صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7921. يا سعد! ارم فداك أبي وأمي
اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ....
حدیث نمبر: 7911
«يا سعد! ارم فداك أبي وأمي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7911]
”اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7911]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [خ] عن علي. المشكاة 6103.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7922. يا سعد! إني لأعطي الرجل وغيره أحب إلى منه خشية ....
اے سعد! میں ایک آدمی کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ ....
حدیث نمبر: 7912
«يا سعد! إني لأعطي الرجل وغيره أحب إلى منه خشية أن يكبه الله في النار على وجهه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے سعد! میں ایک آدمی کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ کوئی اور مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں اللہ اسے منہ کے بل جہنم میں نہ ڈال دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7912]
”اے سعد! میں ایک آدمی کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ کوئی اور مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں اللہ اسے منہ کے بل جہنم میں نہ ڈال دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7912]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق د] عن سعد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7923. يا صاحب السبتيتين! ويحك! ألق سبتيتيك
اے چمڑے کی جوتیوں والے! تجھ پر افسوس! اپنی جوتیاں ....
حدیث نمبر: 7913
«يا صاحب السبتيتين! ويحك! ألق سبتيتيك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے چمڑے کی جوتیوں والے! تجھ پر افسوس! اپنی جوتیاں اتار دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7913]
”اے چمڑے کی جوتیوں والے! تجھ پر افسوس! اپنی جوتیاں اتار دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7913]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ن هـ حب ك] عن بشير بن الخصاصية. الإرواء 760، أحكام الجنائز 136.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7924. يا صفية بنت عبد المطلب! يا فاطمة بنت محمد! يا ....
اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے فاطمہ بنت محمد! اے بنو ....
حدیث نمبر: 7914
«يا صفية بنت عبد المطلب! يا فاطمة بنت محمد! يا بني عبد المطلب! إني لا أملك لكم من الله شيئا سلوني من مالي ما شئتم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے فاطمہ بنت محمد! اے بنو عبدالمطلب! میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7914]
”اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے فاطمہ بنت محمد! اے بنو عبدالمطلب! میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7914]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت] عن عائشة. م/133.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7925. يا عائش! هذا جبريل يقرئك السلام
اے عائشہ! یہ جبریل ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ....
حدیث نمبر: 7915
«يا عائش! هذا جبريل يقرئك السلام»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! یہ جبریل ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7915]
”اے عائشہ! یہ جبریل ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7915]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق ت ن هـ] عن عائشة. مختصر مسلم 1668، خد 827.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7926. يا عائشة! استعيذي بالله من شر هذا فإن هذا هوالغاسق ....
اے عائشہ! اس (چاند) کے شر سے اللہ کی پناہ ....
حدیث نمبر: 7916
«يا عائشة! استعيذي بالله من شر هذا فإن هذا هوالغاسق إذا وقب» - يعني القمر -... [حم ت ك] عن عائشة
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اس (چاند) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی وہ اندھیرا کرنے والا (غاسق) ہے جب وہ چھا جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7916]
”اے عائشہ! اس (چاند) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی وہ اندھیرا کرنے والا (غاسق) ہے جب وہ چھا جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7916]
تخریج الحدیث: «(صحيح) المشكاة 2475، الصحيحة 372: الطيالسي، الطحاوي، ابن السني.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7927. يا عائشة! أشعرت أن الله أفتاني فيما استفتيته فيه؟ جاءني ....
اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے ....
حدیث نمبر: 7917
«يا عائشة! أشعرت أن الله أفتاني فيما استفتيته فيه؟ جاءني رجلان فقعد أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي فقال الذي عند رأسي للذي عند رجلي: ما وجع الرجل؟ قال: مطبوب قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الأعصم قال: في أي شيء؟ قال: في مشط ومشاطة وجف طلعتي ذكر قال: فأين هو؟ قال في بئر ذروان يا عائشة! والله لكأن ماءها نقاعة الحناء ولكأن نخلها رءوس الشياطين»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے اس بات کا جواب دے دیا جو میں نے اس سے پوچھی تھی؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ جو سرہانے تھا اس نے پاؤں والے سے کہا: اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا: کس نے جادو کیا؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں چھپا کر؟ اس نے کہا: کنگھی، بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے خول میں۔ پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: ذروان کے کنویں میں۔ اے عائشہ! اللہ کی قسم! گویا اس کا پانی مہندی بھگونے کے پانی جیسا اور اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7917]
”اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے اس بات کا جواب دے دیا جو میں نے اس سے پوچھی تھی؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ جو سرہانے تھا اس نے پاؤں والے سے کہا: اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا: کس نے جادو کیا؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں چھپا کر؟ اس نے کہا: کنگھی، بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے خول میں۔ پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: ذروان کے کنویں میں۔ اے عائشہ! اللہ کی قسم! گویا اس کا پانی مہندی بھگونے کے پانی جیسا اور اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7917]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق هـ] عن عائشة. مختصر مسلم 1445.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7928. يا عائشة أما كان معكم لهو؟ فإن الأنصار يعجبهم اللهو
اے عائشہ! کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل تماشا نہیں تھا؟ ....
حدیث نمبر: 7918
«يا عائشة أما كان معكم لهو؟ فإن الأنصار يعجبهم اللهو»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل تماشا نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو کھیل تماشا پسند ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7918]
”اے عائشہ! کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل تماشا نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو کھیل تماشا پسند ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7918]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [خ] عن عائشة. حب 2016.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7929. يا عائشة! إن الله خلق للجنة أهلا خلقهم لها وهم ....
اے عائشہ! اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگ پیدا ....
حدیث نمبر: 7919
«يا عائشة! إن الله خلق للجنة أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم وخلق للنار أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جنت کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جہنم کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7919]
”اے عائشہ! اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جنت کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جہنم کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7919]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م د هـ] عن عائشة. أحكام الجنائز 81.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7930. يا عائشة! إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله
اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے اور ہر معاملے ....
حدیث نمبر: 7920
«يا عائشة! إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7920]
”اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7920]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق ت هـ] عن عائشة. المشكاة 4638.»
قال الشيخ الألباني: صحيح