🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
73. الحسن بن أبي الحسن البصري، عن كعب بن عجرة
حسن بن ابی حسن بصری کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16407
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ يُوسُفَ الْعُقَيْلِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ السِّرَاجُ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أَعَاذَكَ اللهُ مِنْ أُمَرَاءَ يَكُونُونَ بَعْدِي، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! اللہ تمہیں ان حکمرانوں سے پناہ دے جو میرے بعد آئیں گے، جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ کبھی حوض پر نہیں آئے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16407]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 160، حدیث 358»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. محمد بن سيرين، عن كعب بن عجرة
محمد بن سیرین کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ، فَقَالَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ» ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا اور اسے قریب بتایا، اتنے میں ایک چہرہ ڈھانپے ہوئے آدمی گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس دن حق پر ہو گا۔“ میں اس کی طرف اٹھا اور اس کے دونوں بازو پکڑ کر اس کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16408]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 161، حدیث 359»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16409
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا اور اسے قریب بتایا، پھر راوی نے آگے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16409]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 161، حدیث 360»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. أبو بكر بن بشير، عن كعب بن عجرة
ابوبکر بن بشیر کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16410
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ، وَلَا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَلَا دَمٌ نَبَتَا مِنْ سُحْتٍ، كُلُّ لَحْمٍ وَدَمٍ نَبَتَا مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِمَا، يا كعب بن عجرة، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ غَادِيَانِ رَائِحَانِ فَغَادٍ فِي فَكَاكِ رَقَبَتِهِ فَمُعْتِقُهَا وَغَادٍ فَمُوبِقُهَا يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ»
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ غَادِيَانِ رَائِحَانِ فَغَادٍ فِي فَكَاكِ رَقَبَتِهِ فَمُعْتِقُهَا وَغَادٍ فَمُوبِقُهَا»
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم پر ایسے حکمران ہوں کہ جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر نہیں آئے گا۔ اور جو ان کے پاس جائے مگر ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اے کعب بن عجرہ! حرام کمائی سے پلا ہوا گوشت اور خون کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جو بھی گوشت اور خون حرام کمائی سے پلا ہو، آگ اس کی زیادہ حق دار ہے۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ صبح و شام دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو اپنی گردن آزاد کروانے میں لگا ہے تو اسے آزاد کروانے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اسے ہلاک کرنے والا ہے۔ اے کعب بن عجرہ! نماز دلیل ہے، اور روزہ ڈھال ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! لوگ صبح و شام دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو اپنی گردن آزاد کروانے میں لگا ہے تو اسے آزاد کروانے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اسے ہلاک کرنے والا ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! نماز دلیل ہے، اور روزہ ڈھال ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16410]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 162، حدیث 361»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. أبو الأشعث الصنعاني، عن كعب بن عجرة
ابوالاشعث صنعانی کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16411
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ثنا أَبُو قَحْذَمَ، عَنْ أبِي قِلَابَةَ، عَنْ أبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتَنِ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ، فَقَالَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى الْهُدَى» ، فَقُمْتُ فَلَحِقْتُهُ فَكَشَفْتُ الْقِنَاعَ عَنْ رَأْسِهِ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا؟، قَالَ: «نَعَمْ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فتنوں کے بارے میں بتا رہے تھے، اتنے میں ایک چہرہ ڈھانپے ہوئے آدمی گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور اس کے ساتھی اس دن ہدایت پر ہوں گے۔“ میں کھڑا ہوا اور اس تک پہنچ کر اس کے سر سے نقاب ہٹایا تو دیکھا وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16411]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 162، حدیث 362»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. أم حميد بنت عبيد بن رفاعة، عن كعب بن عجرة
ام حمید بنت عبید بن رفاعہ کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16412
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَتْنِي حُمَيْدَةُ بِنْتُ عُبَيْدٍ، عَنْ أُمِّهَا، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: «رَقِيتُ وَقَدْ عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو فرمایا: ”میں چڑھا حالانکہ مجھے شبِ قدر کا علم دیا گیا تھا، پھر مجھے بھلا دیا گیا، تو اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16412]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 162، حدیث 363»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. رجل من الأنصار، عن كعب بن عجرة
انصار کے ایک شخص کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16413
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة: «أَنَّهُ أَصَابَهُ أَذًى فِي رَأْسِهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَيَفْدِيَ بِبَقَرَةٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں سر میں تکلیف پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ سر منڈوا لیں اور ایک گائے فدیے میں دیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16413]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 163، حدیث 364»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16414
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ الْمَدَنِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة أَنَّهُ أَصَابَهُ أَذًى فِي رَأْسِهِ فَحَلَقَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَاذَا أَنْسُكُ؟، فَأَمَرَهُ أَنْ يَهْدِيَ هَدْيًا يُقَلِّدُهَا ثُمَّ يَسُوقُهَا حَتَّى يُوقِفَهَا بِعَرَفَةَ مَعَ النَّاسِ ثُمَّ يَدْفَعُ بِهَا مَعَ النَّاسِ وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْهَدْيِ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں سر میں تکلیف پہنچی تو انہوں نے سر منڈوا لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں کس چیز کی قربانی دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایک ہدی (قربانی کا جانور) لے کر اسے قلادہ پہنائیں، پھر اسے ساتھ لے کر چلیں یہاں تک کہ لوگوں کے ساتھ اسے عرفہ میں ٹھہرائیں، پھر لوگوں کے ساتھ ہی اسے لے کر واپس آئیں، اور ہدی کے ساتھ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16414]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 163، حدیث 365»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. كعب بن عمرو أبو اليسر الأنصاري ثم الخزرجي عقبي بدري
سیدنا کعب بن عمرو، ابوالیسر انصاری پھر خزرجی رضی اللہ عنہ، عقبہ اور بدر میں شریک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16415
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا»
عروہ بیان کرتے ہیں: عقبہ میں حاضر ہونے والے انصار میں سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو بن عباد رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، اور انہوں نے بدر میں بھی شرکت کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16415]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 163، حدیث 366»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16416
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ أَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَنْمِ بْنِ سَوَّادِ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ»
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: بدر میں شریک ہونے والے انصار، پھر بنو خزرج میں سے ابو الیسر سیدنا کعب بن عمرو بن عباد بن عمرو بن غنم بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16416]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 164، حدیث 367»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں