مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ .
اس چیز کا بیان، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
حدیث نمبر: 15073
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَلْعَبَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ - أَوْ فِي حِجْرِهِ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّهُمَا؟ فَقَالَ:" وَكَيْفَ لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا أَشُمُّهُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَنْبَسَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَنْبَسَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) وہ آپ کے آگے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) آپ کی گود میں کھیل رہے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ان دونوں سے کیوں نہ محبت رکھوں؟ جبکہ یہ دنیا میں میرے پھول ہیں جنہیں میں سونگھتا ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عنبسہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15073]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عنبسہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15073]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2990)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15074
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَانِ عَلَى بَطْنِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّهُمَا؟ فَقَالَ:" وَمَا لِي لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَايَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) وہ آپ کے پیٹ پر کھیل رہے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ان دونوں سے محبت کیوں نہ رکھوں؟ جبکہ یہ دونوں میرے پھول ہیں۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15074]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15074]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2622)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15075
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّهُ، الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ".
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ ذِكْرِ الْحَسَنِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ ذِكْرِ الْحَسَنِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسین مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھے جو اس سے محبت رکھتا، ہو حسن اور حسین، اسباط میں سے ”سبط“ (یعنی زبردست نواسے) ہیں۔“ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذکر کے حوالے سے نقل کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15075]
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذکر کے حوالے سے نقل کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15075]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2586)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15076
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ أَخَذَهُمَا مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا، وَيَضَعُهُمَا عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرُدُّهُمَا؟ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَقَالَ لَهُمَا:" الْحَقَا بِأُمِّكُمَا". قَالَ: فَمَكَثَ ضَوْؤُهَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ: فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ: فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر چڑھ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو آپ نے ان دونوں کو پیچھے سے پکڑا، آپ نے انہیں نرمی سے پکڑا اور انہیں اپنی پشت سے ہٹا دیا، جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے، تو ان دونوں صاحبزادوں نے دوبارہ یہی حرکت کی، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو آپ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا، راوی کہتے ہیں: میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ان دونوں کو واپس چھوڑ آؤں، راوی کہتے ہیں: اسی دوران بجلی چمکی (یا روشنی سی ہوئی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ! راوی کہتے ہیں: تو وہ روشنی اس وقت تک رہی، جب تک وہ دونوں اپنی والدہ کے پاس نہیں پہنچ گئے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ایک تاریک رات میں۔۔۔۔۔۔“۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15076]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ایک تاریک رات میں۔۔۔۔۔۔“۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15076]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2630 و 2629) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (513/2)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15077
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْجُدُ، فَيَجِيءُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ فَيَرْكَبُ ظَهْرَهُ، فَيُطِيلُ السُّجُودَ، فَيُقَالُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَطَلْتَ السُّجُودَ! فَيَقُولُ:" ارْتَحَلَنِيَ ابْنِي ; فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آتے اور آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کو طول دیدیتے تھے۔ عرض کی گئی: اے اللہ کے نبی! آپ نے سجدے کو طول دے دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا، تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اسے جلدی (اتار دوں)۔“
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15077]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15077]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3428)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15078
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ: رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: نِعْمَ الْفَرَسُ تَحْتَكُمَا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَنِعْمَ الْفَارِسَانِ هُمَا".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) انہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر دیکھا، تو میں نے کہا: تمہارے نیچے گھوڑا بہت اچھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں سوار بھی بہت اچھے ہیں۔“
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15078]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15078]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2621)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15079
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعَةٍ، وَعَلَى ظَهْرِهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ يَقُولُ:" نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكُمَا، وَنِعْمَ الْعِدْلَانِ أَنْتُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْرُوحٌ أَبُو شِهَابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْرُوحٌ أَبُو شِهَابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے بل چل رہے تھے، آپ کی پشت پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”تمہارا اونٹ بہت اچھا ہے، اور تم دونوں بہت اچھے سوار ہو۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مسروح ابوشہاب ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15079]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مسروح ابوشہاب ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15079]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2661)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15080
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - أَوْ أَحَدُهُمَا - فَرَكِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ بِيَدِهِ فَأَمْسَكَهُ أَوْ أَمْسَكَهُمَا، قَالَ:" نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک آئے اور آپ کی پشت پر سوار ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سر اٹھایا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح انہیں، یا ان دونوں کو پکڑا اور فرمایا: ”تمہاری سواری بہت اچھی ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15080]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15080]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15081
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: كُنَّا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ قَالَ: وَذَاكَ رَأْدُ النَّهَارِ - يَقُولُ: ارْتِفَاعُ النَّهَارِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا فَاطْلُبُوا ابْنِي". وَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ، وَأَخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَتَى سَفْحَ جَبَلٍ، وَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مُلْتَزِقٌ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، وَإِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَى ذَنَبِهِ، يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَرَرُ النَّارِ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَفَتَ مُخَاطِبًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضَ الْأَحْجَارِ، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَأَفْرَقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ وُجُوهَهُمَا، وَقَالَ:" بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتُمَا، مَا أَكْرَمَكُمَا عَلَى اللَّهِ!". ثُمَّ حَمَلَ أَحَدَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْآخِرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، فَقُلْتُ: طُوبَاكُمَا! نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَنِعْمَ الرَّاكِبَانِ هُمَا، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رُشْدٍ الْهِلَالِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رُشْدٍ الْهِلَالِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے، اسی دوران سیدہ ام ایمن آئیں اور بولیں: یا رسول اللہ! حسن اور حسین گم ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: یہ دن چڑھے کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو اور ہر شخص اپنے سامنے کی سمت میں چل پڑے، راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم والی سمت میں چل پڑا، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ایک پہاڑ کے دامن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو وہاں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ موجود تھے، وہ ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے اور وہاں ایک سانپ اپنی دم پر کھڑا ہوا تھا اور اس کے منہ سے آگ کے شراروں کی طرح کی کوئی چیز نکل رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اس کی طرف گئے اس نے مڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کچھ کہا: اور پھر مڑ گیا، اور اپنی بل میں داخل ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں صاحبزادوں کے پاس آئے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا، آپ نے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنے عزت والے ہو، پھر آپ نے ان میں سے ایک کو دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر بٹھا لیا، تو میں نے کہا: تم دونوں کو مبارک باد ہو! تم دونوں کی سواری کتنی اچھی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں سوار بھی کتنے اچھے ہیں اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن رشد ہلالی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15081]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن رشد ہلالی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15081]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2677)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15082
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِيهَا الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِيهَا الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15082]
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15082]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2601 و 2600 و2511)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف