السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. -- باب: ما ورد في الاستنجاء بالتراب
-- باب: مٹی سے استنجاء کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 539
وَقَدْ رَوَى مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" قَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ التَّغَوُّطِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَسْتَعْلِيَ الرِّيحَ وَأَنْ يَتَنَكَّبَ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَقْبِلَهَا وَلَا يَسْتَدْبِرَهَا، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَلَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، أَوْ ثَلَاثَةِ أَعْوَادٍ، أَوْ ثَلَاثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، فَذَكَرَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَى قُتَيْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوعًا، وَذَلِكَ يَرِدُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پاخانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس کو حکم دیا کہ ”ہوا کے رخ سے اوپر رہے اور قبلہ کی جانب نہ منہ کرے اور نہ پیٹھ اور تین پتھروں سے استنجا کرے، لیکن اس میں گوبر نہ ہو یا تین لکڑیوں سے یا مٹی کے تین چلو سے استنجا کرے۔“
(ب) امام ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبشر بن عبید کے علاوہ اس روایت کو کوئی بیان نہیں کرتا اور وہ متروک الحدیث ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مرفوعاً منقول ہے، اور وہ مردود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 539]
(ب) امام ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبشر بن عبید کے علاوہ اس روایت کو کوئی بیان نہیں کرتا اور وہ متروک الحدیث ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مرفوعاً منقول ہے، اور وہ مردود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الدار قطني 1/56»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 540
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، نا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَوْلَى عُمَرَ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا بَالَ قَالَ:" نَاوِلْنِي شَيْئًا أَسْتَنْجِي بِهِ" قَالَ: فَأُنَاوِلُهُ الْعُودَ وَالْحَجَرَ، أَوْ يَأْتِي حَائِطًا يَمْسَحُ بِهِ أَوْ يَمَسَّ الْأَرْضَ، وَلَمْ يَكُنْ يَغْسِلُهُ" وَهَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَعْلَاهُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یسار بن نمیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب پیشاب کرتے تو کہتے: مجھے کوئی چیز دو جس سے میں استنجا کروں، راوی کہتا ہے: میں ان کو لکڑی اور پتھر دیتا یا آپ دیوار کے پاس آتے اور اس سے مسح کرتے یا زمین کو چھوتے اور اس کو دھوتے نہیں تھے۔
یہ اس باب میں مروی روایات میں سب سے زیادہ صحیح اور سب سے عالی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
یہ اس باب میں مروی روایات میں سب سے زیادہ صحیح اور سب سے عالی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
130. -- باب: ما ورد في النهي عن الاستنجاء بشيء قد استنجي به مرة
-- باب: اس چیز سے استنجاء کرنے کی ممانعت میں وارد احادیث کا بیان جس سے ایک بار استنجاء کیا جا چکا ہو
حدیث نمبر: 541
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا الْخَضِرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُمَيَّةَ، نا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يعْنِي الطَّرَائِفِيَّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِاسْتِنْجَاءُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَبِالتُّرَابِ إِذَا لَمْ يَجِدْ حَجَرًا، وَلَا يُسْتَنْجَى بِشَيْءٍ قَدِ اسْتُنْجِيَ بِهِ مَرَّةً". عُثْمَانُ الطَّرَائِفِيُّ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَيَرْوِي عَنْ قَوْمٍ مَجْهُولِينَ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَنَسٍ وَلَا يَصِحُّ.
عبد الرحمن بن عبد الواحد فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین پتھروں سے استنجا کرو اور مٹی سے استنجا اس وقت کرنا جب پتھر نہ پائے اور جس چیز سے ایک مرتبہ استنجا کیا گیا ہے اس سے دوبارہ استنجا نہ کیا جائے۔“
عثمان طرائفی پر محدثین نے کلام کیا ہے اور وہ مجہول لوگوں سے روایت کرتا ہے، واللہ اعلم۔ یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے مگر وہ صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
عثمان طرائفی پر محدثین نے کلام کیا ہے اور وہ مجہول لوگوں سے روایت کرتا ہے، واللہ اعلم۔ یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے مگر وہ صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن عدي 1/202، 271»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 542
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الْبَلَدِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاودَ، نا مَعْنُ بْنُ رِفَاعَةَ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِاسْتِنْجَاءُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَبِالتُّرَابِ إِذَا لَمْ يَكُنْ يَجِدْ حِجَارَةً، وَلَا يَسْتَنْجِي بِشَيْءٍ قَدِ اسْتُنْجِيَ بِهِ مَرَّةً". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، عَامَّةُ مَا رَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ هَذَا لَا يُتَابِعُهُ عَلَيْهِ أَحَدٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین پتھروں اور مٹی سے اس وقت استنجا کرنا جب وہ پتھر نہ پائے اور جس چیز سے ایک مرتبہ استنجا کیا جائے اس سے دو بار استنجا نہ کیا جائے۔“
ابو احمد بن عدی فرماتے ہیں: ابراہیم بن ابی حمید کی اکثر روایات پر کوئی اس کی متابعت نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 542]
ابو احمد بن عدی فرماتے ہیں: ابراہیم بن ابی حمید کی اکثر روایات پر کوئی اس کی متابعت نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 542]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه ابن عدي 1/202»
الحكم على الحديث: ضعيف
131. -- باب: النهي عن مس الذكر عند البول باليمين
-- باب: پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 543
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، وَأَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَالْحَدِيثُ لِلْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ ⦗١٨١⦘ أَوْجُهٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ: لَا يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ.
(الف) سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے اور نہ برتن میں سانس لے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ ”تم میں سے کوئی ہرگز اپنی شرمگاہ کو پیشاب کرتے ہوئے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 543]
(ب) ایک روایت میں ہے کہ ”تم میں سے کوئی ہرگز اپنی شرمگاہ کو پیشاب کرتے ہوئے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 153»
الحكم على الحديث: صحيح
132. -- باب: النهي عن الاستنجاء باليمين
-- باب: دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 544
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاودَ، نا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَنْجِيَنَّ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ"". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ. وَرُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ سَلْمَانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء آئے تو وہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے اور نہ ہی دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 152»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ؟ قَالَ: أَجَلْ، إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، وَأَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَنَهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ:" لَا يَسْتَنْجِ أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو مشرکوں نے کہا: ”بلاشبہ ہم تمہارے ساتھی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں قضائے حاجت کے لیے بیٹھنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے!!“ انھوں نے کہا: جی ہاں، یقیناً آپ نے ہم کو منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہم کو گوبر اور ہڈیوں سے منع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے کوئی تین پتھروں سے کم میں بھی استنجا نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 262»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 546
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا، وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ"." وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے باپ کی مثل ہوں، میں تم کو سکھلاتا ہوں، جب کوئی بیت الخلا جائے، وہ قبلے کی طرف نہ منہ کرے اور نہ ہی پیٹھ اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین پتھروں کا حکم دیا کرتے تھے اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 546]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 1»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 547
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلَانِ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، نا أَبُو أَيُّوبَ يَعْنِي ⦗١٨٢⦘ الْأَفْرِيقِيَّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، وَمَعْبَدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ، وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ، وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ".
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ کھانے اور پینے اور کپڑوں کے لیے رکھا کرتے تھے اور اپنے بائیں ہاتھ کو اس کے علاوہ کاموں کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 547]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابوداؤد32»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 548
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَزِيعٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ، وَكَانَتِ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ، وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاودَ فِي السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں ہاتھ طہارت، کھانے اور پینے کے لیے اور بایاں ہاتھ بیت الخلاء اور دوسری گندگیوں کے لیے ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 548]