مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26571
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدُعِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أُكَيْمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ إِنْ كَانَ قَالَهُ , كَذَا قَالَ أَبِي فِي الْحَدِيثِ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارًا، وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سرکے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26571]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1977، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 26572
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ أَخٍ لَهَا، فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ، نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ سَلَمَةَ : ابْنَ أَخِي، لَا تَنْفُخْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ , يُقَالُ لَهُ: يَسَارٌ وَنَفَخَ: " تَرِّبْ وَجْهَكَ لِلَّهِ" .
ابوصالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اسی دوارن وہاں ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا اور اس نے ان کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں، دوران نماز جب وہ سجدہ میں جانے لگا تو اس نے مٹی اڑانے کے لئے پھونک ماری تو حضرت ام سلمہ نے اس سے فرمایا بھتیجے پھونکیں نہ مارو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلا کو بھی ایک مرتبہ اپنے غلام جس کا نام یسار تھا اور اس نے بھی پھونک ماری تھی سے فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اپنے چہرے کو اللہ کے لئے خاک آلود ہونے دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26572]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ولم يوجد ترجمة سعيد بن عثمان، وأبو صالح أختلف فى تعيينه
حدیث نمبر: 26573
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " أَكْثَرُ مَا عَلِمْتُ أُتِيَ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ بِخَرِيطَةٍ، فِيهَا ثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری معلومات کے مطابق نبی علیہ السلا کے پاس کسی تھیلی میں زیادہ سے زیادہ آٹھ سو درہم آئے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26573]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26574
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا , قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ , قَالَ: فَنَظَرُوهُ، فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَكَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي؟" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ اتنے مال پر کتنی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مقداربتا دی اس نے کہا کہ فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی ہے، دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک صاع کے برابر زیادتی ہوئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا بنے گا جب کہ تم پر اس سے زیادہ زیادتی کی جائے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26574]
حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين، صححه ابن خزيمة، وابن حبان، والحاكم
حدیث نمبر: 26575
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ؟ قَالَتْ: فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمًا إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ" قَالَتْ: وَأَنَا أُسَرِّحُ رَأْسِي، فَلَفَفْتُ شَعْرِي، ثُمَّ دَنَوْتُ مِنَ الْبَابِ، فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ هَذِهِ الْآيَةَ , قَالَ عَفَّانُ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 35" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ جس طرح مردوں کا ذکر قرآن میں ہوتا ہے ہم عورتوں کا ذکر کیوں نہیں ہوتا ابھی اس بات کو ایک ہی دن گزرا تھا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر اے لوگو کا اعلان کرتے ہوئے سنا میں اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے اپنے بال لپیٹے اور دروازے کے قریب ہو کر سننے لگی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان المسلمون والمسلمات والمؤمنین و المؤمنات ہذہ الآیۃ قال عفان اعد اللہ لہم مغفرۃ واجراعظیما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26575]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26576
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ , أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ؟! قَالَ:" نَعَمْ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ بَشَرٍ , إِلَّا أَنَّ قَلْبَهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَزَاغَهُ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً، إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي؟ قَالَ:" بَلَى، قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثریہ دعاء فرمایا کرتے تھے، اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا دلوں کو بھی پھیرا جاتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، اللہ نے جس انسان کو بھی پیدا فرمایا اس کا دل اللہ کی دوانگلیوں کے درمیان ہوتا ہے پھر اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو وہ اسے سیدھا رکھتا ہے اور اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اسے ٹیڑھا کردیتا ہے اس لئے ہم اللہ سے دعاء کرتے ہیں کہ پروردگار ہمیں ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کیجئے گا اور ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ اپنی جان سے ہمیں رحمت عطاء فرمائیے، بیشک وہ رحمت عطا فرمانیوالا ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ مجھے کوئی ایسی دعا نہیں سکھائیں گے جو میں اپنے لئے مانگ لیا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ اے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب میرے گناہوں کو معاف فرما میرے دل کے غصے کو دور فرما اور جب تک زندگی عطاء فرما ہر گمراہ کن فتنے سے حفاظت فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26576]
حکم دارالسلام: بعضه صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 26577
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، قَالَ: عَفَّانُ , وَبَهْزٌ الْعَنَزِيِّ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ، تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، سَلِمَ، وَمَنْ كَرِهَ، بَرِئَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ" , فَقَالَ: أَلَا نَقْتُلُهُمْ؟ فَقَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا" , وَقَالَ بَهْزٌ: فَمَنْ عَرَفَ، بَرِئَ , وَقَالَ بَهْزٌ: أَلَا نَقْتُلُهُمْ , وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، وَقَالَ عَفَّانُ وَبَهْزٌ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ".
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب کچھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کرو گے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائے گا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26577]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26578
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26578]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي عن أم سلمة ، وأبو قلابة مضطرب فيه
حدیث نمبر: 26579
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائیے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26579]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 282، م: 313
حدیث نمبر: 26580
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ: " إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ مِنْ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ" , اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر جو شخص مہربانی کرے گا وہ یقینا سچا اور نیک آدمی ہوگا اے اللہ عبدا لرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل کے پانی سے سیراب فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26580]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وجهالة محمد بن عبدالرحمن