🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
87. سالم بن أبي الجعد، عن أبي اليسر
سالم بن ابی جعد کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16427
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْيَسَرِ الْأَنْصَارِيُّ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ، فَقَالَ: بَعَثَنِي فِي كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُ مُؤْتَةَ، فَلَمَّا صَفَّ الْقَوْمُ رَكِبَ جَعْفَرٌ فَرَسَهُ وَلَبِسَ الدِّرْعَ وَأَخَذَ اللِّوَاءَ وَمَشَى حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ، ثُمَّ نَادَى: مَنْ يُبَلِّغُ هَذِهِ صَاحِبَهَا؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا، فَبَعَثَ بِهَا ثُمَّ تَقَدَّمَ فَضَرَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى قُتِلَ، فَتَحَدَّرَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُمُوعًا، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُكَلِّمْنَا، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعَصْرُ فَخَرَجَ فَصَلَّى، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُكَلِّمْنَا، فَفَعَلَ كَذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَدَخَلَ وَلَا يُكَلِّمُنَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الْفَجْرِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي كَانَ يَخْرُجُ فِيهَا، وَأَنَا وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ جُلُوسٌ فَجَلَسَ بَيْنَنَا وَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ رُؤْيَا رَأَيْتُهَا؟ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ جَعْفَرًا ذَا جَنَاحَيْنِ مُضَرَّجَيْنِ بِالدِّمَاءِ، وَزَيْدٌ مُقَابِلَهُ، وَابْنُ رَوَاحَةَ مَعَهُمْ كَأَنَّهُ يُعْرِضُ عَنْهُمْ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، إِنَّ جَعْفَرًا حِينَ تَقَدَّمَ فَرَأَى الْقَتْلَ لَمْ يَصْرِفْ وَجْهَهُ، وَزَيْدٌ كَذَلِكَ، وَابْنُ رَوَاحَةَ صَرَفَ وَجْهَهُ»
سیدنا ابو الیسر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ ابوعامر اشعری آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں فلاں کام کے لیے بھیجا تھا، پھر میں موتہ پہنچا، جب لوگوں نے صفیں باندھ لیں تو جعفر اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، زرہ پہنی، جھنڈا تھاما اور چلتے چلتے دشمن کے سامنے جا پہنچے، پھر پکارا: کون ہے جو یہ (چیز) اس کے مالک تک پہنچا دے؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں۔ تو انہوں نے وہ اس کے ہاتھ بھیج دی، پھر آگے بڑھے اور اپنی تلوار سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اندر تشریف لے گئے اور ہم سے کوئی بات نہ کی، پھر عصر کی اقامت ہوئی تو آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی، پھر اندر چلے گئے اور ہم سے بات نہ کی، مغرب اور عشاء میں بھی ایسا ہی کیا کہ اندر چلے جاتے اور ہم سے بات نہ کرتے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھاتے تو ہماری طرف اپنا چہرہ متوجہ کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت اس گھڑی ہمارے پاس تشریف لائے جس میں معمول کے مطابق نکلا کرتے تھے، اور میں اور ابوعامر اشعری بیٹھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ خواب نہ بتاؤں جو میں نے دیکھا؟ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جعفر کو دیکھا، ان کے دو پر تھے جو خون میں لتھڑے ہوئے تھے، اور زید ان کے سامنے تھے، اور ابن رواحہ ان کے ساتھ تھے مگر گویا وہ ان سے منہ پھیر رہے تھے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاؤں گا: جعفر جب آگے بڑھے اور موت کو دیکھا تو اپنا چہرہ نہ پھیرا، اور زید نے بھی ایسا ہی کیا، لیکن ابن رواحہ نے اپنا چہرہ پھیر لیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16427]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 167، حدیث 378»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت، عن أبي اليسر
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16428
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالُوا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أبِي حَزْرَةَ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيَنَا أَبُو الْيَسَرِ السُّلَمِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ، وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ وَضِمَامَةُ مُصْحَفٍ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: كَأَنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَعَفَةٌ مِنْ غَضِبٍ، قَالَ: نَعَمْ، كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَقُلْتُ: أَثَمَّ هُوَ؟، قَالُوا: لَا، فَخَرَجَ عَلِيَّ ابْنٌ لَهُ جَفْرٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: سَمِعَ كَلَامَكَ فَدَخَلَ فِي أَرِيكَةِ أُمِّي، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلَيَّ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ، فَخَرَجَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي؟، قَالَ: أَنَا وَاللهِ لِأُحَدِّثُكَ ثُمَّ لَا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ أَوْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتُ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللهِ مُعْسِرًا، قَالَ: آللَّهِ، فَقُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ؟، فَقُلْتُ: اللهِ، قَالَ: آللَّهِ؟، فَقُلْتُ: اللهِ، فَنَسَوْتُ الصَّحِيفَةَ فَمَحَوْتُ الْحَقَّ، وَقُلْتُ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِ وَإِلَّا فَأَنْتَ فِي حَلٍّ، فَأَشْهَدُ بَصُرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ، وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا، وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
قُلْتُ لَهُ أَنَا: يَا عَمُّ لَوْ أَنَّكَ أَخَذْتَ بُرْدَةَ غُلَامِكَ وَأَعْطَيْتَهُ مَعَافِرِيَّكَ وَأَخَذْتَ مَعَافِرِيَّهُ فَأَعْطَيْتَهُ بُرْدَتَكَ، فَكَانَ عَلَيْكَ حُلَّةٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: اللهُمَّ بَارِكْ فِيهِ، يَا ابْنَ أَخِي أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَشَارَ إِلَى عَيْنَيْهِ وَإِلَى أُذُنَيْهِ وَإِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ» ، وَكَانَ أَنْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ مَالِ الدُّنْيَا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں، ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے پہلے، علم حاصل کرنے نکلے۔ سب سے پہلے ہماری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابو الیسر سلمی رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام تھا، ان پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام پر ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا، اور (ساتھ) لکھے ہوئے اوراق کا ایک گٹھا تھا۔ میرے والد نے ان سے کہا: مجھے آپ کے چہرے پر غصے کا کچھ اثر دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں، فلاں بن فلاں حرامی پر میرا کچھ مال (قرض) تھا، میں اس کے گھر والوں کے پاس گیا اور پوچھا: کیا وہ یہاں ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر اس کا ایک نوعمر بیٹا میرے پاس نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تمہارا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا: اس نے آپ کی آواز سنی تو میری ماں کے چھپر کھٹ میں جا گھسا۔ میں نے کہا: میرے پاس نکل آؤ، مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ تم کہاں ہو۔ وہ میرے پاس نکل آیا تو میں نے کہا: تمہیں مجھ سے چھپنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو بتاتا ہوں اور آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا، اللہ کی قسم! مجھے ڈر تھا کہ آپ سے بات کروں تو جھوٹ بولوں، یا آپ سے وعدہ کروں تو وعدہ خلافی کروں، حالانکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، اور اللہ کی قسم! میں تنگ دست تھا۔ (پھر قسم پر یوں سوال و جواب ہوا:) اللہ کی قسم؟ اللہ کی قسم! اللہ کی قسم؟ اللہ کی قسم! اللہ کی قسم؟ اللہ کی قسم! پھر میں نے وہ تحریر نکالی اور اس میں سے اپنا حق مٹا دیا، اور کہا: اگر تمہیں ادائیگی کی گنجائش ملے تو ادا کر دینا، ورنہ تم بری الذمہ ہو۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا — اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں — اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا — اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں — اور میرے اس دل نے اسے یاد رکھا — اور انہوں نے اپنے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا — کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کے لیے معاف کر دے، اللہ اسے اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔“
میں نے ان سے عرض کیا: چچا جان! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے اپنی معافری چادر دے دیں، اور اس کی معافری چادر لے کر اسے اپنی چادر دے دیں، تو آپ پر بھی ایک پورا لباس ہو اور اس پر بھی ایک پورا لباس ہو؟ تو انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا: اے اللہ! اس میں برکت ڈال۔ بھتیجے! میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا، اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا — اور انہوں نے اپنی دونوں آنکھوں، دونوں کانوں اور اپنے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا — کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”انہیں (غلاموں کو) وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔“ اور مجھے یہ زیادہ پسند تھا کہ میں اسے دنیا کے مال میں سے کچھ دے دوں بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن وہ میری نیکیوں میں سے کچھ لے لے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16428]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 168، حدیث 379»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16429
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ عَمْرٍو الزَّرْقِيُّ، عَنْ أبِي حَزْرَةَ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16429]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 170، حدیث 380»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. صيفي مولى أبي أيوب، عن أبي اليسر
صیفی، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16430
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، ثنا صَيْفِيُّ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا»
سیدنا ابو الیسر سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں (عمارت وغیرہ کے نیچے) دب جانے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں بلندی سے گر جانے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں ڈوبنے اور جل جانے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے بہکا دے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں ڈسے جا کر مروں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16430]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 170، حدیث 381»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. رجل غير مسمى، عن أبي اليسر
ایک نامعلوم شخص کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16431
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ أبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16431]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 170، حدیث 382»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16432
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ أبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتَقْتُلْ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کو ضرور باغی گروہ قتل کرے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16432]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 171، حدیث 383»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16433
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ"
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں (حرہ) کے درمیانی علاقے کو حرم قرار دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16433]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 171، حدیث 384»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. كعب بن عاصم الأشعري
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16434
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ»
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16434]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 171، حدیث 385»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16435
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ السَّفِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ»
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ کشتی والوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16435]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 172، حدیث 386»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16436
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ أُمِّ بِرٍّ أُمُّ صِيَامٍ فِي أُمِّ سَّفَرٍ»
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی میں سے نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16436]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 172، حدیث 387»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں