صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7891. يا أيها الناس! توبوا إلى ربكم فوالله إني لأتوب إلى ....
اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو، اللہ کی ....
حدیث نمبر: 7881
«يا أيها الناس! توبوا إلى ربكم فوالله إني لأتوب إلى الله عز وجل في اليوم مائة مرة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو، اللہ کی قسم! میں دن میں سو بار اللہ عزوجل کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7881]
”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو، اللہ کی قسم! میں دن میں سو بار اللہ عزوجل کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7881]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م] عن الأغر المزني. المشكاة 2325، مختصر مسلم 1916، الصحيحة 1452: د.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7892. يا أيها الناس! خذوا عني مناسككم فإني لا أدري لعلي ....
اے لوگو! اپنے حج کے مناسک مجھ سے سیکھ لو، ....
حدیث نمبر: 7882
«يا أيها الناس! خذوا عني مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد عامي هذا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! اپنے حج کے مناسک مجھ سے سیکھ لو، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید میں اس سال کے بعد حج نہ کر سکوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7882]
”اے لوگو! اپنے حج کے مناسک مجھ سے سیکھ لو، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید میں اس سال کے بعد حج نہ کر سکوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7882]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ن] عن جابر. حجة النبي صلى الله عليه وسلم ص 82، الإرواء 1059: حم، مختصر مسلم 724.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7893. يا أيها الناس! ردوا على ردائي فوالله لوأن لي بعدد ....
اے لوگو! میری چادر مجھے واپس کر دو، اللہ کی ....
حدیث نمبر: 7883
«يا أيها الناس! ردوا على ردائي فوالله لوأن لي بعدد شجر تهامة نعما لقسمته عليكم ثم لا تلقوني بخيلا ولا جبانا ولا كذوبا ; يا أيها الناس! ليس لي من هذا الفيء شيء ولا هذه الوبرة إلا الخمس والخمس مردود فيكم فأدوا الخياط والمخيط فإن الغلول يكون على أهله عارا ونارا وشنارا يوم القيامة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! میری چادر مجھے واپس کر دو، اللہ کی قسم! اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کی تعداد کے برابر بھی مویشی ہوں تو میں انہیں تم میں تقسیم کر دوں، پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا۔ اے لوگو! اس مالِ غنیمت میں سے، حتیٰ کہ اس بال کے برابر بھی، میرے لیے کچھ حلال نہیں سوائے پانچویں حصے کے، اور وہ پانچواں حصہ بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جاتا ہے، پس سوئی اور دھاگہ تک واپس کر دو، کیونکہ خیانت اس کے کرنے والے کے لیے قیامت کے دن رسوائی، آگ اور بدنامی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7883]
”اے لوگو! میری چادر مجھے واپس کر دو، اللہ کی قسم! اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کی تعداد کے برابر بھی مویشی ہوں تو میں انہیں تم میں تقسیم کر دوں، پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا۔ اے لوگو! اس مالِ غنیمت میں سے، حتیٰ کہ اس بال کے برابر بھی، میرے لیے کچھ حلال نہیں سوائے پانچویں حصے کے، اور وہ پانچواں حصہ بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جاتا ہے، پس سوئی اور دھاگہ تک واپس کر دو، کیونکہ خیانت اس کے کرنے والے کے لیے قیامت کے دن رسوائی، آگ اور بدنامی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7883]
تخریج الحدیث: «(حسن) [حم ن] عن ابن عمرو. الصحيحة 1973، المشكاة 4025.»
قال الشيخ الألباني: حسن
7894. يا أيها الناس! عليكم بالسكينة فإن البر ليس بإيجاف الخيل ....
اے لوگو! سکون اختیار کرو، کیونکہ نیکی گھوڑوں اور اونٹوں ....
حدیث نمبر: 7884
«يا أيها الناس! عليكم بالسكينة فإن البر ليس بإيجاف الخيل والإبل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! سکون اختیار کرو، کیونکہ نیکی گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7884]
”اے لوگو! سکون اختیار کرو، کیونکہ نیکی گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7884]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ك] عن ابن عباس. خ: حج.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7895. يا أيها الناس! عليكم بالسكينة والوقار فإن البر ليس في ....
اے لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو، کیونکہ نیکی اونٹوں ....
حدیث نمبر: 7885
«يا أيها الناس! عليكم بالسكينة والوقار فإن البر ليس في إيضاع الإبل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو، کیونکہ نیکی اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7885]
”اے لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو، کیونکہ نیکی اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7885]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ن] عن أسامة بن زيد. خ: حج - ابن عباس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7896. يا أيها الناس! عليكم بالقصد عليكم بالقصد عليكم بالقصد فإن ....
اے لوگو! میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، ....
حدیث نمبر: 7886
«يا أيها الناس! عليكم بالقصد عليكم بالقصد عليكم بالقصد فإن الله تعالى لن يمل حتى تملوا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اجر دینے سے نہیں تھکے گا جب تک تم عمل کرنے سے نہ تھک جاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7886]
”اے لوگو! میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اجر دینے سے نہیں تھکے گا جب تک تم عمل کرنے سے نہ تھک جاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7886]
تخریج الحدیث: «(حسن) [هـ] عن جابر. صحيح أبي داود 1238.»
قال الشيخ الألباني: حسن
7897. يا أيها الناس! عليكم من الأعمال ما تطيقون فإن الله ....
اے لوگو! جتنے اعمال کی تم طاقت رکھو اتنے ہی ....
حدیث نمبر: 7887
«يا أيها الناس! عليكم من الأعمال ما تطيقون فإن الله لا يمل حتى تملوا وإن أحب الأعمال إلى الله ما دووم عليه وإن قل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! جتنے اعمال کی تم طاقت رکھو اتنے ہی کرو، کیونکہ اللہ اجر دینے سے نہیں تھکتا جب تک تم عمل کرنے سے نہ تھک جاؤ، اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7887]
”اے لوگو! جتنے اعمال کی تم طاقت رکھو اتنے ہی کرو، کیونکہ اللہ اجر دینے سے نہیں تھکتا جب تک تم عمل کرنے سے نہ تھک جاؤ، اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7887]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق] عن عائشة. صحيح أبي داود 1238.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7898. يا أيها الناس! ما لكم حين نابكم شيء في الصلاة ....
اے لوگو! تمہیں کیا ہوا کہ جب نماز میں تمہیں ....
حدیث نمبر: 7888
«يا أيها الناس! ما لكم حين نابكم شيء في الصلاة أخذتم في التصفيق؟ إنما التصفيق للنساء من نابه شيء في صلاته فليقل: سبحان الله فإنه لا يسمعه أحد حين يقول: سبحان الله إلا التفت»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! تمہیں کیا ہوا کہ جب نماز میں تمہیں کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو تم تالی بجانے لگتے ہو؟ تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے، جسے نماز میں کوئی معاملہ پیش آئے وہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» (اللہ پاک ہے) کہے، کیونکہ جب کوئی «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتا ہے تو جو بھی اسے سنتا ہے وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7888]
”اے لوگو! تمہیں کیا ہوا کہ جب نماز میں تمہیں کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو تم تالی بجانے لگتے ہو؟ تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے، جسے نماز میں کوئی معاملہ پیش آئے وہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» (اللہ پاک ہے) کہے، کیونکہ جب کوئی «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتا ہے تو جو بھی اسے سنتا ہے وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7888]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [خ] عن سهل بن سعد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7899. يا أيها الناس! هل تدرون لم جمعتكم؟ إني والله ما ....
اے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں ....
حدیث نمبر: 7889
"يا أيها الناس! هل تدرون لم جمعتكم؟ إني والله ما جمعتكم لرغبة ولا لرهبة ولكن جمعتكم لأن تميما الداري كان رجلا نصرانيا فجاء فبايع وأسلم وحدثني حديثا وافق الذي كنت أحدثكم عن المسيح الدجال ; حدثني أنه ركب في سفينة بحرية مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام فلعب بهم الموج شهرا في البحر ثم ارفئوا إلى جزيرة في البحر حين غروب الشمس فجلسوا في أقرب السفينة فدخلوا الجزيرة فلقيهم دابة أهلب كثير الشعر لا يدرون ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقالوا: ويلك ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة قالوا: وما الجساسة؟ قالت: أيها القوم انطلقوا إلى هذا الرجل في الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق قال: لما سمت لنا رجلا فرقنا منها أن تكون شيطانة فانطلقنا سراعا حتى دخلنا باب الدير فإذا فيه أعظم إنسان رأيناه قط خلقا وأشده وثاقا مجموعة يداه إلى عنقه ما بين ركبتيه إلى كعبيه بالحديد قلنا: ويلك ما أنت؟ قال: قد قدرتم على خبري فأخبروني ما أنتم؟ قالوا: نحن أناس من العرب ركبنا في سفينة بحرية فصادفنا البحر حين اغتلم فلعب بنا الموج شهرا ثم أرفأنا إلى جزيرتك هذه فجلسنا في أقربها فدخلنا الجزيرة فلقيتنا دابة أهلب كثير الشعر ما يدري ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقلنا ويلك ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة قلنا وما الجساسة؟ قالت اعمدوا إلى هذا الرجل في الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق فأقبلنا إليك سراعا وفرقنا منها ولم نأمن أن تكون شيطانة قال: أخبروني عن نخل بيسان قلنا: عن أي شأنها تستخبر؟ قال: أسألكم عن نخلها هل يثمر؟ قلنا له: نعم قال: أما إنها يوشك أن لا تثمر قال: أخبروني عن بحيرة طبرية؟ قلنا: عن أي شأنها تستخبر؟ قال: هل فيها ماء؟ قلنا: هي كثيرة الماء قال: إن ماءها يوشك أن يذهب قال: أخبروني عن عين ذعر قلنا: عن أي شأنها تستخبر؟ قال هل في العين ماء؟ وهل يزرع أهلها بماء العين؟ قلنا له: نعم هي كثيرة الماء وأهلها يزرعون من مائها قال: أخبروني عن نبي الأميين ما فعل؟ قالوا: قد خرج من مكة ونزل يثرب قال: أقاتله العرب؟ قلنا: نعم قال: كيف صنع بهم فأخبرناه أنه قد ظهر على من يليه من العرب وأطاعوه قال: قد كان ذلك! قلنا: نعم قال أما إن ذلك خير لهم أن يطيعوه وإني أخبركم عني أنا المسيح وإني أوشك أن يؤذن لي بالخروج فأخرج فأسير في الأرض فلا أدع قرية إلا هبطتها في أربعين ليلة غير مكة وطيبة هما محرمتان على كلتاهما كلما أردت أن أدخل واحدة منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدني عنها وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها ألا أخبركم؟ هذه طيبة هذه طيبة هذه طيبة ألا كنت حدثتكم ذلك؟ فإنه أعجبني حديث تميم أنه وافق الذي كنت أحدثكم عنه وعن المدينة ومكة ألا إنه في بحر الشام أو في بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ما هومن قبل المشرق ما هومن قبل المشرق ما هو"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کسی رغبت یا خوف کی وجہ سے جمع نہیں کیا، بلکہ اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری - جو پہلے عیسائی تھا، پھر آ کر بیعت کر کے مسلمان ہو گیا - نے مجھے ایک ایسا واقعہ سنایا جو اس بات سے ملتا جلتا ہے جو میں تمہیں مسیح دجال کے بارے میں بتاتا رہا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک سمندری جہاز پر لخم اور جذام قبیلوں کے تیس آدمیوں کے ساتھ سوار ہوا، تو سمندر میں لہریں انہیں ایک مہینے تک ادھر ادھر کھیلاتی رہیں، پھر وہ سورج غروب ہونے کے وقت سمندر کے ایک جزیرے کے کنارے آ لگے، تو وہ کشتی کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے، تو انہیں ایک بہت بالوں والا جانور ملا، اتنے زیادہ بال کہ اس کے آگے اور پیچھے کا پتا نہیں چلتا تھا۔ انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس! تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں۔ انہوں نے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اے لوگو! اس آدمی کے پاس چلے جاؤ جو اس خانقاہ میں ہے، کیونکہ وہ تمہاری خبر سننے کا بہت مشتاق ہے۔ تمیم نے کہا: جب اس نے ہمارے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا تو ہمیں اس سے ڈر لگا کہ کہیں یہ خود شیطانہ نہ ہو، تو ہم جلدی سے چل پڑے یہاں تک کہ خانقاہ کے دروازے میں داخل ہو گئے، تو وہاں ہم نے سب سے بڑا اور سخت جکڑا ہوا انسان دیکھا جو ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے باندھے ہوئے تھے اور اس کے دونوں گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیریں تھیں۔ ہم نے پوچھا: تجھ پر افسوس! تو کیا ہے؟ اس نے کہا: تم میری خبر معلوم کر سکتے ہو، پہلے مجھے بتاؤ تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں، ہم ایک سمندری جہاز میں سوار ہوئے تھے، سمندر جوش میں آ گیا، تو لہریں ہمیں ایک مہینے تک کھیلاتی رہیں، پھر ہم تمہارے اس جزیرے پر آ لگے، تو ہم کشتی کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے، تو ہمیں ایک بہت بالوں والا جانور ملا، اتنے زیادہ بال کہ اس کے آگے اور پیچھے کا پتا نہیں چلتا تھا، ہم نے کہا: تجھ پر افسوس! تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں۔ ہم نے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اس آدمی کے پاس چلے جاؤ جو خانقاہ میں ہے، کیونکہ وہ تمہاری خبر سننے کا مشتاق ہے، تو ہم جلدی سے تیری طرف چلے آئے، ہمیں اس سے خوف محسوس ہوا اور ہمیں یقین نہ ہو سکا کہ کہیں یہ شیطانہ نہ ہو۔ اس نے کہا: مجھے بیسان کے کھجور کے درختوں کے بارے میں بتاؤ۔ ہم نے پوچھا: تم اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: خبردار! قریب ہے کہ وہ پھل دینا چھوڑ دیں۔ اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے پوچھا: اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے؟ ہم نے کہا: اس میں بہت پانی ہے۔ اس نے کہا: قریب ہے کہ اس کا پانی ختم ہو جائے۔ اس نے کہا: مجھے چشمۂ زغر کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے پوچھا: اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس چشمے میں پانی ہے؟ اور کیا اس کے لوگ اس چشمے کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس میں بہت پانی ہے اور اس کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے امیوں کے نبی کے بارے میں بتاؤ، انہوں نے کیا کیا؟ ہم نے کہا: وہ مکہ سے نکل کر یثرب میں آ بسے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا عرب نے ان سے جنگ کی؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے پوچھا: انہوں نے عرب کے ساتھ کیا کیا؟ تو ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے قریبی عربوں پر غالب آ گئے ہیں اور انہوں نے ان کی اطاعت اختیار کر لی ہے۔ اس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہو چکا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: یہی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں۔ اور اب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں: میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے، تو میں نکلوں گا اور زمین میں سیر کروں گا، اور کوئی بستی ایسی نہیں چھوڑوں گا جس میں چالیس راتوں کے اندر نہ اتروں، سوائے مکہ اور مدینہ کے، یہ دونوں مجھ پر حرام ہیں، جب بھی میں ان میں سے کسی ایک میں داخل ہونا چاہوں گا تو ایک فرشتہ ننگی تلوار لیے میرا استقبال کرے گا اور مجھے روک دے گا، اور ان کے ہر راستے پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں؟ یہ مدینہ ہے، یہ مدینہ ہے، یہ مدینہ ہے۔ کیا میں نے یہ بات تمہیں پہلے نہیں بتائی تھی؟ مجھے تمیم کی یہ بات اس لیے پسند آئی کہ یہ اس بات سے ملتی جلتی ہے جو میں نے تمہیں اس کے، مدینہ کے اور مکہ کے بارے میں بتائی تھی۔ خبردار! وہ دجال شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، بلکہ نہیں، وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا، وہ مشرق کی طرف سے ہے، وہ مشرق کی طرف سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7889]
”اے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کسی رغبت یا خوف کی وجہ سے جمع نہیں کیا، بلکہ اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری - جو پہلے عیسائی تھا، پھر آ کر بیعت کر کے مسلمان ہو گیا - نے مجھے ایک ایسا واقعہ سنایا جو اس بات سے ملتا جلتا ہے جو میں تمہیں مسیح دجال کے بارے میں بتاتا رہا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک سمندری جہاز پر لخم اور جذام قبیلوں کے تیس آدمیوں کے ساتھ سوار ہوا، تو سمندر میں لہریں انہیں ایک مہینے تک ادھر ادھر کھیلاتی رہیں، پھر وہ سورج غروب ہونے کے وقت سمندر کے ایک جزیرے کے کنارے آ لگے، تو وہ کشتی کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے، تو انہیں ایک بہت بالوں والا جانور ملا، اتنے زیادہ بال کہ اس کے آگے اور پیچھے کا پتا نہیں چلتا تھا۔ انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس! تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں۔ انہوں نے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اے لوگو! اس آدمی کے پاس چلے جاؤ جو اس خانقاہ میں ہے، کیونکہ وہ تمہاری خبر سننے کا بہت مشتاق ہے۔ تمیم نے کہا: جب اس نے ہمارے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا تو ہمیں اس سے ڈر لگا کہ کہیں یہ خود شیطانہ نہ ہو، تو ہم جلدی سے چل پڑے یہاں تک کہ خانقاہ کے دروازے میں داخل ہو گئے، تو وہاں ہم نے سب سے بڑا اور سخت جکڑا ہوا انسان دیکھا جو ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے باندھے ہوئے تھے اور اس کے دونوں گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیریں تھیں۔ ہم نے پوچھا: تجھ پر افسوس! تو کیا ہے؟ اس نے کہا: تم میری خبر معلوم کر سکتے ہو، پہلے مجھے بتاؤ تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں، ہم ایک سمندری جہاز میں سوار ہوئے تھے، سمندر جوش میں آ گیا، تو لہریں ہمیں ایک مہینے تک کھیلاتی رہیں، پھر ہم تمہارے اس جزیرے پر آ لگے، تو ہم کشتی کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے، تو ہمیں ایک بہت بالوں والا جانور ملا، اتنے زیادہ بال کہ اس کے آگے اور پیچھے کا پتا نہیں چلتا تھا، ہم نے کہا: تجھ پر افسوس! تو کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں۔ ہم نے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اس آدمی کے پاس چلے جاؤ جو خانقاہ میں ہے، کیونکہ وہ تمہاری خبر سننے کا مشتاق ہے، تو ہم جلدی سے تیری طرف چلے آئے، ہمیں اس سے خوف محسوس ہوا اور ہمیں یقین نہ ہو سکا کہ کہیں یہ شیطانہ نہ ہو۔ اس نے کہا: مجھے بیسان کے کھجور کے درختوں کے بارے میں بتاؤ۔ ہم نے پوچھا: تم اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: خبردار! قریب ہے کہ وہ پھل دینا چھوڑ دیں۔ اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے پوچھا: اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے؟ ہم نے کہا: اس میں بہت پانی ہے۔ اس نے کہا: قریب ہے کہ اس کا پانی ختم ہو جائے۔ اس نے کہا: مجھے چشمۂ زغر کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے پوچھا: اس کے بارے میں کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس چشمے میں پانی ہے؟ اور کیا اس کے لوگ اس چشمے کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس میں بہت پانی ہے اور اس کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے امیوں کے نبی کے بارے میں بتاؤ، انہوں نے کیا کیا؟ ہم نے کہا: وہ مکہ سے نکل کر یثرب میں آ بسے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا عرب نے ان سے جنگ کی؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے پوچھا: انہوں نے عرب کے ساتھ کیا کیا؟ تو ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے قریبی عربوں پر غالب آ گئے ہیں اور انہوں نے ان کی اطاعت اختیار کر لی ہے۔ اس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہو چکا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: یہی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں۔ اور اب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں: میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے، تو میں نکلوں گا اور زمین میں سیر کروں گا، اور کوئی بستی ایسی نہیں چھوڑوں گا جس میں چالیس راتوں کے اندر نہ اتروں، سوائے مکہ اور مدینہ کے، یہ دونوں مجھ پر حرام ہیں، جب بھی میں ان میں سے کسی ایک میں داخل ہونا چاہوں گا تو ایک فرشتہ ننگی تلوار لیے میرا استقبال کرے گا اور مجھے روک دے گا، اور ان کے ہر راستے پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں؟ یہ مدینہ ہے، یہ مدینہ ہے، یہ مدینہ ہے۔ کیا میں نے یہ بات تمہیں پہلے نہیں بتائی تھی؟ مجھے تمیم کی یہ بات اس لیے پسند آئی کہ یہ اس بات سے ملتی جلتی ہے جو میں نے تمہیں اس کے، مدینہ کے اور مکہ کے بارے میں بتائی تھی۔ خبردار! وہ دجال شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، بلکہ نہیں، وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا، وہ مشرق کی طرف سے ہے، وہ مشرق کی طرف سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7889]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م] عن فاطمة بنت قيس. مختصر مسلم 2054.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7900. يا أيها الناس! لا يقتل بعضكم بعضا ولا يصب بعضكم ....
اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ ....
حدیث نمبر: 7890
«يا أيها الناس! لا يقتل بعضكم بعضا ولا يصب بعضكم بعضا وإذا رميتم الجمرة فارموا بمثل حصى الخذف»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاؤ، اور جب جمرے کو کنکریاں مارو تو چھوٹے کنکر کے برابر کنکریاں مارو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7890]
”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاؤ، اور جب جمرے کو کنکریاں مارو تو چھوٹے کنکر کے برابر کنکریاں مارو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7890]
تخریج الحدیث: «(حسن) [حم د هـ1] عن أم جندب. الصحيحة 2445.»
قال الشيخ الألباني: حسن