سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
کوئی بیماری متعدی نہیں ہے «صفر» اور «غول» کی حقیقت
ترقیم الباني: 785 ترقیم فقہی: -- 222
-" لا عدوى ولا صفر ولا هامة".
سیدنا سائب بن یزید بن اخت نمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ ہی صفر کچھ ہے اور نہ الو (وغیرہ کی نفع و نقصان میں کوئی حقیقت ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 222]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 785
ترقیم الباني: 787 ترقیم فقہی: -- 223
-" لا عدوى ولا طيرة وأحب الفأل الصالح".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ فال بد کوئی چیز ہے، البتہ مجھے نیک فال پسند ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 223]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 787
ترقیم الباني: 788 ترقیم فقہی: -- 224
-" لا عدوى ولا طيرة وإنما الشؤم في ثلاثة: المرأة والفرس والدار".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ فال بد کوئی چیز ہے اور تین چیزوں میں بدشگونی (یا نحوست) ہوتی ہے: بیوی، گھوڑا اور گھر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 224]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 788
ترقیم الباني: 781 ترقیم فقہی: -- 225
-" لا عدوى ولا طيرة والعين حق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ برے شگون کی کوئی حقیقت ہے اور نظر لگنا حق ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 225]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 781
ترقیم الباني: 782 ترقیم فقہی: -- 226
-" لا عدوى ولا طيرة ولا صفر ولا هامة، فقال أعرابي: ما بال الإبل تكون في الرمل كأنها الظباء فيخالطها بعير أجرب فيجربها؟ قال: فمن أعدى الأول؟".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں اور نہ ہی بدشگونی ہے اور صفر کا مہینہ منحوس ہے نہ ہی الو (کی کوئی حقیقت ہے)۔“ ایک بدو نے کہا: تو پھر ایک اونٹ جب ریت میں ہرن کی طرح چل رہا ہوتا ہے (یعنی صحت مند ہوتا ہے)، لیکن جب خارشی اونٹ اس سے خلط ملظ ہوتا ہے تو اسے بھی خارش لگ جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اچھا یہ بتلاؤ کہ) پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی؟“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 226]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 782
ترقیم الباني: 784 ترقیم فقہی: -- 227
-" لا عدوى ولا طيرة ولا غول".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ فال بد کی کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی غول ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 227]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 784
ترقیم الباني: 789 ترقیم فقہی: -- 228
-" لا عدوى ولا طيرة ولا هام إن تكن الطيرة في شيء ففي الفرس والمرأة والدار، وإذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تهبطوا، وإذا كان بأرض وأنتم بها فلا تفروا منه".
سعید بن مسیب کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابووقاص رضی اللہ عنہ سے بدشگونی کے بارے میں پوچھا: انہوں نے مجھے جھڑک دیا اور کہا: تجھے یہ کس نے بیان کیا؟ میں نے ناپسند کیا کہ بیان کرنے والے کا نام بتاؤں۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ کوئی بدفال ہے اور نہ الو کا بولنا کوئی اثر رکھتا ہے، اگر بدشگونی ہوتی تو گھوڑے، بیوی اور گھر میں ہوتی۔ جب تم سنو کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم اسی علاقہ میں ہو تو وہاں سے مت نکلو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 228]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 789
ترقیم الباني: 783 ترقیم فقہی: -- 229
-" لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر وفر من المجذوم كما تفر من الأسد".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ کوئی فال بد ہے، نہ الو کے بولنے کا اثر ہے اور نہ کوئی صفر ہے اور کوڑھی سے اس طرح بھاگ جس طرح شیر (سے بچنے کے لیے) بھاگتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 229]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 783
ترقیم الباني: 786 ترقیم فقہی: -- 230
-" لا عدوى ولا طيرة ويعجبني الفأل الصالح، الكلمة الحسنة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں اور نہ کوئی بدفال کی حقیقت ہے، البتہ مجھے نیک فال یعنی (حوصلہ دلانے والی) اچھی بات پسند ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 230]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 786
ترقیم الباني: 780 ترقیم فقہی: -- 231
-" لا عدوى ولا هامة ولا صفر، واتقوا المجذوم كما يتقى الأسد".
ابوزناد کہتے ہیں: مجھے صحابہ کرام کے پسندیدہ، قناعت پسند بیٹوں، جو اعلیٰ و اولی لوگ تھے، نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کے بولنے کا کوئی اثر ہے، نہ کوئی صفر ہے اور کوڑھی سے ایسے بچو جیسے شیر سے بچا جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 231]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 780