صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7941. يا عائشة! متى عهدتني فحاشا؟ إن شر الناس عند الله ....
اے عائشہ! تم نے کب مجھے بدزبان پایا؟ اللہ کے ....
حدیث نمبر: 7931
«يا عائشة! متى عهدتني فحاشا؟ إن شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! تم نے کب مجھے بدزبان پایا؟ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدتر مقام والا شخص وہ ہے جسے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7931]
”اے عائشہ! تم نے کب مجھے بدزبان پایا؟ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدتر مقام والا شخص وہ ہے جسے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7931]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق] عن عائشة. الصحيحة 1049.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7942. يا عائشة! لا تحصي فيحصي الله عليك
اے عائشہ! صدقہ دینے میں حساب مت رکھو، ورنہ اللہ ....
حدیث نمبر: 7932
«يا عائشة! لا تحصي فيحصي الله عليك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! صدقہ دینے میں حساب مت رکھو، ورنہ اللہ بھی تم پر اپنی عطا کا حساب رکھے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7932]
”اے عائشہ! صدقہ دینے میں حساب مت رکھو، ورنہ اللہ بھی تم پر اپنی عطا کا حساب رکھے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7932]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د1] عن عائشة. صحيح أبي داود - آخر الزكاة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7943. يا عائشة! لا تكوني فاحشة
اے عائشہ! بدزبان نہ بنو۔
حدیث نمبر: 7933
«يا عائشة! لا تكوني فاحشة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عائشہ! بدزبان نہ بنو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7933]
”اے عائشہ! بدزبان نہ بنو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7933]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن عائشة. الإرواء 2133.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7944. يا عباد الله تدأووا فإن الله لم يضع داء إلا ....
اے اللہ کے بندو! علاج کراؤ، کیونکہ اللہ نے جو ....
حدیث نمبر: 7934
«يا عباد الله تدأووا فإن الله لم يضع داء إلا وضع له دواء غير داء واحد: الهرم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے اللہ کے بندو! علاج کراؤ، کیونکہ اللہ نے جو بیماری بھی بنائی ہے اس کی دوا بھی بنائی ہے، سوائے ایک بیماری کے: بڑھاپا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7934]
”اے اللہ کے بندو! علاج کراؤ، کیونکہ اللہ نے جو بیماری بھی بنائی ہے اس کی دوا بھی بنائی ہے، سوائے ایک بیماری کے: بڑھاپا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7934]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم 4 حب ك] عن أسامة بن شريك. غاية المرام 292، المشكاة 2532.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7945. يا عباد الله! وضع الله الحرج إلا من اقترض عرض ....
اے اللہ کے بندو! اللہ نے تنگی دور کر دی ....
حدیث نمبر: 7935
«يا عباد الله! وضع الله الحرج إلا من اقترض عرض امرئ مسلم ظلما فذلك الذي حرج وهلك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے اللہ کے بندو! اللہ نے تنگی دور کر دی ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت پر ظلماً حملہ کرے، وہی تنگی میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7935]
”اے اللہ کے بندو! اللہ نے تنگی دور کر دی ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت پر ظلماً حملہ کرے، وہی تنگی میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7935]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم خد ن هـ حب ك] عن أسامة بن شريك. المصدر نفسه.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7946. يا عباس! ألا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض ....
اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور ....
حدیث نمبر: 7936
«يا عباس! ألا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض بريرة مغيثا؟»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر تعجب نہیں ہوتا؟“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7936]
”اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر تعجب نہیں ہوتا؟“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7936]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [خ د ن هـ] عن ابن عباس. المشكاة 3199.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7947. يا عباس! يا عماه! ألا أعطيك؟ ألا أمنحك ألا أحبوك؟ ....
اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں تمہیں کچھ نہ ....
حدیث نمبر: 7937
«يا عباس! يا عماه! ألا أعطيك؟ ألا أمنحك ألا أحبوك؟ ألا أفعل بك عشر خصال إذا أنت فعلت ذلك غفر الله ذنبك أوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته؟ عشر خصال: أن تصلي أربع ركعات تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة فإذا فرغت من القراءة في أول ركعة وأنت قائم قلت: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقولها وأنت راكع عشرا ثم ترفع رأسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وأنت ساجد عشرا ثم ترفع رأسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع رأسك فتقولها عشرا فذلك خمس وسبعون في كل ركعة تفعل ذلك في أربع ركعات فلوكانت ذنوبك مثل زبد البحر أو رمل عالج غفرها الله لك إن استطعت أن تصليها في كل يوم مرة فافعل فإن لم تفعل ففي كل جمعة مرة فإن لم تفعل ففي كل شهر مرة فإن لم تفعل ففي كل سنة مرة فإن لم تفعل ففي عمرك مرة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جو اگر تم کرو تو اللہ تمہارے پہلے اور پچھلے، پرانے اور نئے، غلطی سے اور جان بوجھ کر کیے گئے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف کر دے؟ وہ دس باتیں یہ ہیں: تم چار رکعت نماز پڑھو، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھو، پھر جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جاؤ اور کھڑے ہو تو پندرہ بار کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ۔ پھر رکوع کرو تو رکوع کی حالت میں دس بار یہی کہو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر سجدے میں جھکو تو سجدے کی حالت میں دس بار کہو، پھر سجدے سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر دوسرا سجدہ کرو تو دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، یہ ہر رکعت میں پچھتر کلمات ہوئے، یہ عمل چار رکعتوں میں کرو۔ پس اگر تمہارے گناہ سمندر کی جھاگ یا صحرا کی ریت کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ اگر ہو سکے تو اسے ہر روز ایک بار پڑھو، اگر نہ کر سکو تو ہر جمعہ ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر مہینے ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر سال ایک بار، اور اگر نہ کر سکو تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7937]
”اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جو اگر تم کرو تو اللہ تمہارے پہلے اور پچھلے، پرانے اور نئے، غلطی سے اور جان بوجھ کر کیے گئے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف کر دے؟ وہ دس باتیں یہ ہیں: تم چار رکعت نماز پڑھو، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھو، پھر جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جاؤ اور کھڑے ہو تو پندرہ بار کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ۔ پھر رکوع کرو تو رکوع کی حالت میں دس بار یہی کہو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر سجدے میں جھکو تو سجدے کی حالت میں دس بار کہو، پھر سجدے سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر دوسرا سجدہ کرو تو دس بار کہو، پھر سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، یہ ہر رکعت میں پچھتر کلمات ہوئے، یہ عمل چار رکعتوں میں کرو۔ پس اگر تمہارے گناہ سمندر کی جھاگ یا صحرا کی ریت کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ اگر ہو سکے تو اسے ہر روز ایک بار پڑھو، اگر نہ کر سکو تو ہر جمعہ ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر مہینے ایک بار، اگر نہ کر سکو تو ہر سال ایک بار، اور اگر نہ کر سکو تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7937]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [د ن هـ وابن خزيمة ك] عن ابن عباس. المشكاة 1328، 1329، صحيح أبي داود 1173 - 1175.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7948. يا عباس! يا عم رسول الله! سل الله العافية في ....
اے عباس! اے رسول اللہ ﷺ کے چچا! اللہ سے ....
حدیث نمبر: 7938
«يا عباس! يا عم رسول الله! سل الله العافية في الدنيا والآخرة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! اللہ سے دنیا و آخرت میں عافیت مانگو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7938]
”اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! اللہ سے دنیا و آخرت میں عافیت مانگو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7938]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ت] عن العباس. الصحيحة 1523: خد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7949. يا عبد الرحمن! اذهب بأختك فأعمرها من التنعيم
اے عبدالرحمن! اپنی بہن کو لے جاؤ اور اسے تنعیم ....
حدیث نمبر: 7939
«يا عبد الرحمن! اذهب بأختك فأعمرها من التنعيم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عبدالرحمن! اپنی بہن کو لے جاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرا دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7939]
”اے عبدالرحمن! اپنی بہن کو لے جاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرا دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7939]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق] عن عائشة. الإرواء 1090.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7950. يا عبد الرحمن! أردف أختك عائشة فأعمرها من التنعيم فإذا ....
اے عبدالرحمن! اپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھاؤ اور ....
حدیث نمبر: 7940
«يا عبد الرحمن! أردف أختك عائشة فأعمرها من التنعيم فإذا هبطت بها من الأكمة فمرها فلتحرم فإنها عمرة متقبلة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے عبدالرحمن! اپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرا دو، اور جب تم اسے لے کر ٹیلے سے اترو تو اسے حکم دو کہ وہ احرام باندھ لے، یہ ایک قبول شدہ عمرہ ہو گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7940]
”اے عبدالرحمن! اپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرا دو، اور جب تم اسے لے کر ٹیلے سے اترو تو اسے حکم دو کہ وہ احرام باندھ لے، یہ ایک قبول شدہ عمرہ ہو گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7940]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ك] عن عبد الرحمن بن أبي بكر. الإرواء 1090.»
قال الشيخ الألباني: صحيح