🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3195. -- باب: وجوب النفقة للزوجة
-- باب: بیوی کا نفقہ واجب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عُمَرَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ غُلَامَ ثَعْلَبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ثَعْلَبًا، يَقُولُ فِي قَوْلِ الشَّافِعِيِّ: {ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا} [النساء: ٣] " أَيْ لَا يَكْثُرُ عِيَالُكُمْ" قَالَ:" أَحْسَنُ هُوَ لُغَةً".
(١٥٦٨٨) ثعلب امام شافعی (رح) کے قول جو { ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ لاَ تَعُولُوا } [النساء ٣] کے بارے میں ہے کہ تمہاری اولاد یا عیال زیادہ نہ ہو کے متعلق فرماتے ہیں: یہ لغت کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15688]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15689
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، نا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الصَّدَفِيُّ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي ⦗٧٦٧⦘ هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا} [النساء: ٣] قَالَ:"" ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لَا يَكْثُرَ مَنْ تَعُولُونَهُ"" وَالْحَدِيثُ فِي سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ النِّكَاحِ.
(١٥٦٨٩) زید بن اسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد { ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ لاَ تَعُولُوا } [النساء ٣] کے بارے میں فرمایا: یہ زیادہ بہتر ہے وہ زیادہ نہ ہوں جن کی تمہارے ذمہ دیکھ بھال ہے اور اس آیت کے سبب نزول کی حدیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15689]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15690
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ قَالَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
(١٥٦٩٠) عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہندہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ابو سفیان کنجوس آدمی ہے، کیا میرے اوپر اس کے مال سے کچھ لینے میں کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تولے لے جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہوجائے۔
اس کو امام بخاری نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15690]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15691
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدِ بْنِ أَحْمَدَ السُّلَمِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ" وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ عَلَى زَوْجَتِكَ قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ أَنْتَ أَبْصَرُ، زَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثَ" يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي، تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي".
(١٥٦٩١) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ ایک شخص آیا اور عرض کیا: میرے پاس دینار ہے۔ تحویل سند، ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے۔ ہمیں حدیث بیان کی ابو عباس اصم نے ان کو خبر دی ربیع بن سلیمان نے ان کو خبر دی شافعی نے ان کو خبر دی سفیان نے محمد بن عجلان سے وہ سعید بن ابی سعید سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے پاس دینار ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنے اوپر خرچ کر۔ کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ فرمایا اپنے بچے پر خرچ کر۔ کہا: میرے پاس اور ہے: فرمایا اپنے اہل پر خرچ کر۔ ابو عاصم کی حدیث میں ہے کہ اپنی بیوی پر خرچ کر۔ کہا: میرے پاس اور ہے۔ فرمایا: اپنے خادم پر خرچ۔ کر کہا: میرے پاس اور ہے۔ فرمایا: تو زیادہ جانتا ہے کہ (کہاں خرچ کرے) اور ابو عاصم کی حدیث میں ہے تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔ سفیان نے ابن عجلان سے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے۔ سعید نے کہا: پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب وہ یہ بیان کرے اس کا بچہ کہے گا تو مجھ پر خرچ کر۔ اس کی طرف تو نے مجھے جس کے سپرد کیا ہے۔ تیری بیوی کہتی ہے: تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے دے۔ تیرا خادم کہتا ہے: جس طرف تو نے مجھے سپرد کیا ہے تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے فروخت کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15691]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15692
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
(١٥٦٩٢) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہتر صدقہ وہ ہے جو غنی ہونے کے بعد کیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تو اس سے شروع کر جس کی تو دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کو بخاری نے اعمش کی حدیث سے صحیح میں نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15692]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 5355»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15693
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ ⦗٧٦٨⦘ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيِّ وَأَنَا أَسْمَعُ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا أَمْ مَا نَذَرُ، قَالَ:" ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ".
(١٥٦٩٣) بھز بن حکیم بن معاویہ قشیری فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہماری بیویاں ہیں، ہم ان پر کیسے آئیں اور کیسے چھوڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی کھیتی کو جیسے چاہے آ اور تو اس کے چہرے پر نہ مار اور اس کی بےعزتی نہ کر اور تو اس کو نہ چھوڑ، مگر اپنے گھر میں اور جو تو خود کھائے اسے بھی وہی کھلا اور جب تو پہنے اسے بھی پہنا اور تمہارا ایک دوسرے کی طرف کیسے آتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15693]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15694
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ جَابِرٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَتَاهُ مَوْلًى لَهُ فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا يَعْنِي رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: هَلْ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ؟ فَقَالَ: لَا قَالَ: أَمَّا لَا فَارْجِعْ فَدَعْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ".
(١٥٦٩٤) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ میں نے وہب بن جابر سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عمرو بن عاص کے پاس بیت القدس میں حاضر ہوا اور ان کے پاس ان کا غلام آیا، اس نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں ماہ رمضان یہاں پر قیام کروں۔ اس کو عبداللہ نے کہا: کیا تو نے اپنے اہل کے لیے خوراک چھوڑی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو یہاں نہ رہ۔ لوٹ جا اور ان کے لیے خوراک کا انتظام کر۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آدمی کے لیے ہی گناہ کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے جن کی وہ خوراک کا انتظام کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15694]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3196. -- باب: فضل النفقة على الأهل
-- باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْتُ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْمُسْلِمُ إِذَا أَنْفَقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
(١٥٦٩٥) ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ میں نے کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے؟ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ مسلمان جب اپنے اہل پر مال خرچ کرتا ہے اور وہ اس کا احتساب کرتا ہے اس کا صدقہ لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے دوسری دو سندوں سے شعبہ سے اس کو نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15695]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15696
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا ابْنُ كَثِيرٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا: نا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ أَحَدُنَا بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا فَقَالَ:" يَرْحَمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ابْنَ عَفْرَاءَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ:" لَا" قُلْتُ: فَبِالشَّطْرِ قَالَ:" لَا" قُلْتُ: فَبِالثُّلُثِ قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ ⦗٧٦٩⦘ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَ بِكَ قَوْمًا وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ" وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
(١٥٦٩٦) سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے، آپ نے مجھے لوٹا دیا اور میں مکہ میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ ہمارا کوئی شخص اسی زمین میں فوت ہو جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عفراء کے بیٹے پر رحم فرمائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں اپنے سارے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑ یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان فقیر کر کے چھوڑ اور وہ اپنے ہاتھوں کو لوگوں کے سامنے پھیلاتے رہیں۔ جو تو اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور قریب ہے کہ اللہ اس کے ذریعے ایک قوم کو نفع دے اور دوسری قوم کو اس کے ذریعے تکلیف دے اور نہیں ہوگی اس کے لیے اس دن مگر بیٹی۔
اس کو بخاری نے ابو نعیم اور محمد بن کثیر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے سفیان ثوری (رح) کی ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15696]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15697
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو الْمُثَنَّى، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ، قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا تَمَامٌ، نا أَبُو حُذَيْفَةَ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ مِسْكِينًا وَدِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ قَالَ: الدِّينَارُ الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُ أَجْرًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
(١٥٦٩٧) مجاہد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایک دینار مسکین کو دے اور ایک دینارگردن آزاد کروانے کے لیے دے اور ایک دینار تو نے اللہ کے راستے میں دیا اور ایک دینار تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے۔ فرمایا: وہ دینار جو تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے وہ اجر کے اعتبار سے زیادہ بڑا ہے۔
اس کو مسلم نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15697]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 994»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں