🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26561
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ يَعْنِي زُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً , شَكَّ أَبُو خَيْثَمَةَ , وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنَ الْكَلَفِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26561]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مُسّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26562
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان کے روزے سے ملا دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26562]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26563
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ أَوْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّنَا ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِعَمَّارٍ: " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26563]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2916
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26564
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ , قَالَتْ: مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ؟ قَدْ كَانَ: " يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا قِرَاءَةٌ مُفَسَّرَةٌ حَرْفًا حَرْفًا .
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قرأت کہاں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26564]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة يعلى بن مملك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26565
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ , إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ يَقُولُ:" جَاءَ عَلِيٌّ؟" مِرَارًا، قَالَتْ: وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ , قَالَتْ: فَجَاءَ بَعْدُ , فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ، فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ، فَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ، فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، فَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس ذات کی قسم کھائی جاسکتی ہے میں اس کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ دوسرے لوگوں کی نسبت حضرت علی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت میں زیادہ قرب رہا ہے، ہم لوگ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے حاضر ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارباریہی پوچھتے کہ علی آگئے؟ غالبا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی کام سے بھیج دیا تھا تھوڑی دیر بعد حضرت علی آگئے، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خلوت میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم لوگ گھر سے باہر آکر دروازے میں بیٹھ گئے اور ان میں سے دروازے کے سب سے زیادہ قریب میں ہی تھی، حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی بائیں جانب بٹھالیا اور ان سے سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اور اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، اس اعتبار سے آخری لمحات میں حضرت علی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ قرب حاصل رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26565]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف تفرد به مغيرة عن أم موسي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26566
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَمِعْنَا مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ فَحِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ الْخَمِيلَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنُفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَلَبِسْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ , قَالَتْ: وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ , قَالَتْ: وَكَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے میں نے کہا جی یا رسول اللہ پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھا پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاف میں گھس گئی اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کرلیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیدیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26566]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26567
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، بِنَحْوِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26567]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26568
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26568]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5634، م: 2065
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26569
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ نِسْوَةً دَخَلْنَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، فَسَأَلَتْهُنَّ مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ فقُلْنَ: مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا، خَرَقَ اللَّهُ عَنْهَا سِتْرًا" .
سائب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص کی کچھ عورتیں حضرت ام سلمہ کے پاس آئیں انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں سے آئی ہو انہوں نے بتایا کہ شہرحمص سے حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھرکے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارتی ہے اللہ اس کا پردہ چاک کردیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26569]

حکم دارالسلام: حسن لغيره وهذا اسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة، ولجهالة السائب مولى أم سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26570
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي قَعْرِ بُيُوتِهِنَّ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین نماز ان کے گھرکے آخری کمرے میں ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26570]

حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں