السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2842. -- باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار
-- باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13667
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ الرَّفَّاءُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَمَّنْ أُدْرِكَ مِنْ فُقَهَائِهِمُ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ، مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ قَالَ: وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْتُ بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِإِنْكَاحِ ابْنَتِهِ الْبِكْرِ بِغَيْرِ أَمْرِهَا، وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا، فَلَا جَوَازَ لِأَبِيهَا فِي نِكَاحِهَا، إِلَّا بِإِذْنِهَا".
ابوالزناد رحمہ اللہ ان فقہا سے روایت کرتے ہیں جنہیں انہوں نے پایا اور جن کے قول پر بات ختم ہوتی تھی، ان میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ، خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ ہیں اور ان کے علاوہ ان جیسے دیگر بڑے مشائخ بھی۔ وہ کہتے ہیں: بعض اوقات ان میں اختلاف ہو جاتا تو میں ان میں سے اکثر کا قول لے لیتا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ آدمی اپنی کنواری بیٹی کی شادی بغیر اجازت کے خود کر لے گا اور اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کے باپ کے لیے اس کی اجازت کے بغیر (نکاح کرنا) جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13667]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" أَيَجُوزُ إِنْكَاحُ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ بِكْرًا وَهِيَ كَارِهَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فَثَيِّبٌ كَارِهَةٌ؟ قَالَ:" قَدْ مَلَكَتِ الثَّيِّبُ أَمْرَهَا"، ⦗١٨٩⦘ وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: الْبِكْرُ يُجْبِرُهَا أَبُوهَا، وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَا يُجْبِرُ إِلَّا الْوَالِدُ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: کیا جائز ہے کہ آدمی اپنی کنواری بیٹی کی شادی کرتا ہے حالانکہ وہ ناپسند کرتی ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر میں نے پوچھا: کیا شادی شدہ کے لیے بھی جائز ہے جس کو وہ ناپسند کرتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیونکہ شادی شدہ اپنے معاملے کی خود مالک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13668]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13669
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ قَالَا: ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ" جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ قَالَ: فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَهَذَا حَدِيثٌ أَخْطَأَ فِيهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَلَى أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا..
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: ”میرے باپ نے میری شادی ایسی جگہ کی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار دے دیا۔
اس حدیث میں جریر بن حازم نے ایوب سختیانی سے روایت کرنے میں غلطی کی ہے، محفوظ یہ ہے کہ یہ ایوب عن عکرمہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13669]
اس حدیث میں جریر بن حازم نے ایوب سختیانی سے روایت کرنے میں غلطی کی ہے، محفوظ یہ ہے کہ یہ ایوب عن عکرمہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13669]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13670
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ يُرْوَى مُرْسَلًا مَعْرُوفًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْصُولًا وَهُوَ أَيْضًا خَطَأٌ.
ایضاً، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے۔
امام ابوداود رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسی طرح یہ مرسل روایت کی جاتی ہے اور یہی معروف ہے۔ یہ عکرمہ سے ایک اور طریق سے موصول بھی روایت کی گئی ہے اور وہ بھی غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13670]
امام ابوداود رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسی طرح یہ مرسل روایت کی جاتی ہے اور یہی معروف ہے۔ یہ عکرمہ سے ایک اور طریق سے موصول بھی روایت کی گئی ہے اور وہ بھی غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13670]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13671
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْقَاضِي بِعَسْقَلَانَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْمُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَدَّ نِكَاحَ بِكْرٍ وَثَيِّبٍ أَنْكَحَهُمَا أَبُوهُمَا، وَهُمَا كَارِهَتَانِ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُمَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ اور کنواری دونوں کا نکاح رد کر دیا جن کا نکاح ان کے باپ نے کیا تھا اور وہ دونوں ناپسند کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح رد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13671]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13672
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: هَذَا وَهْمٌ وَالصَّوَابُ عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ، وَهِمَ فِيهِ الذِّمَارِيُّ عَلَى الثَّوْرِيِّ وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ ⦗١٩٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ فِي جَامِعِ الثَّوْرِيِّ عَنِ الثَّوْرِيِّ، كَمَا ذَكَرَهُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مُرْسَلًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَامَّةُ أَصْحَابِهِ عَنْهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ الثَّوْرِيِّ عَنْ هِشَامٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَخْطَأَ فِِيهِ الرَّاوِي.
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ وہم ہے، درست یہ ہے کہ یہ یحییٰ عن مہاجر بن عکرمہ مرسل ہے۔ ذماری کو اس میں ثوری سے روایت کرنے میں وہم ہوا ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
یہ ثوری کی جامع میں ثوری سے مرسل ہی ہے، جیسا کہ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، اور ان کے اکثر شاگردوں نے بھی ان سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری کے علاوہ دوسروں نے بھی ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ایک اور طریق سے بھی روایت کی گئی ہے جس میں راوی نے غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13672]
یہ ثوری کی جامع میں ثوری سے مرسل ہی ہے، جیسا کہ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، اور ان کے اکثر شاگردوں نے بھی ان سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری کے علاوہ دوسروں نے بھی ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ایک اور طریق سے بھی روایت کی گئی ہے جس میں راوی نے غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13672]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13673
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ" رَجُلًا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ بِكْرٌ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا" هَذَا وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ: عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَغَيْرُهُمَا عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی کنواری بیٹی کی شادی اس کی رضامندی کے خلاف کر دی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق ڈال دی۔
یہ وہم ہے، درست یہ ہے کہ یہ اوزاعی عن ابراہیم بن مرہ عن عطاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرسل ہے، اسی طرح ابن مبارک، عیسیٰ بن یونس اور دیگر نے اوزاعی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13673]
یہ وہم ہے، درست یہ ہے کہ یہ اوزاعی عن ابراہیم بن مرہ عن عطاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرسل ہے، اسی طرح ابن مبارک، عیسیٰ بن یونس اور دیگر نے اوزاعی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13673]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13674
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ النَّيْسَابُورِيَّ، وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ هَذَا، فَقَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: لَمْ يَسْمَعْهُ الْأَوْزَاعِيُّ مِنْ عَطَاءٍ وَالْحَدِيثُ فِي الْأَصْلِ مُرْسَلٌ لِعَطَاءٍ، إِنَّمَا رَوَاهُ الثِّقَاتُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا..
ایضاً۔
ابوعلی حافظ نیشاپوری رحمہ اللہ سے شعیب بن اسحاق کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اوزاعی نے اسے عطاء سے نہیں سنا اور یہ حدیث اصل میں عطاء کی مرسل ہے، ثقہ راویوں نے اسے اوزاعی عن ابراہیم بن مرہ عن عطاء عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرسل ہی روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13674]
ابوعلی حافظ نیشاپوری رحمہ اللہ سے شعیب بن اسحاق کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اوزاعی نے اسے عطاء سے نہیں سنا اور یہ حدیث اصل میں عطاء کی مرسل ہے، ثقہ راویوں نے اسے اوزاعی عن ابراہیم بن مرہ عن عطاء عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرسل ہی روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13674]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13675
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ قَالَ: الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ، وَقَوْلُ شُعَيْبٍ وَهْمٌ، وَذَكَرَهُ الْأَثْرَمُ، لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَأَنْكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَلَيْسَ بِمَشْهُورٍ، وَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ، فَكَأَنَّهُ كَانَ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ كُفْوٍ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ.
ایضاً
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اور شعیب کی روایت وہم ہے۔ اثرم نے اسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا۔ یہ ایک اور ضعیف طریق سے ابوالزبیر عن جابر بھی روایت کی گئی ہے اور وہ مشہور نہیں ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا اس نے اس کا نکاح غیر کفو میں کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسی صورت میں اختیار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13675]
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اور شعیب کی روایت وہم ہے۔ اثرم نے اسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا۔ یہ ایک اور ضعیف طریق سے ابوالزبیر عن جابر بھی روایت کی گئی ہے اور وہ مشہور نہیں ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا اس نے اس کا نکاح غیر کفو میں کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسی صورت میں اختیار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13675]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَعُبَيْدُ بْنُ ⦗١٩١⦘ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ كَهْمَسُ الْقَيْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِهَا خَسِيسَتَهُ، وَإِنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اقْعُدِي حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ، فَجَاءَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِيهَا، فَلَمَّا جَاءَ أَبُوهَا جَعَلَ أَمْرَهَا إِلَيْهَا، فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ جُعِلَ إِلَيْهَا قَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ وَالِدِي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ هَلْ لِلنِّسَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لَا" وَهَذَا مُرْسَلٌ، ابْنُ بُرَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور کہا: ”میرے باپ نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کیا ہے تاکہ اس کی وجہ سے وہ سر بلندی حاصل کرے اور میں اس کو ناپسند کرتی ہوں“، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تو بیٹھ جا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آجائیں تو ان کو بتانا۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کی طرف پیغام بھیجا، جب اس کا باپ آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مرضی کے مطابق حکم دے دیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ اس کی مرضی کے مطابق بھی حکم ہو سکتا ہے تو اس نے کہا: ”جو میرے باپ نے نکاح کر دیا ہے وہ ٹھیک ہے، میں تو صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا عورت کا بھی کوئی حق ہے یا نہیں ہے؟“
یہ روایت مرسل ہے، ابن بریدہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13676]
یہ روایت مرسل ہے، ابن بریدہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13676]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف