مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26601
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَائِلُكِ عَنْ أَمْرٍ , وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْهُ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِي يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ: عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ؟ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا لَا يُجِبُّونَ النِّسَاءَ، وَكَانَتْ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِنَّهُ مَنْ جَبَّى امْرَأَتَهُ، كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ، نَكَحُوا فِي نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، فَجَبُّوهُنَّ، فَأَبَتْ امْرَأَةٌ أَنْ تُطِيعَ زَوْجَهَا، فَقَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَنْ تَفْعَلَ ذَلِكَ حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ أَنْ تَسْأَلَهُ، فَخَرَجَتْ، فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ادْعِي الْأَنْصَارِيَّةَ"، فَدُعِيَتْ، فَتَلَا عَلَيْهَا هَذِهِ الْآيَةَ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 صِمَامًا وَاحِدًا.
عبد الرحمن بن سابط کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے یہاں حفصہ بنت عبدالرحمن آئی ہوئی تھیں میں نے ان سے کہا میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن پوچھتے ہوئے شرم آرہی ہے، انہوں نے کہا بھتیجے شرم نہ کرو میں نے کہا کہ عورتوں کے پاس پچھلے حصے میں آنے کا کیا حکم ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا ہے کہ انصار کے مرد اپنی عورتوں کے پاس پچھلے حصے سے نہیں آتے تھے، کیونکہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے آتا ہے اس کی اولاد بھینگی ہوتی ہے، جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے بھی نکاح کیا اور پچھلی جانب سے ان کے پاس آتے، لیکن ایک عورت نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگی کہ جب تک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ لوں اس وقت تک تم یہ کام نہیں کرسکتے۔ چنانچہ وہ عورت حضرت ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی ہوں گے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس عورت کو یہ سوال پوچھتے ہوئے شرم آئی لہذا وہ یوں ہی واپس چلی گئی، بعد میں حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس انصاریہ کو بلاؤ! چنانچہ اسے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو، آسکتے ہو " اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26601]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26602
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلًى لِأَبِي سَلَمَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ , سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ سَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26602]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام مولى أم سلمة
حدیث نمبر: 26603
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَقُولُ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ؟ قَالَتْ: فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَتْ: وَأَنَا أُسَرِّحُ شَعْرِي، فَلَفَفْتُ شَعْرِي، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِ بَيْتِي، فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 35 .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! جس طرح مردوں کا ذکر قرآن میں ہوتا ہے ہم عورتوں کا ذکر کیوں نہیں ہوتا؟ ابھی اس بات کو ایک ہی دن گزرا تھا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر اے لوگو! کا اعلان کرتے ہوئے سنا میں اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے اپنے بال لپیٹے اور دروازے کے قریب ہو کر سننے لگی میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان المسلمین والمسلمت والمؤمنین والمؤمنت الی آخر الآیۃ اعد اللہ لہم مغفرۃ واجراعظیما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26603]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26604
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26604]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26605
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: قُلْتُ: " وَالَّذِي تَوَفَّى نَفْسَهُ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَتْ" أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26605]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26606
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَغِبَ وَتَابَعَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا الصَّلَاةَ". .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھوگے اور بعض پر نکیر کرو گے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26606]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26607
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26607]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26608
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَرِيضَ أَوْ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ" , قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً" , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:" صَالِحَةً" , قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسلمہ فوت ہوگئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعاء کرو کہ اے اللہ مجھے اور انہیں معاف فرما اور مجھے ان کا نعم البدل عطاء فرما میں نے یہ دعاء مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے زیادہ بہترین بدل خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں عطاء فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26608]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:919
حدیث نمبر: 26609
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرٍ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ" , قَالَ: فَرَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ فُتْيَاهُ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے، یہ حدیث سن کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فتوی سے رجوع کرلیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26609]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26610
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَوَكِيعٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمَسُّ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، فَيَغْتَسِلُ، وَيَصُومُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26610]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1190، إسناده حسن