🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
60. سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن كعب بن عجرة
سعید بن ابی سعید مقبری کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16387
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ أبِي مَعْشَرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ يُرِيدُ الصَّلَاةَ إِلَّا كَانَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، فَلَا يُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلَاةِ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی بھی اپنے گھر میں وضو کرے، پھر نماز کے ارادے سے نکلے، وہ اس وقت تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے جب تک اپنی نماز پوری نہ کر لے، تو نماز کی حالت میں اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16387]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 153، حدیث 337»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. سليمان بن يسار، عن كعب بن عجرة
سلیمان بن یسار کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، «أَنَّهُ ذَبَحَ بَقَرَةً»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گائے ذبح کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16388]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 154، حدیث 339»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين، عن كعب بن عجرة
ابوجعفر محمد بن علی بن حسین کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16389
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: حَدَّثْ بِمَا سَمِعْتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا تَحِلُّ بِنْتُ الْأَخِ وَلَا بِنْتُ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ»
ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین کہتے ہیں: میں نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا ہے وہ بیان کیجیے۔ تو انہوں نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”رضاعت سے بھائی کی بیٹی اور بہن کی بیٹی حلال نہیں ہوتیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16389]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 154، حدیث 340»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. أبو بكر بن حفص بن عمر بن سعد، عن كعب بن عجرة
ابوبکر بن حفص بن عمر بن سعد کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ أبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟، فَقَالَ:" تَقُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں معلوم ہو گیا کہ آپ پر سلام کیسے بھیجیں، تو آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوں کہو: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسے رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسے برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16390]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 154، حدیث 341»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16391
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16391]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 154، حدیث 342»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. عبد الله بن أبي الحسين، عن كعب بن عجرة
عبداللہ بن ابی حسین کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16392
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى خَيْرِ أَخْلَاقِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأخرةِ؟، مَنْ وَصَلَ مَنْ قَطَعَهُ، وَعَفَا عَمَّنْ ظَلَمَهُ، وَأَعْطَى مَنْ حَرَمَهُ» . قَالَ لُوَيْنُ:" يُقَالُ وَاللهُ أَعْلَمُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ يُكْنَى أَبَا الْحُسَيْنِ. وَرَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں دنیا اور آخرت والوں کے بہترین اخلاق نہ بتاؤں؟ جو اس سے تعلق جوڑے جو اس سے کاٹے، جو اسے معاف کرے جو اس پر ظلم کرے، اور جو اسے دے جو اسے محروم رکھے۔“
لوین (راوی) کہتے ہیں: واللہ اعلم، کہا جاتا ہے کہ عبداللہ بن ابی الحسین کی کنیت ابو الحسین ہے۔ اور ابو الاحوص نے ابو اسحاق سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی الحسین سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث فرمائی، اور اس روایت میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16392]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 155، حدیث 343»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. المسور بن رفاعة القرظي، عن كعب بن عجرة
مسور بن رفاعہ قرظی کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16393
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبُّودٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَيْنِ: أَمَا أَحَدُهُمَا فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقِيلَ: هَذَا فُلَانٌ، وَبِئْسَ الرَّجُلُ، وَأُثْنِيَ عَلَيْهِ شَرًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟» ، فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «وَجَبَتْ» ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَالُوا: هَذَا فُلَانٌ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ: «تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟» ، فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «وَجَبَتْ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مجلسیں دیکھیں: ایک میں ایک جنازہ لایا گیا تو کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے، اور وہ برا آدمی تھا، اور اس کی برائی بیان کی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ معلوم ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی (یعنی اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی)۔“ اور دوسری مجلس میں ایک آدمی کا جنازہ لایا گیا تو کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے، اور اس کی اچھائی بیان کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ معلوم ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی (یعنی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی)۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16393]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 156، حدیث 344»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. حدير مولى زينب بنت جحش، عن كعب
حدیر، سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16394
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا لَيْثٌ، عَنِ الْحُدَيْرِ، مَوْلًى لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَفِينَا سِتَّةٌ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَأَمْضَى لَهُمْ مَكْرَهُمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ وَلَا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم نو آدمی تھے اور ہم میں سے چھ عجمی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب کچھ حکمران ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے اور ان کی چالبازی ان کے لیے نافذ کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر نہیں آئے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16394]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 156، حدیث 345»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. أبو يحيى مولى جعدة بن هبيرة، عن كعب بن عجرة
ابویحییٰ، جعدہ بن ہبیرہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أبِي يَحْيَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُدِيرَ الرَّجُلُ أَمَرَ خَمْسِينَ امْرَأَةٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایک مرد پچاس عورتوں کا نظم و نسق نہ سنبھالے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16395]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 156، حدیث 346»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. يحيى بن جعدة بن هبيرة، عن كعب بن عجرة
یحییٰ بن جعدہ بن ہبیرہ کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16396
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ مِنَ الْقَمْلِ، ثُمَّ قَالَ: «صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ أَوِ اذْبَحْ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جوؤں کی وجہ سے سر منڈوانے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”تین دن روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو دو دو مد کھلاؤ، یا قربانی کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16396]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 157، حدیث 347»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں