صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1759. إن الله تعالى حيي ستير يحب الحياء والستر فإذا اغتسل ....
بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور پردہ ....
حدیث نمبر: 1756
«إن الله تعالى حيي ستير يحب الحياء والستر فإذا اغتسل أحدكم فليستتر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے، وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ پردہ کرے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1756]
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے، وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ پردہ کرے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم د ن] عن يعلى بن أمية. المشكاة 4476، الإرواء 2335.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1760. إن الله تعالى حيي كريم يستحي إذا رفع الرجل إليه ....
بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور انتہائی ....
حدیث نمبر: 1757
«إن الله تعالى حيي كريم يستحي إذا رفع الرجل إليه يديه أن يردهما صفرا خائبتين»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور انتہائی سخی و کریم ہے۔ جب کوئی آدمی (دعا کے لیے) اس کے سامنے اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ ان ہاتھوں کو خالی اور ناکام واپس لوٹا دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1757]
”بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا اور انتہائی سخی و کریم ہے۔ جب کوئی آدمی (دعا کے لیے) اس کے سامنے اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ ان ہاتھوں کو خالی اور ناکام واپس لوٹا دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم د ت هـ ك] عن سلمان. الترغيب 2/272.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1761. إن الله خلق آدم ثم أخذ الخلق من ظهره فقال: ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا ....
حدیث نمبر: 1758
«إن الله خلق آدم ثم أخذ الخلق من ظهره فقال: هؤلاء في الجنة ولا أبالي وهؤلاء في النار ولا أبالي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا، پھر ان کی پشت سے تمام مخلوق کو نکالا اور فرمایا: یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، اور یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1758]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا، پھر ان کی پشت سے تمام مخلوق کو نکالا اور فرمایا: یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، اور یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ك] عن عبد الرحمن بن قتادة. الصحيحة 48.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1762. إن الله تعالى خلق آدم من قبضة قبضها من جميع ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی ....
حدیث نمبر: 1759
«إن الله تعالى خلق آدم من قبضة قبضها من جميع الأرض فجاء بنو آدم على قدر الأرض جاء منهم الأحمر والأبيض والأسود وبين ذلك والسهل والحزن والخبيث والطيب وبين ذلك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک ایسی مٹھی سے پیدا فرمایا جسے اس نے پوری زمین سے لیا تھا، چنانچہ اولادِ آدم اسی زمین کی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں سے کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے اور کوئی سیاہ ہے، اور کوئی ان رنگوں کے درمیان (گندمی وغیرہ) ہے۔ اسی طرح کوئی نرم مزاج ہے، کوئی سخت مزاج ہے، کوئی خبیث ہے، کوئی پاکیزہ ہے اور کوئی ان کے درمیانی مزاج کا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1759]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک ایسی مٹھی سے پیدا فرمایا جسے اس نے پوری زمین سے لیا تھا، چنانچہ اولادِ آدم اسی زمین کی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں سے کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے اور کوئی سیاہ ہے، اور کوئی ان رنگوں کے درمیان (گندمی وغیرہ) ہے۔ اسی طرح کوئی نرم مزاج ہے، کوئی سخت مزاج ہے، کوئی خبیث ہے، کوئی پاکیزہ ہے اور کوئی ان کے درمیانی مزاج کا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم د ت ك هق] عن أبي موسى. المشكاة 100، الصحيحة 1630.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1763. إن الله تعالى خلق الجنة وخلق النار فخلق لهذه أهلا ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا اور ....
حدیث نمبر: 1760
«إن الله تعالى خلق الجنة وخلق النار فخلق لهذه أهلا ولهذه أهلا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا فرمایا، پھر اس نے جنت کے لیے بھی رہنے والے پیدا فرمائے اور جہنم کے لیے بھی رہنے والے پیدا فرمائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1760]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا فرمایا، پھر اس نے جنت کے لیے بھی رہنے والے پیدا فرمائے اور جہنم کے لیے بھی رہنے والے پیدا فرمائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1760]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن عائشة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1764. إن الله تعالى خلق الخلق حتى إذا فرغ من خلقه ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، یہاں ....
حدیث نمبر: 1761
«إن الله تعالى خلق الخلق حتى إذا فرغ من خلقه قامت الرحم فقال: مه؟ قالت: هذا مقام العائذ بك من القطيعة قال: نعم أما ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك؟ قالت: بلى يا رب قال: فذلك لك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، یہاں تک کہ جب وہ اپنی مخلوق کی پیدائش سے فارغ ہو گیا تو رحم (رشتہ داری) کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے عرض کیا: یہ اس کا مقام ہے جو قطع رحمی (رشتہ توڑنے) سے تیری پناہ مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اس سے جڑوں جو تجھے جوڑے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو یہ مقام تیرے لیے (مقرر کر دیا گیا) ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1761]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، یہاں تک کہ جب وہ اپنی مخلوق کی پیدائش سے فارغ ہو گیا تو رحم (رشتہ داری) کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے عرض کیا: یہ اس کا مقام ہے جو قطع رحمی (رشتہ توڑنے) سے تیری پناہ مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اس سے جڑوں جو تجھے جوڑے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو یہ مقام تیرے لیے (مقرر کر دیا گیا) ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 1764.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1765. إن الله تعالى خلق الداء والدواء فتداووا ولا تتداووا بحرام
بے شک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں کو ....
حدیث نمبر: 1762
«إن الله تعالى خلق الداء والدواء فتداووا ولا تتداووا بحرام»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں کو پیدا فرمایا ہے، لہٰذا تم علاج کیا کرو، البتہ حرام چیزوں سے علاج نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1762]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں کو پیدا فرمایا ہے، لہٰذا تم علاج کیا کرو، البتہ حرام چیزوں سے علاج نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن أم الدرداء. الصحيحة 1633: الدولابي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1766. إن الله تعالى خلق الرحمة يوم خلقها مائة رحمة فأمسك ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن رحمت کو پیدا ....
حدیث نمبر: 1763
«إن الله تعالى خلق الرحمة يوم خلقها مائة رحمة فأمسك عنده تسعا وتسعين رحمة وأرسل في خلقه كلهم رحمة واحدة فلو يعلم الكافر بكل الذي عند الله من الرحمة لم ييأس من الجنة ولو يعلم المؤمن بالذي عند الله من العذاب لم يأمن من النار»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن رحمت کو پیدا فرمایا تو اس کے سو حصے بنائے، پس اس نے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور اپنی تمام مخلوق کے درمیان صرف ایک رحمت بھیجی۔ لہٰذا اگر کافر کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو وہ کبھی جنت سے مایوس نہ ہو، اور اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے پاس کتنا عذاب ہے تو وہ کبھی جہنم سے بے خوف نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1763]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن رحمت کو پیدا فرمایا تو اس کے سو حصے بنائے، پس اس نے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور اپنی تمام مخلوق کے درمیان صرف ایک رحمت بھیجی۔ لہٰذا اگر کافر کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو وہ کبھی جنت سے مایوس نہ ہو، اور اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے پاس کتنا عذاب ہے تو وہ کبھی جہنم سے بے خوف نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق] عن أبي هريرة. الصحيحة 1634: ت.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1767. إن الله تعالى خلق خلقه في ظلمة فألقى عليهم من ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں ....
حدیث نمبر: 1764
«إن الله تعالى خلق خلقه في ظلمة فألقى عليهم من نوره فمن أصابه من ذلك النور يومئذ اهتدى ومن أخطأه ضل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا فرمایا، پھر ان پر اپنا نور ڈالا، پس اس دن جس پر وہ نور پڑ گیا اس نے ہدایت پا لی، اور جو اس سے محروم رہا وہ گمراہ ہو گیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1764]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا فرمایا، پھر ان پر اپنا نور ڈالا، پس اس دن جس پر وہ نور پڑ گیا اس نے ہدایت پا لی، اور جو اس سے محروم رہا وہ گمراہ ہو گیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ت ك] عن ابن عمرو. المشكاة 101، الصحيحة 1076: حب.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1768. إن الله خلق مائة رحمة رحمة منها قسمها بين الخلائق ....
بے شک اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے پیدا ....
حدیث نمبر: 1765
«إن الله خلق مائة رحمة رحمة منها قسمها بين الخلائق وتسعة وتسعين إلى يوم القيامة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے پیدا فرمائے، ان میں سے ایک حصہ مخلوق کے درمیان تقسیم فرما دیا، اور ننانوے حصے قیامت کے دن کے لیے رکھ لیے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1765]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے پیدا فرمائے، ان میں سے ایک حصہ مخلوق کے درمیان تقسیم فرما دیا، اور ننانوے حصے قیامت کے دن کے لیے رکھ لیے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1765]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن ابن عباس. الصحيحة 1634.»
قال الشيخ الألباني: صحيح