مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26591
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي لِلطَّرِيقِ الْأَقْوَمِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما اور سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26591]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد ولانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26592
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْأَحْوَلُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنَ الْكَلَفِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26592]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مُسّة
حدیث نمبر: 26593
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، , قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحَيْضِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، لِتَقْعُدْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، وَلْتُصَلِّ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ بنت حبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حیض نہیں ہے وہ تو کسی رگ کا خون ہوگا تمہیں چاہئے کہ اپنے ایام کا اندازہ کرکے بیٹھ جایا کرو پھر غسل کر کے کپڑا باندھ لیا کرو اور نماز پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26593]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
حدیث نمبر: 26594
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26594]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26595
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26595]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5634، م: 2065، لكن اختلف فيه على جرير بن حازم
حدیث نمبر: 26596
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا ظَهَرَتْ الْمَعَاصِي فِي أُمَّتِي، عَمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا فِيهِمْ يَوْمَئِذٍ أُنَاسٌ صَالِحُونَ؟! قَالَ:" بَلَى" , قَالَتْ: فَكَيْفَ يَصْنَعُ أُولَئِكَ؟ قَالَ:" يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب زمین میں شرپھیل جائے گا تو اسے روکا نہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئیگی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26596]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 26597
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَلَّلَ عَلَى عَلِيٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَفَاطِمَةَ كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي، اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا" , فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ:" إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی حضرات حسنین اور حضرت فاطمہ کو ایک چادر میں ڈھانپ کر فرمایا اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں اے اللہ ان سے گندگی کو دور فرما اور انہیں خوب پاک کردے حضرت ام سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں بھی ان میں شامل ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26597]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26598
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ جَاءَ وَفْدٌ، فَشَغَلُوهُ، فَلَمْ يُصَلِّهِمَا، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک مرتبہ بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے وہ رہ گئی تھیں اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھ لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26598]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الاسناد على أبى سلمة
حدیث نمبر: 26599
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " وَالَّذِي تَوَفَّى نَفْسَهُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تُوُفِّيَ حَتَّى كَانَتْ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَعْجَبُ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26599]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26600
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، إِذْ قَالَتْ الْخَادِمُ: إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ , قَالَ:" قُومِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي" , قَالَتْ: فَقُمْتُ، فَتَنَحَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ قَرِيبًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ وَمَعَهُمْ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَقَبَّلَهُمَا، وَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا وَ فَاطِمَةَ، ثُمَّ أَغْدَفَ عَلَيْهِمَا بِبُرْدَةٍ لَهُ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا؟ فَقَالَ:" وَأَنْتِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ خادم نے آکر بتایا کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ دروازے پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھوڑی دیر کے لئے میرے اہل بیت کو میرے پاس تنہا چھوڑ دو، میں وہاں سے اٹھ کر قریب ہی جا کر بیٹھ گئی، اتنی دیر میں حضرت فاطمہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر اپنی گود میں بٹھالیا اور انہیں چومنے لگے پھر ایک ہاتھ سے حضرت علی کو اور دوسرے سے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب کرکے دونوں کو بوسہ دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چادرکا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ تیرے حوالے نہ کہ جہنم کے میں اور میرے اہل بیت، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26600]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو المعذّل ضعيف وأبوه مجهول