مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26581
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَةَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلَا الْمُمَشَّقَةَ، وَلَا الْحُلِيَّ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَكْتَحِلُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے وہ عصفریا گہرا رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے نہ ہی کوئی زیور پہنے، خضاب لگائے اور نہ ہی سرمہ لگائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26581]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26582
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ , وَعَبد الرَحمن يَعْنِي السّرّاج , عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اسے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26582]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5634، م: 2065
حدیث نمبر: 26583
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ : يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 , الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 .
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے متعلق کسی نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت کو توڑ توڑ کر پڑھتے تھے، پھر انہوں نے سورت فاتحہ کی پہلی تین آیات کو توڑتوڑ کر پڑھ کر (ہر آیت پر وقف کر کے) دکھایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26583]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على أبن أبى مليكة
حدیث نمبر: 26584
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَتْ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورباسعات میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26584]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مُسّة
حدیث نمبر: 26585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26585]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو جعفر الباقر لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26586
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَقَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، لَقَدْ ذَكَرْتَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ أُنَاسًا يُصَلُّونَهَا، وَلَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا، وَلَا أَمَرَ بِهِمَا , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَاكَ مَا يَقْضِي النَّاسَ بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , فَقَالَ: مَا رَكْعَتَانِ قَضَى بِهِمَا النَّاسُ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَجُلَيْنِ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ، وَيَقُولُ مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّكِ أَمَرْتِيهِ بِهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ذَاكَ مَا أَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ , قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْنَاهَا مَا قَالَتْ عَائِشَةُ , فَقَالَتْ: يَرْحَمُهَا اللَّهُ، أَوَلَمْ أُخْبِرْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ نَهَى عَنْهُمَا .
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت ابن عباس حضرت امیر معاویہ کے یہاں گئے تو وہ کہنے لگے اے ابن عباس! آپ نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کا ذکر کیا تھا مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ یہ دو رکعتیں پڑھتے ہیں حالانکہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ اس کا حکم دیتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا کہ لوگوں کو یہ فتوی حضرت ابن زبیر دیتے ہیں، تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابن زبیر بھی آگئے انہوں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے، حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کے پاس دو قاصد بھیج کر پوچھا کہ ابن زبیر آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی دو رکعتیں ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا کہ حضرت عائشہ کے مطابق آپ نے انہیں بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی رکعتیں ہیں؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عائشہ پر رحم فرمائے کیا میں نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں کی ممانعت فرمادی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26586]
حکم دارالسلام: صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26587
25861 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَتْ " لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ , قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: أَوَلَا يَشُدُّ لَكَ هَذَا الْأَثَرُ إِفَاضَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ؟.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26587]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى عبيدة بن عبدالله، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 26588
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ خَالِدٍ مَوْلَى الزُّبَيْرِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، هَذَا الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة خالد مولي الزبير بن نوفل
حدیث نمبر: 26589
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، وَحَضَرَ الْعَشَاءُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26589]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26590
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: فَزَعَمَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ: " أَلَا تَخْرُجِينَ مَعَنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا؟" وَهُوَ يُرِيدُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَأَخْشَى أَنْ تَحْبِسَنِي شَكْوَايَ , قَالَ:" فَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَقُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیربن عبد المطلب کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بیمار ہوں مجھے خطرہ ہے کہ میری بیماری آپ کو روک نہ دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کرلو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا، وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26590]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، ثم إنه اختلف عليه فيه