السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3196. -- باب: فضل النفقة على الأهل
-- باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15698
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَارِمٌ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ" قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ فَأِيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ يَقُوتُهُمُ اللهُ وَيَنْفَعُهُمْ بِهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل دینار جسے آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے جو وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، وہ دینار جسے آدمی اللہ کے راستے میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جسے آدمی اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل و عیال سے ابتدا کی ہے۔ کون سا آدمی اس آدمی سے زیادہ اجر والا ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو خوراک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے نفع دیتا ہے۔ اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے ابوربیع سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15698]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا الْفِرْيَابِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي" وَاللهُ أَعْلَمُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے اہل کے لیے بہتر ہوں“ اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15699]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3197. -- باب: حبس الرجل لأهله قوت سنة
-- باب: آدمی کا اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کی خوراک جمع کر کے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ هُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَثْعَمِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: قَالَ لِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: إِيشِ عِنْدَكَ فِي الْقُوتِ؟ قُلْتُ: لَا شَيْءَ قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدُ حَدِيثًا حَدَّثَنَا بِهِ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَيَحْبِسُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ" ⦗٧٧٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ وَكِيعٍ.
ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے سفیان ثوری نے کہا: ”کیا تیرے پاس خوراک کی کوئی چیز ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، کوئی چیز نہیں۔ کہتے ہیں: پھر میں نے بعد میں حدیث ذکر کی، ہمیں معمر نے زہری سے، انہوں نے مالک سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی نضیر کی کھجوریں فروخت کرتے تھے اور اپنے اہل کے لیے ایک سال کی خوراک روک لیتے تھے۔“
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن سلام سے، انہوں نے وکیع سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15700]
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن سلام سے، انہوں نے وکیع سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15700]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15701
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں منقول ہے جو اللہ نے اپنے رسول پر مالِ فئے کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے اپنے اہل پر ان کے سال کا خرچہ خرچ کرتے، پھر جو باقی ہوتا اس کو بیت المال میں شامل کر دیتے۔“
اس کو بخاری نے ابن بکیر اور اس کے علاوہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے معمر اور اس کے علاوہ کی حدیث سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15701]
اس کو بخاری نے ابن بکیر اور اس کے علاوہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے معمر اور اس کے علاوہ کی حدیث سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15701]
3198. -- باب: {لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله}
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”خوشحال شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے“ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15702
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نَفَقَةِ الْمُقْتِرِ: إِنَّهَا مُدٌّ بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنْ طَعَامِ الْبَلَدِ قَالَ: وَإِنَّمَا جَعَلْتُ الْفَرْضَ مُدًّا بِالدَّلَالَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَفْعِهِ إِلَى الَّذِي أَصَابَ أَهْلَهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عَرَقًا فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا لِسِتِّينَ مِسْكِينًا فَكَانَ ذَلِكَ مُدًّا مُدًّا لِكُلِّ مِسْكِينٍ، والْعَرَقُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا عَلَى ذَلِكَ يُعْمَلُ لِيَكُونَ أَرْبَعَةَ أَعْرَاقٍ وَسْقًا وَلَكِنَّ الَّذِي حَدَّثَهُ أَدْخَلَ الشَّكَّ فِي الْحَدِيثِ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ صَاعًا.
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے تنگ دست (شوہر) کے نفقہ کے بارے میں فرمایا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد کے حساب سے شہر کی (عام) خوراک میں سے روزانہ ایک مد ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور میں نے یہ فرض مقدار ایک مد اس دلیل کی بنا پر مقرر کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں ملتی ہے جس نے رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی تھی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساٹھ مسکینوں (کو کھلانے) کے لیے ایک ٹوکرا دیا جس میں پندرہ صاع تھے، تو یہ ہر مسکین کے لیے ایک ایک مد بنتا ہے، اور ٹوکرا پندرہ صاع کا ہوتا تھا، اسی حساب سے بنایا جاتا تھا تاکہ چار ٹوکرے ایک وسق بن جائیں، لیکن جس نے انہیں یہ حدیث بیان کی اس نے حدیث میں شک داخل کر دیا کہ پندرہ صاع تھے یا بیس صاع۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15702]
انہوں نے فرمایا: ”اور میں نے یہ فرض مقدار ایک مد اس دلیل کی بنا پر مقرر کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں ملتی ہے جس نے رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی تھی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساٹھ مسکینوں (کو کھلانے) کے لیے ایک ٹوکرا دیا جس میں پندرہ صاع تھے، تو یہ ہر مسکین کے لیے ایک ایک مد بنتا ہے، اور ٹوکرا پندرہ صاع کا ہوتا تھا، اسی حساب سے بنایا جاتا تھا تاکہ چار ٹوکرے ایک وسق بن جائیں، لیکن جس نے انہیں یہ حدیث بیان کی اس نے حدیث میں شک داخل کر دیا کہ پندرہ صاع تھے یا بیس صاع۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15702]
حدیث نمبر: 15702
قَالَ الشَّيْخُ يَعْنِي بِهِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ الَّذِي أَصَابَ امْرَأَتَهُ فِي رَمَضَانَ قَالَ: فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ" فَذَكَرَهُ قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ مِنَ التَّمْرِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس دیہاتی کا قصہ منقول ہے جو رمضان میں اپنی بیوی کے پاس آیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک ٹوکری لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے اور اس کو صدقہ کر دے“ انہوں نے اسے ذکر کیا (یعنی لمبی حدیث)۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعید رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں؟ انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع کے درمیان۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15702]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15703
وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ الْمُوَاقِعِ قَالَ فِيهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: مَا أَجِدُ قَالَ: فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ:" خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ"، أَخْبَرَنَاه أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْكَاتِبُ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، نا هِقْلٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ فَذَكَرَهُ هَكَذَا رَوَاهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ مُدْرَجًا فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدٍ وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَجَعَلَ تَقْدِيرَ الْعَرَقِ فِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَذَكَرْنَاهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي نَفَقَةِ الْمُوسِرِ إِنَّهَا مُدَّانِ قَالَ: وَإِنَّمَا جَعَلْتُ أَكْثَرَ مَا فَرَضْتُ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِأَنَّ أَكْثَرَ مَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدْيَةِ الْكَفَّارَةِ لِلْأَذَى مُدَّيْنِ لِكُلِّ مِسْكِينٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واقع ہونے والے کے قصے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ عرض کیا: میں نہیں پاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ٹوکری دی گئی۔ اس میں پندرہ صاع (کھجور) تھی۔ فرمایا: ”اس کو لے لو اور صدقہ کر دو۔“ ہمیں اس کی ابو عمرو ادیب نے خبر دی، انہیں ابوبکر اسماعیلی نے احمد بن محمد بن منصور کاتب سے خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہمیں حکم بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، ہمیں ہقل نے اوزاعی سے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے زہری نے حدیث بیان کی، پس اس کو ذکر کیا۔
اسی طرح اسے اوزاعی سے زہری کی حمید سے (مروی) حدیث میں مدرج (یعنی راوی کا داخل کردہ اضافہ) کر کے روایت کیا گیا ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ نے اس کو اوزاعی سے روایت کیا اور ٹوکری کی مقدار کا اندازہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کی روایت میں رکھا ہے اور ہم نے اس کو دوسری جگہ ذکر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسانی والے کا نفقہ دو مد ہے اور میں نے زیادہ سے زیادہ جو مقرر کیا وہ دو دو مد اس لیے رکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف (سر کی بیماری) کے کفارہ کے فدیہ میں زیادہ سے زیادہ ہر مسکین کے لیے دو مد مقرر کیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15703]
اسی طرح اسے اوزاعی سے زہری کی حمید سے (مروی) حدیث میں مدرج (یعنی راوی کا داخل کردہ اضافہ) کر کے روایت کیا گیا ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ نے اس کو اوزاعی سے روایت کیا اور ٹوکری کی مقدار کا اندازہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کی روایت میں رکھا ہے اور ہم نے اس کو دوسری جگہ ذکر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسانی والے کا نفقہ دو مد ہے اور میں نے زیادہ سے زیادہ جو مقرر کیا وہ دو دو مد اس لیے رکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف (سر کی بیماری) کے کفارہ کے فدیہ میں زیادہ سے زیادہ ہر مسکین کے لیے دو مد مقرر کیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15703]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15704
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقَمْلُ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ، أَوْ أَنْسِكْ شَاةً، أِيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ مَالِكٍ مُجَوَّدًا وَقَدْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، ان کو جوؤں نے تکلیف دی۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اپنا سر منڈوا لے اور فرمایا: ”تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو دو دو مد کھانا کھلا یا بکری کی قربانی کر، جو بھی تو کرے وہ تیری طرف سے بدلہ ہے۔“ اس کو حسین بن ولید نے مالک سے اچھی سند کے ساتھ روایت کیا اور شیخین رحمہما اللہ نے اس کو دوسری سند عبدالکریم سے اپنی صحیح میں نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15704]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15705
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، نا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ" فَرَضَ لِامْرَأَةٍ وَخَادِمِهَا اثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا لِلْمَرْأَةِ ثَمَانِيَةٌ وَلِلْخَادِمِ أَرْبَعٌ وَدِرْهَمًا مِنَ الثَّمَانِيَةِ لِلْقُطْنِ وَالْكَتَّانِ" هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عورت اور اس کے خادم کے لیے بارہ درہم مقرر کیے ہیں۔ عورت کے لیے آٹھ درہم اور خادم کے لیے چار درہم، اور آٹھ میں سے ایک درہم روئی اور کتان (کپڑے) کے لیے ہے۔ اس کی سندیں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15705]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3199. -- باب: الرجل لا يجد نفقة امرأته
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا نفقہ (برداشت کرنے کی استطاعت) نہ پائے۔
حدیث نمبر: 15706
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٧٢⦘ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ فِي رِجَالٍ غَابُوا عَنْ نِسَائِهِمْ فَأَمَرَهُمْ" أَنْ يَأْخُذُوهُمْ بِأَنْ يُنْفِقُوا أَوْ يُطَلِّقُوا فَإِنْ طَلَّقُوا بَعَثُوا بِنَفَقَةِ مَا حَبَسُوا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجناد کے امراء کی طرف ان آدمیوں کے بارے میں لکھا جو اپنی بیویوں سے غائب ہو گئے، انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان کو پکڑیں، وہ یا تو خرچہ دیں یا طلاق دیں، اور اگر وہ طلاق دیں تو وہ ان کو وہ خرچہ دیں جو انہوں نے اس عورت کو روکنے کی وجہ سے روکا ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15706]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح