یہاں {اَلَّذِيْ} کے معنی میں ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ قرآن مجید میں { مَا } کا لفظ علم والوں کے لیے متعدد مقامات پر آیا ہے، مثلاً: «‏‏‏‏وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ» [ الکافرون: ۳ ] اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور فرمایا: «فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۳ ] سو عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔