مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ .
اس چیز کا بیان، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
حدیث نمبر: 15093
وَعَنِ الْبَرَاءِ - يَعْنِي ابْنَ عَازِبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15093]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15093]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15094
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَخَرَتِ الْجَنَّةُ عَلَى النَّارِ ; فَقَالَتْ: أَنَا خَيْرٌ مِنْكِ، فَقَالَتِ النَّارُ: بَلْ أَنَا خَيْرٌ مِنْكِ، فَقَالَتْ لَهَا الْجَنَّةُ اسْتِفْهَامًا: وَمِمَّهْ؟ قَالَتْ: لِأَنَّ فِيَّ الْجَبَابِرَةُ، وَنَمْرُوذُ، وَفِرْعَوْنُ، فَأُسْكِتَتْ. فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهَا: لَا تَخْضَعِينَ، لَأُزَيِّنَنَّ رُكْنَيْكِ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، فَمَاسَتْ كَمَا تَمِيسُ الْعَرُوسُ فِي خِدْرِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہنم کے سامنے جنت نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا: میں تم سے بہتر ہوں، تو جہنم نے کہا: بلکہ میں تم سے بہتر ہوں، جنت نے جہنم سے استفہام کے طور پر دریافت کیا: کس وجہ سے؟ تو جہنم نے جواب دیا: کیونکہ میرے اندر حکمران نمرود فرعون ہیں، تو جنت خاموش ہو گئی، تو اللہ تعالیٰ نے جنت کی طرف یہ وحی کی کہ تم خود کو کمتر محسوس نہ کرو! میں تمہارے دورکنوں کو حسن اور حسین کے ذریعے آراستہ کروں گا، تو وہ یوں جھومی، جس طرح دلہن اپنے خیمے میں جھومتی (خوش ہوتی یا شرم سے دہری ہوتی) ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15094]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15094]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15095
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ شَنْفَا الْعَرْشِ، وَلَيْسَا بِمُعَلَّقَيْنِ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، عرش کا زیور ہیں، لیکن یہ دونوں معلق (یعنی لٹکے ہوئے نہیں) ہیں۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15095]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (339)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15096
وَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا اسْتَقَرَّ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ قَالَتِ الْجَنَّةُ: يَا رَبِّ، وَعَدْتَنِي أَنْ تُزَيِّنَنِي بِرُكْنَيْنِ مِنْ أَرْكَانِكَ، قَالَ: أَلَمْ أُزَيِّنْكِ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ؟".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”جب اہل جنت، جنت میں رہائشی جگہ اختیار کر لیں گے، تو جنت کہے گی: اے میرے پروردگار! تو نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ تو اپنے ارکان کے ذریعے میرے دو رکنوں کو آراستہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں نے تمہیں حسن اور حسین کے ذریعے آراستہ نہیں کیا ہے؟“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15096]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15096]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (339)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15097
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ، أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ حَتَّى رَكِبَا عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا سَلَّمَ وَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَقْبَلَ الْحَسَنُ، فَحَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ جَدًّا وَجِدَّةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ عَمًّا وَعَمَّةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ خَالًا وَخَالَةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ أَبًا وَأُمًّا؟ [ هُمَا ] الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ.
جَدُّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَدَّتُهُمَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَأُمُّهُمَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُوهُمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، وَخَالُهُمَا الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ، وَرُقَيَّةُ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَأُمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَخَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِمَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
جَدُّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَدَّتُهُمَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَأُمُّهُمَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُوهُمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، وَخَالُهُمَا الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ، وَرُقَيَّةُ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَأُمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَخَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِمَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی جب آپ چوتھی رکعت میں تھے، تو حسن اور حسین آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو آپ نے ان دونوں کو اپنے سامنے کھڑا کیا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں اٹھایا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں کندھے پر بیٹھ گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں کندھے پر بیٹھ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! کیا میں تمہیں لوگوں میں نانا اور نانی کے حوالے سے سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ کیا میں تمہیں سب سے بہتر کے بارے میں نہ بتاؤں جو چچا اور پھوپھی کے حوالے سے سب سے بہتر ہے، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں ماموں اور خالہ کے حوالے سے سب سے بہتر ہے، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں ماں اور باپ کے حوالے سے سب سے بہتر ہے، وہ دو افراد حسن اور حسین ہیں، ان دونوں کے نانا اللہ کے رسول ہیں، ان دونوں کی نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں، ان دونوں کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہ ہے، ان دونوں کا باپ علی بن ابوطالب ہے، ان دونوں کا چچا جعفر بن ابوطالب ہے، ان دونوں کی پھوپھی اُم ہانی بنت ابوطالب ہے، ان دونوں کے ماموں قاسم ہیں جو اللہ کے رسول کے صاحبزادے ہیں، اور ان کی دونوں کی خالائیں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں، جو اللہ کے رسول کی صاحبزادیاں ہیں، ان دونوں کے نانا جنت میں ہوں گے، ان دونوں کا باپ جنت میں ہو گا۔ ان دونوں کی ماں جنت میں ہو گی، ان دونوں کے چچا جنت میں ہوں گے، ان دونوں کی پھوپھی جنت میں ہو گی، ان دونوں کی خالائیں جنت میں ہوں گی، یہ دونوں جنت میں ہوں گے، اور جو شخص ان سے محبت رکھے گا، وہ بھی جنت میں ہو گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی أحمد بن محمد بن عمر بن یونس یمامی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15097]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی أحمد بن محمد بن عمر بن یونس یمامی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15097]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2682)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15098
وَعَنْ فَاطِمَةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَكْوَاهُ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَانِ ابْنَاكَ ; فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا. فَقَالَ:" أَمَّا حَسَنٌ فَلَهُ هَيْبَتِي وَسُؤْدُدِي، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَلَهُ جَرَاءَتِي وُجُودِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کی بات ہے، جس میں آپ کا وصال ہو گیا تھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں، آپ انہیں وراثت میں کوئی چیز دیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک حسن کا تعلق ہے، تو اسے میری ہیبت اور میری سرداری ملے گی، اور جہاں تک حسین کا تعلق ہے، تو اسے میری جرأت اور میری سخاوت ملے گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15098]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15098]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (423/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15099
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَتْ: هَذَانِ ابْنَاكَ ; فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا. فَقَالَ لَهَا:" أَمَّا حَسَنٌ فَلَهُ ثَبَاتِي وَسُؤْدُدِي، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَإِنَّ لَهُ حَزَامَتَيْ وُجُودِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، یہ اس بیماری کی بات ہے، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یہ دونوں آپ کے دو بیٹے ہیں، آپ انہیں وراثت میں کوئی چیز دے دیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جہاں تک حسن کا تعلق ہے، تو اسے میری ثابت قدمی اور میری سرداری ملے گی اور جہاں تک حسین کا تعلق ہے، تو اسے میری مضبوطی اور میری سخاوت ملے گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15099]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15099]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15100
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ يَقُولُ: عَلَيَّ رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، يَقُولُ:" عَلَيْكَ بِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ مجھ پر اولاد اسماعیل کے حوالے سے نذر لازم ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تم حسن اور حسین کے پاس جاؤ“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15100]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15100]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15101
عَنْ أَبِي شَدَّادٍ قَالَ: كُنْتُ أُلَاعِبُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ بِالْمَدَاحِي، فَإِذَا مَادَحَّانِي رَكِبَانِي، وَإِذَا مَا دَحْتُهُمَا قَالَا: تَرْكَبُ بَضْعَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟!.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَبُو شَدَّادٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَفِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَبُو شَدَّادٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَفِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
ابوشداد بیان کرتے ہیں: میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مداحی کھیلتا تھا، جب وہ دونوں صاحبان مجھ سے جیت جاتے تھے تو وہ دونوں مجھ پر سوار ہو جاتے تھے اور جب میں ان دونوں سے جیت جاتا تھا تو وہ دونوں کہتے تھے: تم اللہ کے رسول کے ٹکڑے پر سوار ہو جاؤ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ابوشداد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں، دو میں سے ایک سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15101]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ابوشداد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں، دو میں سے ایک سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15101]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2595)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف