🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

491. حَدِیث رَافِعِ بنِ خَدِیج رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17256
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا، فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ: زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِع".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ زمین کو بٹائی پردے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اس لئے ہم نے اسے ترک کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17256]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2344، م: 1547
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17257
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبح کی نماز روشنی میں پڑھا کرو کہ اس کا ثواب زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17257]

حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17258
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ"، قَالَ: قُلْتُ: بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَأَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر سونے چاندی کے عوض ہو تو فرمایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی پیداوار کے عوض اسے اچھا نہیں سمجھا البتہ درہم و دینار کے عوض اسے کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17258]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2332، م: 1547
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17259
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ أُخْتِ النِّمْرِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " شَرُّ الْكَسْبِ: ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی گندی ہے، فاحشہ عورت کی کمائی گندی ہے اور کتے کی قیمت گندی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17259]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1568
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17260
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ، وَلَا كَثَرٍ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پھل یا شگوفے چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17260]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد بن يحيى ورافع بن خديج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17261
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى؟ قَالَ: " أَعْجِلْ أَوْ أَرِنْ، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ" . قَالَ: وَأَصَابَنَا نَهْبُ إِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَرَمَاهَا رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لَهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ، فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا" .
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کل ہمارا دشمن (جانوروں) سے آمنا سامنا ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دانت ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو، تم اسے کھا سکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اس دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت کے طور پر کچھ اونٹ ملے جن میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کر تیر مارا اور اسے قابو میں کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں، جب تم کسی جانور سے مغلوب ہوجاؤ تو اس کے اسی طرح کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17261]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5509، م: 1968
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17262
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ .
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، البتہ ضرورت مندوں کو (پانچ وسق سے کم میں) اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17262]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1540
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17263
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا، قَالَ: فَعَجَّلَ الْقَوْمُ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَالَ:" عَدْلُ عَشْرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ"، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا" . قَالَ: قَالَ: فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : إِنَّا لَنَرْجُو وَإِنَّا لَنَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ قَالَ: " أَعْجِلْ أَوْ أَرِنْ، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ" .
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ ذوالحلیفہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت کے طور پر کچھ بکریاں اور اونٹ ملے لوگوں نے جلدی سے ہانڈیاں چڑھا دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہانڈیاں الٹا دینے کا حکم دیا، پھر فرمایا ایک اونٹ کے مقابلے میں دس بکریاں بنتی ہییں، ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کر تیر مارا اور اسے قابو میں کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں، جب تم کسی جانور سے مغلوب ہوجاؤ تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو، کل ہمارا دشمن (جانوروں) سے آمنا سامنا ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دانت اور ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہادے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو، تم اسے کھا سکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17263]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2507، م: 1968
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17264
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَأْجَرَ الْأَرْضُ بِالدَّرَاهِمِ الْمَنْقُودَةِ، أَوْ بِالثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفل سے منع فرمایا ہے، راوی نے پوچھا کہ حفل سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تہائی اور چوتھائی کے عوض زمین کو بٹائی پر دینا، یہ حدیث سن کر ابراہیم نے بھی اس کے مکروہ ہونے کا فتوی دے دیا اور دراہم کے عوض زمین لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17264]

حکم دارالسلام: بعضه صحيح و بعضه منكر، وهذا اسناد ضعيف، وفيه انقطاع، مجاهد لم يسمع من رافع بن خديج، وشريك سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17265
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ وَائِلٍ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل اور عمدہ کمائی کون سی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مقبول تجارت۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17265]

حکم دارالسلام: حسن لغيره على خطأ فى إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں