صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب السِّوَاكِ:
باب: مسواک کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 252 ترقیم شاملہ: -- 589
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْر: عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو (زہیر کی روایت میں ہے: اپنی امت کو) مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 589]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا، کہ مومنوں کو مشقت ہو گی، (زہیر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”میری امت پر مشقت پڑ جائے گی“) تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 589]
ترقیم فوادعبدالباقی: 252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: السواك برقم (46) والنسائي في ((الجمتبى))266/1۔268 في الصلاة، باب: ما يستحب من تاخير العشاء وابن ماجه في ((سننه)) في الصلاة، باب: وقت العشاء برقم (690) ولم يذكر قصة السواك - انظر ((التحفة)) برقم (13673)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 253 ترقیم شاملہ: -- 590
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: " بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ ".
مسعر نے مقدام بن شریح سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو کس بات (کام) سے آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: مسواک سے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 590]
مقدام بن شریح رحمہ اللہ اپنے باپ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے، تو سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ”سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرماتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 590]
ترقیم فوادعبدالباقی: 253
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) فى الطهارة، باب: فى الرجل يستاك بسواك غيره برقم (51) والنسائي في ((المجتبى)) 13/1 فى الطهارة، باب: السواك في كل حين - وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: السواك برقم (290) انظر ((التحفة)) برقم (16144)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 253 ترقیم شاملہ: -- 591
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ، بَدَأَ بِالسِّوَاكِ ".
سفیان نے مقدام بن شریح سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 591]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 591]
ترقیم فوادعبدالباقی: 253
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (589)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 254 ترقیم شاملہ: -- 592
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ ".
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسواک کا ایک کنارا آپ کی زبان پر تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 592]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا، کہ مسواک کا ایک کنارہ آپ کی زبان پر تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 592]
ترقیم فوادعبدالباقی: 254
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: السواك برقم (244) وابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: كيف يستاك برقم (49) والنسائي في ((المجتبى)) 9/1 في الطهارة، باب: كيف يستاك انظر ((التحفة)) برقم (9123)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 255 ترقیم شاملہ: -- 593
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ لِيَتَهَجَّدَ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ ".
ہشیم نے حصین سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 593]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف فرماتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 593]
ترقیم فوادعبدالباقی: 255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الوضوء، باب: السواك برقم (245) وفي الصلاة، باب: الجمعة، باب: السواك يوم الجمعة برقم (889) وفى التهجد، باب: طول القيام في صلاة الليل برقم (1136) وابوداؤد فى ((سننه)) في الطهارة، باب: السواك لمن قام من الليل برقم (55) والنسائي في ((المجتبى من السنن)) 212/3 في قيام الليل وتطوع النهار، باب: ما يفعل اذا قام من الليل من السواك وفی 212/3 باب ذكر الاختلاف على أبي حصين عثمان بن عاصم في هذا الحديث بلفظ قريب منه۔ وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة، باب: السواك برقم (246) انظر ((التحفة)) برقم (3336)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 255 ترقیم شاملہ: -- 594
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُولُوا: لِيَتَهَجَّد.
منصور اور اعمش دونوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے ... آگے سابقہ روایت کی طرح ہے لیکن انہوں نے (تہجد کے لیے) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 594]
منصور رحمہ اللہ اور اعمش رحمہ اللہ دونوں نے ابو وائل رحمہ اللہ سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی: ”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے“ آگے مذکورہ روایت کی طرح ہے، لیکن انہوں نے «لِيَتَهَجَّدَ» نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 594]
ترقیم فوادعبدالباقی: 255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (592)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 255 ترقیم شاملہ: -- 595
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٌ ، وَالأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ ".
سفیان نے منصور کے حوالے سے اور حصین اور اعمش نے (بھی منصور کی طرح) ابووائل سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 595]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے، تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 595]
ترقیم فوادعبدالباقی: 255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (592)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 256 ترقیم شاملہ: -- 596
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، " أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاء، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ حَتَّى بَلَغَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 190 - 191، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَلَا هَذِهِ الآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابومتوکل کو بتایا کہ انہوں نے ایک رات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اٹھے، باہر نکلے اور آسمان پر نظر ڈالی پھر سورہ آل عمران کی آیت: «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ» تلاوت کی اور «فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» تک پہنچے۔ پھر گھر لوٹے اور اچھی طرح مسواک کی اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، پھر لیٹ گئے، پھر کھڑے ہوئے، باہر آسمان کی طرف دیکھا، پھر (دوبارہ) یہ آیت پڑھی، پھر واپس آئے، مسواک کی اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 596]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصہ میں اٹھے، باہر نکل کر آسمان پر نظر ڈالی، پھر سورہ آل عمران کی یہ آیت پڑھی: «إِنَّ فِي خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱللَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَءَايَٰتٍ لِّأُوْلِي ٱلْأَلْبَابِ ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّٰهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ» (آل عمران: 190-191) پھر لوٹ کر اندر آگئے اور مسواک کر کے وضو فرمایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی، پھر لیٹ گئے، پھر کھڑے ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا، پھر دوبارہ یہ آیت پڑھی، پھر واپس آ کر مسواک کر کے وضو فرمایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 596]
ترقیم فوادعبدالباقی: 256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (6286)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة