المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. كعب بن عمرو أبو اليسر الأنصاري ثم الخزرجي عقبي بدري
سیدنا کعب بن عمرو، ابوالیسر انصاری پھر خزرجی رضی اللہ عنہ، عقبہ اور بدر میں شریک
حدیث نمبر: 16417
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ أَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَيُقَالُ إِنَّهُ آخِرُ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ»
یحیی بن بکیر کہتے ہیں: سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ پچپن ہجری میں مدینہ میں وفات پا گئے، اور کہا جاتا ہے کہ وہ اہلِ بدر میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16417]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 164، حدیث 368»
حدیث نمبر: 16418
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: «مَاتَ أَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ»
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ پچپن ہجری میں مدینہ میں وفات پا گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16418]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 164، حدیث 369»
80. عمار بن أبي اليسر، عن أبيه
عمار بن ابی یسر کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 16419
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ مُوسَى، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أَبِي الْيَسَرِ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: نَظَرْتُ يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّهُ صَنَمٌ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: جَزَاكَ اللهُ مِنْ ذِي رَحِمٍ شَرًّا، أَتُقَاتِلُ ابْنَ أَخِيكَ مَعَ عَدُوِّهِ؟، قَالَ: مَا فَعَلَ وَهَلْ أَصَابَهُ الْقَتْلُ؟، قُلْتُ: اللهُ أَعَزُّ لَهُ وَأَنْصَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: مَا تُرِيدُ إِلَيَّ؟، قُلْتُ: إِسَارٌ، لَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتَلِكَ، قَالَ: لَسْتُ أَوَّلَ صِلَبهِ، فَأَسَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بدر کے دن عباس بن عبدالمطلب کو دیکھا، وہ بت کی طرح کھڑے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، جب میں نے انہیں دیکھا تو کہا: اللہ تجھے قرابت داری کے بدلے برا بدلہ دے، کیا تو اپنے بھتیجے کے خلاف اس کے دشمن کا ساتھ دے کر لڑ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا ہوا، کیا وہ قتل ہو گیا؟ میں نے کہا: اللہ اس سے زیادہ غالب اور مددگار ہے۔ انہوں نے کہا: تو مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: قید کرنا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے کہا: میں پہلا قیدی نہیں ہوں۔ تو میں نے انہیں قیدی بنا لیا، پھر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16419]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 164، حدیث 370»
81. موسى بن طلحة، عن أبي اليسر
موسیٰ بن طلحہ کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16420
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَبْتَاعُ مِنِّي تَمْرًا، فَقُلْتُ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ تَمْرًا أَطْيَبُ مِنْهُ، فَدَخَلَتْ مَعِي الْبَيْتَ فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا فَغَمَزْتُهَا وَقَبَّلْتُهَا فَأُسْقِطَ فِي يَدَيَّ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: اسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ وَلَا تُخْبِرْ أَحَدًا، فَلَمْ أَصْبِرْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «أَخَلَفْتَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِمِثْلِ هَذَا؟» ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ إِلَّا تِلْكَ السَّاعَةِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَطْرَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ أَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ} [هود: ١١٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو الْيَسَرِ: فَأَتَيْتُهُ فَقَرَأَهَا عَلِيَّ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟، قَالَ: «بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً»
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک عورت میرے پاس کھجوریں خریدنے آئی، میں نے کہا: گھر میں اس سے بہتر کھجوریں ہیں، تو وہ میرے ساتھ گھر میں داخل ہو گئی، میں اس کی طرف جھکا، اسے دبایا اور اس کا بوسہ لے لیا، پھر میں سخت نادم ہوا۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی، تو انہوں نے کہا: اپنے آپ پر پردہ ڈالو اور کسی کو نہ بتاؤ۔ لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ایک مجاہد کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کے ساتھ اس طرح کی خیانت کی؟“ یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں ابھی اسی گھڑی اسلام لایا ہوتا، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ میں جہنمیوں میں سے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک سر جھکائے رہے، پھر اللہ نے آپ پر وحی نازل کی: ”دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کرو“ [سورۃ ھود: 114] آیت کے آخر تک۔ ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے یہ آیت مجھ پر پڑھی، تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ خاص انہی کے لیے ہے یا عام لوگوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ عام لوگوں کے لیے ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16420]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 165، حدیث 371»
82. ربعي بن حراش، عن أبي اليسر
ربعی بن حراش کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16421]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 165، حدیث 372»
83. عون بن عبد الله بن عتبة، عن أبي اليسر
عون بن عبداللہ بن عتبہ کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ لِأَبِي الْيَسَرِ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ فِي أَهْلِهِ، فَقَالَ لِجَارِيَتِهِ: قُولِي: لَيْسَ هُوَ هَهُنَا، فَسَمِعَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: اخْرُجْ قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَكَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: الْعُسْرَةُ، قَالَ: اللهَ؟، قَالَ: اللهُ، قَالَ: اذْهَبْ فَلَكَ مَا عَلَيْكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ كَانَ فِي ظِلِّ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ كَنَفِ اللهِ»
ابو الیسر رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی پر قرض تھا، وہ اس کے گھر تقاضا کرنے آئے تو اس نے اپنی باندی سے کہا: کہہ دو کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ ابو الیسر رضی اللہ عنہ نے اس کی آواز سن لی تو کہا: نکل آؤ، میں نے تمہاری آواز سن لی ہے۔ وہ ان کے پاس نکل آیا تو انہوں نے پوچھا: تجھے یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تنگ دستی نے۔ انہوں نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم۔ انہوں نے کہا: جاؤ، تمہارے ذمے جو (قرض) تھا وہ تمہارا ہوا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، وہ قیامت کے دن اللہ کے سائے یا اللہ کی پناہ میں ہو گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16422]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 166، حدیث 373»
84. محمد بن علي بن الحسين، عن أبي اليسر
محمد بن علی بن حسین کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16423
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ»
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16423]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 166، حدیث 374»
حدیث نمبر: 16424
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَظِلَّ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَلْيَنْظُرْ غَرِيمًا أَوْ يَدَعْ لِمُعْسِرٍ»
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ جہنم کی گرمی سے بچ جائے، تو اسے چاہیے کہ کسی مقروض کو مہلت دے یا تنگ دست کے لیے قرض چھوڑ دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16424]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 166، حدیث 375»
85. حنظلة بن قيس، عن أبي اليسر
حنظلہ بن قیس کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16425
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيَنْظُرْ مُعْسِرًا أَوْ لَيَضَعْ عَنْهُ»
حَدَّثَنَا
حَدَّثَنَا
سیدنا ابو الیسر بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ اللہ اسے اپنے سائے میں رکھے، تو اسے چاہیے کہ کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16425]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 167، حدیث 376»
86. أبو يونس سليم بن جبير مولى أبي هريرة، عن أبي اليسر
ابویونس سلیم بن جبیر، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16426
مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو يُونُسَ، أَنَّ أَبَا الْيَسَرِ، حَدَّثَهُ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ» أَوَّلَ النَّاسِ يَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِرَجُلٌ أَنْظَرَ مُعْسِرًا حَتَّى يَجِدَ شَيْئًا أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا يَطْلُبُهُ، يَقُولُ مَا لِي عَلَيْكَ صَدَقَةٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ وَيَحْرِقُ صَحِيفَتَهُ"
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے اللہ کے سائے میں سایہ پانے والا وہ آدمی ہو گا جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یہاں تک کہ اسے کچھ استطاعت ہو، یا اس کا مطلوبہ قرض اسے صدقہ کر دیا، وہ کہے: میرا تجھ پر کوئی قرض نہیں، محض اللہ کی رضا کے لیے، اور اپنی تحریر (دستاویز) جلا دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16426]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 167، حدیث 377»