صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2008. إن أمتي يدعون يوم القيامة غرا محجلين من آثار الوضوء.. ....
بیشک قیامت کے دن میری امت کے لوگوں کو اس ....
حدیث نمبر: 2005
«إن أمتي يدعون يوم القيامة غرا محجلين من آثار الوضوء.....»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک قیامت کے دن میری امت کے لوگوں کو اس حال میں بلایا جائے گا کہ وضو کے نشانات کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2005]
”بیشک قیامت کے دن میری امت کے لوگوں کو اس حال میں بلایا جائے گا کہ وضو کے نشانات کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2005]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق] عن أبي هريرة. الصحيحة 1030: حم، أبو عوانة، الطحاوي، هق. مختصر مسلم 128.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2009. إن أم ملدم تخرج خبث ابن آدم كما يخرج الكير ....
بیشک أُمَّ مِلْدَمٍ (بخار) ابنِ آدم کے گناہوں کی میل ....
حدیث نمبر: 2006
«إن أم ملدم تخرج خبث ابن آدم كما يخرج الكير خبث الحديد»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک «أُمَّ مِلْدَمٍ» (بخار) ابنِ آدم کے گناہوں کی میل کچیل کو اس طرح نکال دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کا زنگ دور کر دیتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2006]
”بیشک «أُمَّ مِلْدَمٍ» (بخار) ابنِ آدم کے گناہوں کی میل کچیل کو اس طرح نکال دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کا زنگ دور کر دیتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2006]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن عبدربه بن سعيد بن قيس عن عمته. الصحيحة 1215.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2010. إن أمن الناس علي في ماله وصحبته أبو بكر ولو ....
بیشک تمام لوگوں میں سے اپنے مال اور صحبت کے ....
حدیث نمبر: 2007
«إن أمن الناس علي في ماله وصحبته أبو بكر ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ولكن أخوة الإسلام لا يبقين في المسجد خوخة إلا خوخة أبي بكر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک تمام لوگوں میں سے اپنے مال اور صحبت کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کا ہے، اور اگر میں (اللہ کے سوا) کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کی اخوت (کا رشتہ ہی کافی) ہے، مسجد میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2007]
”بیشک تمام لوگوں میں سے اپنے مال اور صحبت کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کا ہے، اور اگر میں (اللہ کے سوا) کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کی اخوت (کا رشتہ ہی کافی) ہے، مسجد میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2007]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م ت] عن أبي سعيد. مختصر مسلم 1622.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2011. إن أناسا من أمتي يأتون بعدي يود أحدهم لو اشترى ....
بیشک میری امت میں سے کچھ لوگ میرے بعد آئیں ....
حدیث نمبر: 2008
«إن أناسا من أمتي يأتون بعدي يود أحدهم لو اشترى رؤيتي بأهله وماله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک میری امت میں سے کچھ لوگ میرے بعد آئیں گے، ان میں سے ہر ایک کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش وہ اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کی قربانی دے کر میری زیارت کر لے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2008]
”بیشک میری امت میں سے کچھ لوگ میرے بعد آئیں گے، ان میں سے ہر ایک کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش وہ اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کی قربانی دے کر میری زیارت کر لے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة 1676.»
قال الشيخ الألباني: حسن
2012. إن أوثق عرى الإسلام: أن تحب في الله وتبغض في ....
بیشک اسلام کا سب سے مضبوط کڑا یہ ہے کہ ....
حدیث نمبر: 2009
«إن أوثق عرى الإسلام: أن تحب في الله وتبغض في الله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک اسلام کا سب سے مضبوط کڑا یہ ہے کہ تم اللہ ہی کے لیے محبت کرو اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2009]
”بیشک اسلام کا سب سے مضبوط کڑا یہ ہے کہ تم اللہ ہی کے لیے محبت کرو اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2009]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [حم ش هب] عن البراء. الترغيب 4/49.»
قال الشيخ الألباني: حسن
2013. إن أولئك إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على ....
بیشک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی ....
حدیث نمبر: 2010
«إن أولئك إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا وصوروا فيه تلك الصورة أولئك شرار الخلق عند الله يوم القيامة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی ہوتا اور وہ فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد (عبادت گاہ) بنا لیتے اور اس میں اس کی تصویریں بناتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2010]
”بیشک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی ہوتا اور وہ فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد (عبادت گاہ) بنا لیتے اور اس میں اس کی تصویریں بناتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2010]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق ن] عن عائشة. تحذير الساجد 12.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2014. إن أولى الناس بالله من بدأهم بالسلام
بیشک لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ....
حدیث نمبر: 2011
«إن أولى الناس بالله من بدأهم بالسلام»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو انہیں سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2011]
”بیشک لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو انہیں سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2011]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د] عن أبي أمامة. الكلم 198، المشكاة 4646.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2015. إن أولى الناس بي المتقون من كانوا وحيث كانوا
بیشک لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب متقی پرہیزگار ....
حدیث نمبر: 2012
"إن أولى الناس بي المتقون من كانوا وحيث
كانوا"
كانوا"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب متقی پرہیزگار لوگ ہیں، وہ جو کوئی بھی ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2012]
”بیشک لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب متقی پرہیزگار لوگ ہیں، وہ جو کوئی بھی ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2012]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن معاذ. تخريج فقه السيرة 485.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2016. إن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة ....
بیشک (قیامت کی بڑی) نشانیوں میں سے سب سے پہلے ....
حدیث نمبر: 2013
«إن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة على الناس ضحى فأيتهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها قريبا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک (قیامت کی بڑی) نشانیوں میں سے سب سے پہلے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں پر دابۃ الارض (ایک عجیب الخلقت جانور) کا نکلنا ظاہر ہوگا۔ پس ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے ظاہر ہو گئی، تو دوسری اس کے فوراً بعد ظاہر ہو جائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2013]
”بیشک (قیامت کی بڑی) نشانیوں میں سے سب سے پہلے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں پر دابۃ الارض (ایک عجیب الخلقت جانور) کا نکلنا ظاہر ہوگا۔ پس ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے ظاہر ہو گئی، تو دوسری اس کے فوراً بعد ظاہر ہو جائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2013]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م د هـ] ابن عمرو. الطحاوية 766، 504.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
2017. إن أول الناس يقضى يوم القيامة عليه رجل استشهد فأتي ....
بیشک قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے جس ....
حدیث نمبر: 2014
«إن أول الناس يقضى يوم القيامة عليه رجل استشهد فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال: فما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت قال: كذبت ولكنك قاتلت ليقال جريء فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته وقرأت فيك القرآن قال: كذبت ولكنك تعلمت العلم ليقال عالم وقرأت القرآن ليقال: هو قارئ فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل وسع الله عليه وأعطاه من أصناف المال كله فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تحب أن ينفق فيها إلا أنفقت فيها لك قال: كذبت ولكنك فعلت ليقال: هو جواد فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه ثم ألقي في النار»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک ایسا آدمی ہوگا جو شہید کر دیا گیا تھا۔ اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں (کے شکرانے) میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو نے اس لیے جنگ کی تھی تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سو وہ کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا وہ شخص ہوگا جس نے علم سیکھا، اسے دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا، اسے سکھایا اور تیری رضا کے لیے قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے علم اس لیے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے، اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، سو وہ کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ نے وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا کیا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسا راستہ نہیں چھوڑا جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو اور میں نے اس میں تیرے لیے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، بلکہ تو نے اس لیے خرچ کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2014]
”بیشک قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک ایسا آدمی ہوگا جو شہید کر دیا گیا تھا۔ اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں (کے شکرانے) میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو نے اس لیے جنگ کی تھی تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سو وہ کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا وہ شخص ہوگا جس نے علم سیکھا، اسے دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا، اسے سکھایا اور تیری رضا کے لیے قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے علم اس لیے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے، اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، سو وہ کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ نے وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا کیا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسا راستہ نہیں چھوڑا جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو اور میں نے اس میں تیرے لیے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، بلکہ تو نے اس لیے خرچ کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ا/حدیث: 2014]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 1089.»
قال الشيخ الألباني: صحيح