بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب قضاء الحاجة
قضائے حاجت کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 87
وعنها رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا خرج من الغائط قال: «غفرانك» . أخرجه الخمسة، وصححه أبو حاتم والحاكم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر بیت الخلاء سے باہر آتے تو «غفرانک» فرماتے اے اللہ! تیری بخشش اور پردہ پوشی مطلوب ہے
اس روایت کو پانچوں احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، ابوحاتم اور حاکم دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 87]
اس روایت کو پانچوں احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، ابوحاتم اور حاکم دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب ما يقول الرجل إذا خرج من الخلاء، حديث: 30، والترمذي، الطهارة، حديث:7، وابن ماجه، الطهارة، حديث:300، وأحمد:6 / 155، والنسائي في الكبرٰي: 6 /24، حديث:9907، وصححه ابن خزيمة وابن حبان والحاكم: 1 /158 والذهبي وغيرهم.»
حدیث نمبر: 88
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: أتى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الغائط، فأمرني أن آتيه بثلاثة أحجار، فوجدت حجرين، ولم أجد ثالثا، فأتيته بروثة، فأخذهما وألقى الروثة، وقال: «إنها ركس» . أخرجه البخاري. وزاد أحمد والدارقطني:«ائتني بغيرها» .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کو چلے تو مجھے حکم دیا کہ میں ان کیلئے تین پتھر لے آؤں۔ مجھے دو پتھر تو مل گئے تیسرا نہ مل سکا۔ میں (مجبوراً) گوبر کا ایک خشک ٹکڑا لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر تو لے لئے اور گوبر کے خشک ٹکڑے کو دور پھینک دیا اور فرمایا ”یہ تو بذات خود پلید ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ احمد اور دارقطنی نے اتنا اضافہ اور کیا ہے کہ ”اس کی بجائے اور لے آؤ۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب لا يستنجي بروث، حديث:156، وهو حديث صحيح* والدارقطني: 1 / 55، وأحمد:1 / 450، حديث:4299وسنده ضعيف، أبواسحاق عنعن.»
حدیث نمبر: 89
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى أن يستنجى بعظم أو روث. وقال: «إنهما لا يطهران» . رواه الدارقطني وصححه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی اور گوبر کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے، ساتھ ہی فرمایا کہ ”یہ دونوں پاک نہیں کر سکتے۔“ دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے اور صحیح بھی قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني، الطهارة، باب الاستنجاء:1 / 56 وقال: إسناده صحيح.»
حدیث نمبر: 90
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «استنزهوا من البول، فإن عامة عذاب القبر منه» . رواه الدارقطني، وللحاكم: «أكثر عذاب القبر من البول» . وهو صحيح الإسناد.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو۔ اکثر عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے۔“ دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے اور حاکم کی روایت میں ہے اکثر عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کی سند صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني: 1 / 128 وقال:"الصواب مرسل"، والحاكم في المستدرك:1 /183 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، سليمان الأ عمش مدلس وعنعن.»
حدیث نمبر: 91
وعن سراقة بن مالك رضي الله عنه قال: علمنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الخلاء: أن نقعد على اليسرى وننصب اليمنى. رواه البيهقي بسند ضعيف.
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی تعلیم دیتے ہوئے ہمیں فرمایا کہ ”ہم بائیں پاؤں پر وزن دے کر بیٹھیں اور دائیں کو کھڑا رکھیں (اس پر بوجھ کم ڈالیں)۔“ اس کو بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فيه السنن الكبرٰي: 1 / 96 وفيه رجل من بني مدلج عن أبيه وهما مجهولان.»
حدیث نمبر: 92
وعن عيسى بن يزداد (برداد» » عن أبيه رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا بال أحدكم فلينتر ذكره ثلاث مرات» . رواه ابن ماجه بسند ضعيف.
سیدنا عیسیٰ بن یزدار نے اپنے والد سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جب کوئی پیشاب کرے تو عضو مخصوص کو تین مرتبہ جھاڑ لے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الطهارة، باب الاستبراء بعد البول، حديث:326، قال البوصيري:"إسناده ضعيف" وزمعة ضعيف، وعيسي بن يزداد مجهول الحال.»
حدیث نمبر: 93
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سأل أهل قباء فقال: «إن الله يثني عليكم» فقالوا: إنا نتبع الحجارة الماء. رواه البزار بسند ضعيف. وأصله في أبي داود، وصححه ابن خزيمة من حديث أبي هريرة رضي الله عنه، بدون ذكر الحجارة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری (پاکیزگی کے بارے میں) بڑی تعریف فرمائی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ڈھیلوں کے استعمال کے بعد مزید طہارت کے لیے پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔
اسے ضعیف سند کے ساتھ بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کی اصل ابوداؤد اور ترمذی میں موجود ہے (اسی سلسلے میں) ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے البتہ اس میں ڈھیلوں کا ذکر نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 93]
اسے ضعیف سند کے ساتھ بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کی اصل ابوداؤد اور ترمذی میں موجود ہے (اسی سلسلے میں) ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے البتہ اس میں ڈھیلوں کا ذکر نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار(كشف الأستار):1 /130، 131، حديث:247، فيه محمد بن عبدالعزيز بن عمر وهو منكر الحديث، وحديث أبي هريرة أخرجه أبوداود، الطهارة، حديث:44، والترمذي، تفسير القرآن، حديث:3100، بغير هذا اللفظ، وهو حسن بالشواهد(انظرمسند أحمد:6 /6،حديث:23723 وسنده حسن قوي) وابن خزيمة من حديث أبي هريرة.»