🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3258. -- باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص
-- باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16047
قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ}.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ ”پھر جو شخص اس (قصاص) کو صدقہ (معاف) کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا۔“ [سورة المائدة: 45] “ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: Q16047]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16047
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ قَالَ فِي قَوْلِهِ:" فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ"، قَالَ: لِلَّذِي جُرِحَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ [سورة المائدة: 45] یہ اس کے لیے ہے جو زخمی کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16047]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16048
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ} [المائدة: ٤٥] قَالَ: يَهْدِمُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ مِنْ ذُنُوبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالرِّوَايَةُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنَّ الْعَفْوَ عَنِ الْقِصَاصِ كَفَّارَةٌ، أَوْ قَالَ شَيْئًا يُرَغِّبُ بِهِ فِي الْعَفْوِ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ﴾ [سورة المائدة: 45] کے بارے میں فرماتے ہیں: یعنی اس کی مثل اس سے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قصاص سے درگزر کے بارے میں روایت ہے کہ ”یہ کفارہ بن جاتا ہے“ یا فرمایا کہ ”اس میں رغبت ہے کہ قصاص سے معاف کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16048]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16049
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِصَاصٌ قَطُّ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ:" مَنْ يَشُكُّ فِيهِ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ أَقُولُ عَنْ أَنَسٍ، فَقَالُوا لِي: لَا تَشُكَّ فِيهِ؟ فَقُلْتُ: لَا أَعْلَمُ، وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَقِّيًا كَيِّسًا.
عطاء بن ابی میمونہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پتہ چلا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس میں درگزری کا مشورہ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عفان رحمہ اللہ سے عرض کیا: ”اس میں کس کو شک ہے؟“ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں یہ کہتا تھا کہ «عَنْ أَنَسٍ» ”انس (رضی اللہ عنہ) سے““ تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں شک نہ کر۔“ میں نے کہا: ”میں اسے نہیں جانتا“ اور وہ نہایت ذہین اور فطین آدمی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16049]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16050
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ ⦗٩٧⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُفِعَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ قِصَاصٍ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی کا مشورہ نہ دیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16050]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا قَتَلَ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَتَلْتَهُ؟" فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ" قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ:" كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟" قَالَ: كُنْتُ وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟" قَالَ: مَا لِيَ مَالٌ إِلَّا كِسَائِي، قَالَ:" فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟" قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ وَقَالَ:" دُونَكَ صَاحِبَكَ" فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" فَرَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" وَمَا أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ؟" قَالَ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ كَذَاكَ" قَالَ: فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيِّ.
علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں ان کے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جو دوسرے سے قصاص کا طالب تھا، وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ اس نے کہا: اگر وہ اعتراف نہ کرے تو میں اس پر گواہ قائم کرتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے قتل کیا؟“ تو جواب دیا کہ ہم دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا میں نے اس کے سر پر کلہاڑا مارا اور وہ مر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس دیت دینے کے لیے کچھ ہے؟“ کہا: یہ میری چادر ہے۔ فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ تیری قوم کے لوگ تجھے خرید لیں گے؟“ کہا: میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ حقیر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تسمہ اس شخص کے ہاتھ میں پکڑایا اور فرمایا: ”لے جاؤ اسے اور قصاص لے لو“، اس نے پکڑا اور چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اسے یہ قتل کر دے گا تو یہ بھی اس جیسا ہو گا“۔ تو قوم کا ایک شخص اس سے ملا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پہنچائی۔ وہ شخص پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا تھا اور اب آپ کی یہ بات پتہ چلی ہے، تو فرمایا: ”ہاں، کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرا گناہ اور تیرے بھائی کا گناہ اپنے سر لے لے؟“ کہنے لگا: کیوں نہیں اے اللہ کے نبی! تو فرمایا: ”پھر ایسے ہی ہو گا“، تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16051]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16052
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَزْرَةُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ ابْنُ أَبِي الْحُنَيْنِ: سَعْدَوَيْهِ: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، يَعْنِي فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ" فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ فَأَبَى أَنْ يَعْفُوَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ كَذَا رَوَاهُ هُشَيْمٌ، ⦗٩٨⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَقَالَ فِيهِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ أَشْوَعَ فَقَالَ ابْنُ أَشْوَعَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ فَقَالَ حَبِيبٌ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَمَرَهُ بِالْعَفْوِ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَتَلَ أَخِي فَهُوَ فِي النَّارِ، فَإِنْ قَتَلْتُهُ فَأَنَا مِثْلُهُ؟ قَالَ: قَتَلَ أَخَاكَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَأَمَرْتُكَ فَعَصَيْتَنِي فَأَنْتَ فِي النَّارِ إِنْ عَصَيْتَنِي وَقَدْ قِيلَ: إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْقَاتِلَ قَالَ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، وَذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ: فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَقَتَلْتَهُ وَأَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ فَأَنْتَ مِثْلُهُ وَالَّذِي قَالَهُ حَبِيبٌ أَوِ ابْنُ أَشْوَعَ بَيِّنٌ.
علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تاکہ اس سے قصاص لیا جائے، اس کی گردن میں ایک تسمہ تھا جس سے اسے کھینچا جا رہا تھا۔ جب وہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔“ تو ایک شخص اس آدمی سے ملا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اسماعیل فرماتے ہیں: میں نے یہ بات حبیب بن ابی ثابت کو بتائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ابن اشوع نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ اس نے انکار کر دیا تھا۔
اور ابو عوانہ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن اشوع سے کہا تو ابن اشوع نے فرمایا: میں نے یہ بات حبیب کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کیا ہے کہ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی کو قتل کر دیا، وہ جہنم میں ہے، اگر میں اسے قتل کر دوں تو کیا میں بھی اس جیسا ہوں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے بھائی کو قتل کیا وہ جہنمی ہے اور اگر تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی تو تو بھی جہنم میں جائے گا۔“
اور ایک قول یہ بھی ہے یہ اس وجہ سے فرمایا: کیونکہ قاتل نے یہ کہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: اگر وہ سچا ہے اور تو نے اسے قتل کر دیا اور تو جانتا بھی ہے کہ وہ سچا ہے تو تو بھی اس جیسا ہو جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16052]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16053
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْفَامِيُّ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ قَالَ: إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا، فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ أَخِي فَقَتَلَهُ، قَالَ:" اعْفُ عَنْهُ" فَأَبَى، قَالَ:" فَخُذِ الدِّيَةَ" قَالَ: مَا أُرِيدُ الدِّيَةَ قَالَ: فَأَعَادَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ" فَأَبَى، قَالَ:" خُذِ الدِّيَةَ" فَأَبَى، فَأَعَادَ الْحَدِيثَ قَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" خُذِ الدِّيَةَ" فَأَبَى، فَلَمَّا أَبَى إِلَّا أَنْ يَقْتُلَ قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ"، قَالَ: فَأَصْنَعُ مَاذَا؟ قَالَ:" تَعْفُو عَنْهُ" قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.
علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھیں ان کے والد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص کو لایا گیا، اس کے گلے میں تسمہ باندھا ہوا تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ اور میرا بھائی ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھایا اور میرے بھائی کے سر پر مارا اور اسے قتل کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو۔“ انھوں نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو۔“ کہنے لگا: مجھے دیت بھی نہیں چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی اور دیت کا کہا تو اس نے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تو بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ تو وہ کہنے لگا: پھر میں کیا کروں؟ فرمایا: ”معاف کر دے۔“ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اسے اس کے تسمے سے پکڑ کر واپس لے جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16053]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16054
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ هَارُونَ السِّمَّرِيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عُمَرَ الْعَائِذِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ فَتَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَهُ:" تَعَالَ أَتَعْفُو؟" مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ مِثْلَ قَوْلِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الرَّابِعَةِ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ" قَالَ: فَتَرَكَهُ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، وَقَالَ فِيهِ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عَوْفٍ:" يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ.
علقمہ بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ایک قاتل کو لایا گیا جس سے قصاص طلب کیا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولیوں سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم دیت لینا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے لے جاؤ۔“ جب وہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ بلایا اور پھر معافی اور دیت کا پوچھا تو انہوں نے وہی جواب دیا، تین مرتبہ ایسا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا: ”اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ تیرا گناہ اور تیرے صاحب کا گناہ اپنے سر لے لے گا۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو گھسیٹ رہا تھا۔ اور یحییٰ قطان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اس کا گناہ اور تیرے صاحب کا گناہ اپنے سر لے لے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16054]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16055
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا ابْنُ شُعَيْبٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَقَّ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاسْتَعْدَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَلَّا، إِنَّا سَنُرْضِيكَ قَالَ: وَأَلَحَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَأَكَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى أَبْرَمَهُ، فَقَالَ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ قَالَ: وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَصَّدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً" فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: فَإِنِّي أَدَعُهَا لِلَّهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا جَرَمَ، وَاللهِ لَا تَخِيبُ، وَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ.
ابوسفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے ایک انصاری کے دانت توڑ دیے۔ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ انصاری کہنے لگا: اس نے میرے دانت توڑ دیے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہرگز نہیں۔ آپ کو راضی کریں گے، ہم تو، انصاری نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اصرار کیا اور ان کے پیچھے پڑا رہا یہاں تک کہ انہیں تنگ کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: اپنے آدمی کے ساتھ جو چاہو کرو۔ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس بیٹھے تھے، فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو بھی کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی ہے، وہ اسے صدقہ کرتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے درجات بلند فرماتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔“
وہ انصاری سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، تو وہ انصاری کہنے لگا: میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16055]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں