صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7911. يا بني عبد مناف يا بني عبد مناف! إني نذير ....
اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدِ مناف! میں تمہیں ....
حدیث نمبر: 7901
" يا بني عبد مناف يا بني عبد مناف! إني نذير إنما مثلي ومثلكم كمثل رجل رأى العدوفانطلق يريد أهله فخشي أن يسبقوه إلى أهله فجعل يهتف: يا صباحاه يا صباحاه! أتيتم أتيتم"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدِ مناف! میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے گھر والوں کو خبر کرنے کے لیے دوڑا، اور اسے خدشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے اس کے گھر والوں تک پہنچ جائے، تو وہ چیخنے لگا: خبردار ہو جاؤ! خبردار ہو جاؤ! دشمن آ گیا، دشمن آ گیا!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7901]
”اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدِ مناف! میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے گھر والوں کو خبر کرنے کے لیے دوڑا، اور اسے خدشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے اس کے گھر والوں تک پہنچ جائے، تو وہ چیخنے لگا: خبردار ہو جاؤ! خبردار ہو جاؤ! دشمن آ گیا، دشمن آ گیا!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7901]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م] عن قبيصة بن المخارق وزهير بن عمير.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7912. يا بني فهر! يا بني عدي! يا بني عبد مناف! ....
اے بنو فہر! اے بنو عدی! اے بنو عبدِ مناف! ....
حدیث نمبر: 7902
«يا بني فهر! يا بني عدي! يا بني عبد مناف! يا بني عبد المطلب! أرأيتكم لوأخبرتكم أن خيلا بالوادي تريد أن تغير عليكم أكنتم مصدقي؟ قالوا: ما جربنا عليك إلا صدقا قال: فإني نذير لكم بين يدي عذاب شديد»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو فہر! اے بنو عدی! اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدالمطلب! بتاؤ اگر میں تمہیں بتاؤں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نے آپ سے سچ کے سوا کچھ نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں تمہیں ایک سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7902]
”اے بنو فہر! اے بنو عدی! اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدالمطلب! بتاؤ اگر میں تمہیں بتاؤں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نے آپ سے سچ کے سوا کچھ نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں تمہیں ایک سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7902]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق] عن ابن عباس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7913. يا بني كعب بن لؤي! أنقذوا أنفسكم من النار يا ....
اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے ....
حدیث نمبر: 7903
«يا بني كعب بن لؤي! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني مرة بن كعب! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد شمس! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد مناف! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد المطلب! أنقذوا أنفسكم من النار يا فاطمة! أنقذي نفسك من النار فإني لا أملك لكم من الله شيئا غير أن لكم رحما سأبلها ببلالها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ شمس! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ مناف! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدالمطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، سوائے اس کے کہ تم میری رشتہ دار ہو، جس کا حق میں دنیا میں ادا کر دوں گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7903]
”اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ شمس! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ مناف! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدالمطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، سوائے اس کے کہ تم میری رشتہ دار ہو، جس کا حق میں دنیا میں ادا کر دوں گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7903]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 98.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7914. يا جابر! إذا كان واسعا فخالف بين طرفيه وإذا كان ....
اے جابر! اگر کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں ....
حدیث نمبر: 7904
«يا جابر! إذا كان واسعا فخالف بين طرفيه وإذا كان ضيقا فاشدده على حقويك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے جابر! اگر کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال لو، اور اگر تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7904]
”اے جابر! اگر کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال لو، اور اگر تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7904]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق د] عن جابر. صحيح أبي داود 644.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7915. يا جابر! ألا أبشرك بما لقي الله به أباك! ما ....
اے جابر! کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ دوں کہ ....
حدیث نمبر: 7905
«يا جابر! ألا أبشرك بما لقي الله به أباك! ما كلم الله أحدا قط إلا من وراء حجاب وكلم أباك كفاحا فقال: يا عبدي تمن علي أعطك قال: يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية فقال الرب تبارك وتعالى: إنه سبق مني أنهم إليها لا يرجعون قال: يا رب فأبلغ من ورائي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے جابر! کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ دوں کہ اللہ نے تمہارے باپ سے کس طرح ملاقات کی؟ اللہ نے کبھی کسی سے پردے کے بغیر بات نہیں کی سوائے تمہارے باپ کے، اس نے اس سے آمنے سامنے بات کی اور فرمایا: اے میرے بندے! مجھ سے مانگ، میں تجھے دوں گا۔ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری طرف سے یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹیں گے۔ اس نے عرض کیا: اے رب! تو یہ بات میرے پیچھے دنیا والوں تک پہنچا دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7905]
”اے جابر! کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ دوں کہ اللہ نے تمہارے باپ سے کس طرح ملاقات کی؟ اللہ نے کبھی کسی سے پردے کے بغیر بات نہیں کی سوائے تمہارے باپ کے، اس نے اس سے آمنے سامنے بات کی اور فرمایا: اے میرے بندے! مجھ سے مانگ، میں تجھے دوں گا۔ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری طرف سے یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹیں گے۔ اس نے عرض کیا: اے رب! تو یہ بات میرے پیچھے دنیا والوں تک پہنچا دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7905]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت هـ] عن جابر. الترغيب 2/190 - 191، السنة 802 - 803: ك ابن أبي عاصم.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7916. يا جرهد! غط فخذك فإن الفخذ عورة
اے جرہد! اپنی ران ڈھانپو، کیونکہ ران بھی ستر ہے۔
حدیث نمبر: 7906
«يا جرهد! غط فخذك فإن الفخذ عورة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے جرہد! اپنی ران ڈھانپو، کیونکہ ران بھی ستر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7906]
”اے جرہد! اپنی ران ڈھانپو، کیونکہ ران بھی ستر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7906]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ت حب ك] عن جرهد. الإرواء 269.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7917. يا حازم! أكثر من قول لا حول ولا قوة إلا ....
اے حازم! لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ (گناہوں سے ....
حدیث نمبر: 7907
«يا حازم! أكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها كنز من كنوز الجنة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے حازم! «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے) زیادہ کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7907]
”اے حازم! «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے) زیادہ کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7907]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [هـ] عن حازم بن حرملة الأسلمي. المشكاة 2319.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7918. يا حسان! أجب عن رسول الله اللهم أيده بروح القدس
اے حسان! رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دو۔ ....
حدیث نمبر: 7908
«يا حسان! أجب عن رسول الله اللهم أيده بروح القدس»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے حسان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! اسے روح القدس کے ذریعے تقویت دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7908]
”اے حسان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! اسے روح القدس کے ذریعے تقویت دے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7908]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق د ن] عن حسان وأبي هريرة. الصحيحة 1954.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7919. يا ذا الأذنين!
اے دو کانوں والے!
حدیث نمبر: 7909
«يا ذا الأذنين!»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے دو کانوں والے!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7909]
”اے دو کانوں والے!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7909]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ت] عن أنس. المشكاة 4887.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7920. يا رويفع! لعل الحياة ستطول بك بعدي فأخبر الناس أنه ....
اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو جائے، ....
حدیث نمبر: 7910
«يا رويفع! لعل الحياة ستطول بك بعدي فأخبر الناس أنه من عقد لحيته أو تقلد وترا أو استنجى برجيع دابة أو عظم فإن محمدا منه بريء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جو اپنی داڑھی کو گرہ لگائے، یا تعویذ کے طور پر کمان کی تانت پہنے، یا جانور کی گندگی یا ہڈی سے استنجا کرے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری الذمہ ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7910]
”اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جو اپنی داڑھی کو گرہ لگائے، یا تعویذ کے طور پر کمان کی تانت پہنے، یا جانور کی گندگی یا ہڈی سے استنجا کرے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری الذمہ ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7910]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ن] عن رويفع بن ثابت. صحيح أبي داود 26، المشكاة 351.»
قال الشيخ الألباني: صحيح