🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

72. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ .
عورت پر شوہر کے حق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7634
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَنَسٍ: إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا بِنَحْوِ هَذَا فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں ادا کرے اور مخصوص مہینے کے روزے رکھے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، تو اسے یہ کہا: جائے گا تم جنت کے جس بھی دروازے سے چاہو اندر داخل ہو جاؤ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول یہ حدیث گزر چکی ہے: جب عورت پانچ نمازیں ادا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس روایت کی مانند ہے، اور اس سے پہلے والے باب میں گزری ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7634]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند 1661)»

الحكم على الحديث: حسن لغیرہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7635
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِذَا صَامَتِ الْمَرْأَةُ شَهْرَهَا وَصَلَّتْ خَمْسَهَا وَأَطَاعَتْ بَعْلَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَسَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جب عورت مخصوص مہینے کے روزے رکھے اور پانچ نمازیں ادا کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے، تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گی اندر داخل ہو جائے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے سعید بن عفیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7635]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى الأوسط (532) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (183/25) اخرجه احمد فى المسند (341/4)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7636
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ اتَّقَتْ رَبَّهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا فُتِحَ لَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي مِنْ حَيْثُ شِئْتِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَسَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: (آپ نے ارشاد فرمایا ہے:) جو عورت اپنے پروردگار سے ڈرتی ہے، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہے، اور اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس سے کہا: جائے گا: تم جس سے چاہو اندر داخل ہو جاؤ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے سعید بن صفیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7636]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7637
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا:" أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟" قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. قَالَ:" فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ، فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَانْظُرِي كَيْفَ أَنْتِ لَهُ". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حُصَيْنٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
حصین بن محصن بیان کرتے ہیں: ان کی پھوپھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تم شوہر والی ہو اس نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیسا تعلق ہے اس خاتون نے کہا: میں ان کے کسی کام میں کوتاہی نہیں کرتی صرف اس کام کا معاملہ مختلف ہے جس سے میں عاجز آ جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کے بارے میں کیا سمجھتی ہو وہ تمہاری جنت ہے، اور وہ تمہاری جہنم ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم اس کے ساتھ کیسی ہو۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حصین نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7637]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7638
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ، فَإِنِّي امْرَأَةٌ أَيِّمٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُ وَإِلَّا جَلَسْتُ أَيِّمًا؟ قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ إِنْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرٍ أَنْ لَا تَمْنَعَهُ نَفْسَهَا وَمِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَا تَصُومَ تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ فَعَلَتْ جَاعَتْ وَعَطِشَتْ، وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا، وَلَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ حَتَّى تَرْجِعَ". قَالَتْ: لَا جَرَمَ لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمَعْرُوفُ بِحَنَشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا حق کیا ہے، کیونکہ میں ایک بیوہ عورت ہوں اگر میں استطاعت رکھوں گی، تو ٹھیک ہے ورنہ میں ایسے ہی رہوں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی پر شوہر کا یہ حق ہے کہ اگر مرد عورت سے اس کی ذات کی قربت کی خواہش کرے اور عورت اس وقت اونٹ کی پشت پر موجود ہو، تو وہ مرد کو اپنی ذات کے حوالے سے نہ روکے اور شوہر کے بیوی پر حق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عورت اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اگر وہ ایسا کر لیتی ہے، تو وہ صرف بھوکی پیاسی رہے گی اس کا روزہ قبول نہیں ہو گا، اور عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے اگر وہ ایسا کرتی ہے، تو آسمان کے فرشتے اور رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس کے واپس آنے تک اس پر لعنت کرتے رہیں گے اس خاتون نے کہا: پھر تو یہ ضروری ہے کہ میں کبھی شادی نہ کروں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے جو حنش کے نام سے مشہور ہے، اور وہ ضعیف ہے حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7638]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1464) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2455)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7639
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ بِابْنَتِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ ابْنَتِي هَذِهِ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَطِيعِي أَبَاكِ" قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ. قَالَ:" حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ لَوْ كَانَتْ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَحِسَتْهَا أَوِ انْتَثَرَ مَنْخِرَاهُ صَدِيدًا أَوْ دَمًا، ثُمَّ ابْتَلَعَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ" قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تُنْكِحُوهُنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِنَّ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میری اس بیٹی نے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم اپنے باپ کی فرمانبرداری کرو اس عورت نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہیں بتائیں گے کہ شوہر کا بیوی پر حق کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر کا بیوی پر یہ حق حاصل ہے کہ اگر مرد کو پھوڑا نکل آتا ہے، اور وہ عورت اس کو چاٹ لیتی ہے یا مرد کے نتھنوں سے پیپ یا خون نکلتا ہے، اور وہ عورت اسے چوس لیتی ہے، تو وہ پھر بھی اس کے حق کو ادا نہیں کر پائے گی اس عورت نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں تو کبھی شادی نہیں کروں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان عورتوں کی شادی ان کی اجازت کے ساتھ ہی کرو۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف نہار عبدی کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7639]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1465)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7640
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانَةَ. قَالَ:" قُولِي حَاجَتَكِ" قَالَتْ: حَاجَتِي أَنَّ فُلَانًا يَخْطُبُنِي فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ، فَإِنْ كَانَ شَيْئًا أُطِيقُهُ تَزَوَّجْتُهُ، وَإِنْ لَمْ أُطِقْهُ لَا أَتَزَوَّجُ. قَالَ:" إِنَّ مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ سَالَ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَقَيْحًا فَلَحِسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ وَلَوْ كَانَ يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا". قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ مَا بَقِيتُ فِي الدُّنْيَا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں فلانہ بنت فلانہ ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ضرورت بیان کرو اس نے عرض کی: مجھے یہ کام ہے کہ فلاں شخص نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے آپ مجھے بتائیے کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے اگر تو وہ کوئی ایسی چیز ہوئی جس کی میں طاقت رکھتی ہوئی، تو میں اس شخص سے شادی کر لوں گی اور اگر میں اس کی طاقت نہ رکھتی ہوئی، تو پھر میں شادی نہیں کروں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیوی کا شوہر کے بیوی پر حق میں یہ بات شامل ہے کہ اگر اس کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہہ رہے ہوں، اور وہ عورت اس کو چاٹ لے، تو وہ اس کے حق کو ادا نہیں کرے گی اگر کسی انسان کے لئے یہ مناسب ہوتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے جب بھی وہ شخص اس کے ہاں آئے اس خاتون نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، جب تک میں دنیا میں رہی میں شادی نہیں کروں گی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان یمامی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7640]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى السند (1466)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7641
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ:" لَوْ أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْ زَوْجَهَا قَدْ تَقَطَّعَ جُذَامًا يَسِيلُ أَنْفُهُ فَلَحِسَتْهُ بِلِسَانِهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ وَمَا لِامْرَأَةٍ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، وَلَا تُعْطِيَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! شوہر کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر عورت اپنے گھر سے نکلے اور پھر واپس گھر آ جائے، اور پھر اپنے شوہر کو پائے کہ اس کو جذام کا پھوڑا پھوٹ گیا ہے، اور اس کے ناک سے مواد بہہ رہا ہے پھر وہ عورت اپنی زبان کے ذریعے اسے چاٹ لے، تو پھر بھی وہ مرد کے حق کو ادا نہیں کر پائے گی اور کسی بھی عورت کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر سے نکلے یا اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز کسی کو دے البتہ اس کی اجازت کے ساتھ وہ ایسا کر سکتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7641]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8077)»

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7642
وَعَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ الْيَمَنَ فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ فَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهَا وَأَصْغَرُهُمُ الَّذِي قَدِ افْتَتَنَتْ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا مُمْسِكَانِ بِضَبْعَيْهَا فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَلَا تُخْبِرُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَقَالَ لَهَا مُعاذٌ: سَلِينِي عَمَّا شِئْتِ؟ قَالَتْ: حَدِّثْنِي ] مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ: تَتَّقِي اللَّهَ مَا اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِيعُ قَالَتْ: أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثُنِي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ لَهَامُعَاذٌ: أَوَمَا رَضِيتِ أَنْ تَسْمَعِي وَتُطِيعِي وَتَتَّقِي اللَّهَ؟ قَالَتْ: بَلَى، وَلَكِنْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ، فَإِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ: وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ وَخَرَقَ مَنْخِرَيْهِ فَوَجَدْتِ مَنْخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا، ثُمَّ أَلْقَمْتِيهِمَا فَاكِ لِكَيْمَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغْتِ ذَاكَ أَبَدًا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرٍ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَا.
عائذاللہ بن عبداللہ ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن تشریف لائے خولان قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے ان کی ملاقات ہوئی جس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے تھے اس نے ان بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑا تھا ان بچوں میں سے جو سب سے کمسن تھا اس کی بھی داڑھی آ چکی تھی، وہ عورت کھڑی ہوئی اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا وہ اپنے بیٹوں میں دو بیٹوں کے درمیان کھڑی ہوئی تھی اور ان دونوں بیٹوں نے اسے دونوں طرف سے پکڑا ہوا تھا اس عورت نے دریافت کیا: اے صاحب! آپ کو کس نے بھیجا ہے؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے اس خاتون نے دریافت کیا: کیا اللہ کے رسول نے آپ کو بھیجا ہے، اور آپ اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں کیا آپ مجھے یہ نہیں بتائیں گے اے اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے فرد! سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم جو چاہو مجھ سے پوچھ لو اس خاتون نے کہا: آپ مجھے یہ بتائیے کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: جہاں تک عورت سے ہو سکے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہے، اور وہ اطاعت و فرمانبرداری سے کام لے اس خاتون نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر دریافت کرتی ہوں کہ آپ مجھے یہ بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو اس خاتون نے کہا: جی ہاں لیکن آپ مجھے یہ بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے، کیونکہ میں نے ان بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑا ہے جو ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں معاذ کی جان ہے اگر تم اس شخص کے پاس واپس جاؤ اور پھر تم یہ دیکھو کہ جذام نے اس کے گوشت کو چیر دیا ہے، اور اس کے نتھنوں کو چیر دیا ہے، اور تم یہ پاؤ کہ اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہے، اور پھر تم اپنے منہ کے ذریعے اسے چاٹ لو تاکہ اس کے حق تک پہنچ سکو تو پھر بھی تم کبھی بھی اس کے حق تک نہیں پہنچ سکو گی (یعنی اس کے حق کو ادا نہیں کر سکو گی)۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ جو عبدالرحمید بن بہرام کے حوالے سے شہر سے منقول ہے، اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں راویوں کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7642]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (87/20) اخرجه احمد فى المسند (239/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7643
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْمَرْأَةُ لَا تُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ عَلَيْهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ نَفْسَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت اللہ تعالیٰ کے حق کو اس وقت تک ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی یہاں تک کہ اگر وہ شوہر اس سے قربت کا مطالبہ کرے اور وہ عورت پالان کی لکڑی کی پشت پر موجود ہو (ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے: خواہ اس عورت کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی ہو اور اس کو زچگی کی سہولت کے لیے لکڑی کے تختہ پر رکھا گیا ہو) پھر بھی وہ اس (شوہر) کو، اپنی ذات سے نہ روکے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مغیرہ بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7643]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1472) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5084)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں