صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1789. إن الله تعالى قد أجار أمتي أن تجتمع على ضلالة
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے ....
حدیث نمبر: 1786
«إن الله تعالى قد أجار أمتي أن تجتمع على ضلالة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے محفوظ فرما دیا ہے کہ وہ کبھی کسی گمراہی پر جمع (متفق) ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1786]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے محفوظ فرما دیا ہے کہ وہ کبھی کسی گمراہی پر جمع (متفق) ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [ابن أبي عاصم] عن أنس. السنة 82 الصحيحة 1331.»
قال الشيخ الألباني: حسن
1790. إن الله قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء مؤمن ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور ....
حدیث نمبر: 1787
"إن الله قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها
بالآباء مؤمن تقي وفاجر شقي أنتم بنو آدم وآدم من تراب ليدعن رجال فخرهم بأقوام إنما هم فحم من فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعلان التي تدفع بأنفها النتن"
بالآباء مؤمن تقي وفاجر شقي أنتم بنو آدم وآدم من تراب ليدعن رجال فخرهم بأقوام إنما هم فحم من فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعلان التي تدفع بأنفها النتن"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور باپ دادا پر فخر کرنا دور کر دیا ہے۔ اب انسانوں کی صرف دو قسمیں ہیں: ایک پرہیزگار مومن اور دوسرا بدبخت گناہ گار۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان قوموں (آباء و اجداد) پر فخر کرنا چھوڑ دیں جو جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ بن چکے ہیں، ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل و خوار ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی دھکیلتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1787]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور باپ دادا پر فخر کرنا دور کر دیا ہے۔ اب انسانوں کی صرف دو قسمیں ہیں: ایک پرہیزگار مومن اور دوسرا بدبخت گناہ گار۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان قوموں (آباء و اجداد) پر فخر کرنا چھوڑ دیں جو جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ بن چکے ہیں، ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل و خوار ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی دھکیلتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [حم د] عن أبي هريرة. غاية المرام 312: حم، الطحاوي، ابن منده، هق.»
قال الشيخ الألباني: حسن
1791. إن الله تعالى قد أعطى كل ذي حق حقه فلا ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا ....
حدیث نمبر: 1788
«إن الله تعالى قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت (جائز) نہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1788]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت (جائز) نہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ] عن أنس. الإرواء 1413 و1655.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1792. إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس ....
حدیث نمبر: 1789
«إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث الولد للفراش وللعاهر الحجر وحسابهم على الله ومن ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله التابعة إلى يوم القيامة ولا تنفق امرأة شيئا من بيت زوجها إلا بإذن زوجها قيل: ولا الطعام؟ قال: ذلك أفضل أموالنا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر (محرومی) ہے، اور ان سب کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اور جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کیا، یا کسی آزاد کردہ غلام نے اپنے آقاؤں کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی، تو اس پر قیامت کے دن تک مسلسل اللہ کی لعنت ہے۔ اور کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ پوچھا گیا: کیا کھانا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو ہمارے بہترین اموال میں سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1789]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر (محرومی) ہے، اور ان سب کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اور جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کیا، یا کسی آزاد کردہ غلام نے اپنے آقاؤں کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی، تو اس پر قیامت کے دن تک مسلسل اللہ کی لعنت ہے۔ اور کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ پوچھا گیا: کیا کھانا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو ہمارے بہترین اموال میں سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ت] عن أبي أمامة. الإرواء 1413، 1655 وروى د، هـ بعضه.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1793. إن الله قد أمده لرؤيته فإن أغمي عليكم فأكملوا العدة
بے شک اللہ تعالیٰ نے اس (چاند) کو دیکھنے کے ....
حدیث نمبر: 1790
«إن الله قد أمده لرؤيته فإن أغمي عليكم فأكملوا العدة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس (چاند) کو دیکھنے کے لیے مدت کو بڑھایا ہے (یعنی چاند کا دیکھنا ضروری قرار دیا ہے)، لہٰذا اگر مطلع تم پر ابر آلود ہو جائے تو گنتی پوری کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1790]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس (چاند) کو دیکھنے کے لیے مدت کو بڑھایا ہے (یعنی چاند کا دیکھنا ضروری قرار دیا ہے)، لہٰذا اگر مطلع تم پر ابر آلود ہو جائے تو گنتی پوری کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1790]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م] عن ابن عباس. الإرواء 903.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1794. إن الله تعالى قد أوقع أجره على قدر نيته
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اجر اس کی نیت ....
حدیث نمبر: 1791
«إن الله تعالى قد أوقع أجره على قدر نيته»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اجر اس کی نیت کے مطابق مقرر فرما دیا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1791]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اجر اس کی نیت کے مطابق مقرر فرما دیا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [مالك حم د ن هـ حب ك] عن جابر بن عتيك. المشكاة 1561، 1616، أحكام الجنائز 39.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1795. إن الله قد جعل لجعفر جناحين مضرجين بالدم يطير بهما ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جعفر (رضی اللہ عنہ) کے لیے ....
حدیث نمبر: 1792
«إن الله قد جعل لجعفر جناحين مضرجين بالدم يطير بهما مع الملائكة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جعفر (رضی اللہ عنہ) کے لیے خون میں لت پت دو پر بنا دیے ہیں، جن کے ذریعے وہ فرشتوں کے ساتھ (جنت میں) اڑتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1792]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جعفر (رضی اللہ عنہ) کے لیے خون میں لت پت دو پر بنا دیے ہیں، جن کے ذریعے وہ فرشتوں کے ساتھ (جنت میں) اڑتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [الدارقطني في الأفراد ك] عن البراء. الصحيحة 1226.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1796. إن الله تعالى قد حرم على النار من قال لا ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر جہنم کی آگ ....
حدیث نمبر: 1793
«إن الله تعالى قد حرم على النار من قال لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر جہنم کی آگ کو حرام کر دیا ہے جس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1793]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر جہنم کی آگ کو حرام کر دیا ہے جس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق] عن عتبان بن مالك.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1797. إن الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث ولا تجوز ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے وراثت میں ....
حدیث نمبر: 1794
«إن الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث ولا تجوز لوارث وصية الولد للفراش وللعاهر الحجر ومن ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين ولا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے وراثت میں اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر (محرومی) ہے، اور جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کیا، یا کسی آزاد کردہ غلام نے اپنے آقاؤں سے منہ موڑ کر کسی اور کی طرف نسبت کی، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفل عمل قبول نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1794]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے وراثت میں اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر (محرومی) ہے، اور جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کیا، یا کسی آزاد کردہ غلام نے اپنے آقاؤں سے منہ موڑ کر کسی اور کی طرف نسبت کی، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفل عمل قبول نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم هـ] عن عمرو بن خارجة. الإرواء 1413، 1655.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1798. إن الله تعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں احسان (نرمی اور ....
حدیث نمبر: 1795
«إن الله تعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں احسان (نرمی اور حسنِ سلوک) کو لازمی قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب جانور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو خوب تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1795]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں احسان (نرمی اور حسنِ سلوک) کو لازمی قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب جانور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو خوب تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1795]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م 4] عن شداد بن أوس. الإرواء 2231: الدارمي، ابن أبي شيبة، الطيالسي، الطحاوي، ابن الجارود، هق.»
قال الشيخ الألباني: صحيح