مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ .
اس چیز کا بیان، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
حدیث نمبر: 15083
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -:" وَاللَّهِ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَدَ الْأَنْبِيَاءِ غَيْرِي، وَإِنَّ ابْنَيْكِ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِلَّا ابْنَيِ الْخَالَةِ: يَحْيَى، وَعِيسَى".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہر نبی نے انبیاء کو جنم دیا ہے، صرف میرا معاملہ مختلف ہے، اور تمہارے دونوں بیٹے اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، البتہ دو خالہ زاد بھائیوں سیدنا یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15083]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15083]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2603)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15084
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَبُو سُمَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَبُو سُمَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”حسن اور حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حزام ابوسمیر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15084]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حزام ابوسمیر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15084]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2598)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15085
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَكُنْ زَارَنِي، فَاسْتَأْذَنَ اللَّهَ فِي زِيَارَتِي، فَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَرْوَانُ الذُّهْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَرْوَانُ الذُّهْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آسمان میں سے ایک فرشتہ مجھ سے کبھی ملنے کے لئے نہیں آیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مجھے ملنے کے لئے آئے (جب وہ میرے پاس آیا) تو اس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان ذہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15085]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان ذہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15085]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2604)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15086
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ شَخْصًا، فَقَالَ لِي:" يَا حُذَيْفَةُ هَلْ رَأَيْتَ؟". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَهْبِطْ مُنْذُ بُعِثْتُ، أَتَانِي اللَّيْلَةَ يُبَشِّرُنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو عُمَرَ الْأَشْجَعِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ - أَوْ أَبُو عَمْرَةَ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو عُمَرَ الْأَشْجَعِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ - أَوْ أَبُو عَمْرَةَ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ٹھہر گیا۔ میں نے آپ کے پاس کسی شخص کو دیکھا، آپ نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تم نے اسے دیکھا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فرشتہ ہے جب سے مجھے معبوث کیا گیا ہے یہ کبھی زمین پر نازل نہیں ہوا یہ گزشتہ رات میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو اشجعی یا شاید ابوعمرہ ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15086]
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو اشجعی یا شاید ابوعمرہ ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15086]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2609)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15087
وَعَنْ حَذِيقَةَ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْنَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّرُورَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْنَا فِي وَجْهِكَ تَبَاشِيرَ السُّرُورِ، فَقَالَ:" كَيْفَ لَا أُسَرُّ وَقَدْ أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا أَفْضَلُ مِنْهُمَا؟!".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْهَاشِمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا. وَفِي عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ خِلَافٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْهَاشِمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا. وَفِي عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ خِلَافٌ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ایک دن خوشی کے آثار دیکھے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں خوش نہ ہوؤں، جبکہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر ابواسود ہاشمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور عاصم بن بہدلہ نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15087]
یہ روایت منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ایک دن خوشی کے آثار دیکھے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں خوش نہ ہوؤں، جبکہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر ابواسود ہاشمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور عاصم بن بہدلہ نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15087]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2608)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15088
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ بہتر ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15088]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15088]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2617)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15089
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبَانٍ وَمَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ وَقَدْ وُثِّقَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبَانٍ وَمَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ وَقَدْ وُثِّقَا.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان اور ایک مالک بن حسن ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15089]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان اور ایک مالک بن حسن ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15089]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (292/29)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15090
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15090]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15090]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2616)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15091
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زِيَادٌ الْجَصَّاصُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: رُبَّمَا يَهِمُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زِيَادٌ الْجَصَّاصُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: رُبَّمَا يَهِمُ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد جصاص ہے اور وہ متروک ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں۔ یہ بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15091]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد جصاص ہے اور وہ متروک ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں۔ یہ بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15091]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2618)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15092
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15092]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15092]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (368)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف