🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

99. بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ .
اس چیز کا بیان، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15063
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُحِبُّهُمَا؟ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي".
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ کے ایک کندھے پر ایک تھے اور دوسرے آپ کے دوسرے کندھے پر تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کا بوسہ لیتے تھے اور کبھی ان کا بوسہ لیتے تھے، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے، ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ان دونوں سے محبت کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان دونوں سے محبت رکھے گا، وہ مجھ سے محبت رکھے گا، اور جو ان دونوں سے بغض رکھے گا، وہ مجھ سے بغض رکھے گا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15063]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2627) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (440/2)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15064
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے انہیں بتایا: ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لگایا اور پھر یہ فرمایا: اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15064]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (369/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15065
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَرَادُوا أَنْ يَمْنَعُوهُمَا أَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ دَعُوهُمَا، فَإِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَقَالَ:" مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: فَإِذَا قَضَى الصَّلَاةَ ضَمَّهُمَا إِلَيْهِ. وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے، آپ سجدے میں جاتے تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر سوار ہو گئے۔ لوگوں نے ان دونوں کو روکنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ انہیں رہنے دو، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے انہیں گود میں بٹھایا اور فرمایا: جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے ان دونوں سے محبت رکھنی چاہیے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز مکمل کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15065]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2624) اخرجه ابو يعلى فى المسند (5017)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15066
وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا: اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ! اور جو شخص ان دونوں سے محبت رکھے گا، وہ مجھ سے بھی محبت رکھے گا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15066]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2623)»

الحكم على الحديث: إسنادہ جید۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15067
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ:" إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا - أَوْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا -".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يَهِمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا: میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ! راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں: یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15067]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2625)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15068
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا: اے اللہ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15068]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2626)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15069
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ:" مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُمَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ خِلَافٌ.
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے ان دونوں سے محبت رکھنی چاہیے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اور ان رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15069]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2628)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15070
وَعَنْهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ، فَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" ارْقَ بِأَبِيكَ عَيْنَ بَقَّةٍ". وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ فَرَقَى عَلَى عَاتِقِهِ، ثُمَّ خَرَجَ الْآخَرُ مِنْ بُقْعَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" ارْقَ بِأَبِيكَ أَنْتَ عَيْنُ الْبَقَّةِ". وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ، فَاسْتَوَى عَلَى عَاتِقِهِ الْآخَرِ. وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَقْفِيَتِهِمَا، حَتَّى وَضَعَ أَفْوَاهَهُمَا عَلَى فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا".
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس ٹھہرے، آپ نے سلام کیا، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نکل کر آپ کے پاس آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے (نانا) ابوپر چڑھ جاؤ، اے چھوٹی آنکھوں والے! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں اپنی گردن پر بٹھا لیا پھر دوسرے صاحبزادے دوسرے گوشے سے نکل کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے ابوپر چڑھ جاؤ اے چھوٹی آنکھوں والے! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں گردن کے دوسرے حصے پر بٹھا لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن پکڑ کر ان کا منہ اپنے منہ پر رکھا اور پھر یہ فرمایا: اے اللہ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ اور اس شخص سے بھی محبت رکھنا جو ان دونوں سے محبت رکھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15070]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2652)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15071
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا: أَنَّ مَرْوَانَ أَتَاهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا وَجَدْتُ عَلَيْكَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ اصْطَحَبْنَا إِلَّا فِي حُبِّكَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، قَالَ: فَتَحَفَّزَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، وَهَمَا مَعَ أُمِّهِمَا، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَتَاهُمَا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَا شَأْنُ ابْنَيَّ؟". فَقَالَتْ: الْعَطَشُ، قَالَ: فَأَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَنَّةٍ يَبْتَغِي فِيهَا مَاءً، وَكَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أَغْدَارًا، وَالنَّاسُ يُرِيدُونَ الْمَاءَ، فَنَادَى:" هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَهُ مَاءٌ؟". فَلَمْ يُبْقِ أَحَدٌ إِلَّا أَخْلَفَ بِيَدِهِ إِلَى كَلَامِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّةٍ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" نَاوِلِينِي أَحَدَهُمَا". فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ ذِرَاعَيْهَا حِينَ نَاوَلَتْهُ، فَأَخَذَهُ، فَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَضْغُو مَا يَسْكُتُ، فَأَدْلَعَ لِسَانَهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّى هَدَأَ أَوْ سَكَنَ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ بُكَاءً، وَالْآخَرُ يَبْكِي كَمَا هُوَ مَا يَسْكُتُ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلِينِي الْآخَرَ". فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ، فَفَعَلَ بِهِ كَذَلِكَ، فَسَكَتَا فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُمَا صَوْتًا، ثُمَّ قَالَ:" سِيرُوا". فَصَدَعْنَا يَمِينًا وَشِمَالًا عَنِ الظَّعَائِنِ، حَتَّى لَقِينَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَأَنَا لَا أُحِبُّ هَذَيْنِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی اس بیماری کے دوران، جس میں ان کا انتقال ہوا، مروان ان کے پاس آیا، مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے آپ پر کسی چیز کے حوالے سے بھی غصہ نہیں ہے، جب سے ہم ساتھ رہے ہیں، صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم راستے میں کسی جگہ تھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، وہ دونوں رو رہے تھے وہ دونوں اپنی والدہ کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلتے ہوئے ان دونوں کے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے بچوں کا کیا معاملہ ہے؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: پیاس لگی ہوئی ہے، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کی طرف بڑھے تاکہ اس میں سے پانی حاصل کریں، پانی اس وقت موجود نہیں تھا، لوگ پانی کی تلاش میں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں پکار کر کہا: کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے، تو ہر شخص نے اپنا ہاتھ اپنے مشکیزے کی طرف بڑھایا تاکہ اس میں پانی تلاش کرے، لیکن کسی شخص کو ایک قطرہ نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ان دونوں میں سے ایک کو مجھے پکڑا دو، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ایک صاحبزادے کو پکڑایا، میں نے ان کی کلائی کی سفیدی دیکھی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحبزادے کو پکڑا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحبزادے کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ لگایا، وہ صاحبزادے رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان باہر نکالی اور ان صاحبزادے نے اسے چوسنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گئے، پھر میں نے ان کے رونے کی آواز نہیں سنی، دوسرے صاحبزادے پہلے کی طرح ہی رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسرے کو مجھے پکڑاؤ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے صاحبزادے آپ کو پکڑائے تو آپ نے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ وہ دونوں خاموش ہو گئے اور مجھے ان دونوں کی آواز سنائی نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ روانہ ہو جاؤ! تو ہم خواتین سے دائیں بائیں پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ بعد میں راستے میں ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، تو جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو کیا میں ان دونوں سے محبت نہ رکھوں؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15071]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (2656)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15072
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحْبَبْتُهُ، وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اللَّهُ أَدْخَلَهُ جَنَّاتِ نَعِيمٍ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا أَوْ بَغَى عَلَيْهِمَا أَبْغَضْتُهُ، وَمَنْ أَبْغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ أَدْخَلَهُ جَهَنَّمَ، وَلَهُ عَذَابٌ مُقِيمٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اور حسین سے جو محبت رکھے گا میں اس سے محبت رکھوں گا، اور جس سے میں محبت رکھوں گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھے گا، اور جس سے اللہ تعالیٰ محبت رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرے گا، اور جو شخص ان دونوں سے بغض رکھے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ان کے خلاف سرکشی کرے گا، میں اس سے بغض رکھوں گا، جس سے میں بغض رکھوں گا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھے گا، اور جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کر دے گا، اس شخص کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15072]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2655)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں