المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. أول كتاب الزكاة
کتاب الزکوٰۃ کا آغاز
حدیث نمبر: 334
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى: إِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" .
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی: اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ جنگ میں جاؤں گی، مریضوں کا علاج و معالجہ اور زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے گھر میں ہی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شہادت کا اجر عطا فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام ہی شہیدہ پڑ گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان سے ملنے جایا کرتے تھے، فرماتے: چلو شہیدہ کے پاس چلیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی تاکہ نماز پڑھیں، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1401، صحيح مسلم: 56»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا، وَلا صَاحِبِ بَقَرٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا، وَلا صَاحِبِ غَنْمٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلا مَكْسُورَةٌ قُرُونُهَا، وَلا صَاحِبِ كَنْزٍ لا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ: خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيُّ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ يَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ" ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مثل قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ الإِبِلِ؟ قَالَ: حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنْحُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اونٹوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ اونٹ زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گے اور اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے کھروں اور پاؤں سمیت اس کو روندیں گے۔ گائیوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ گائیاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی اور اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے پاؤں سے اس کو روندیں گی۔ بکریوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ بکریاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی، اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور کھروں سے اس کو روندیں گی، ان میں ایک بکری بھی بغیر سینگوں کے یا ٹوٹے ہوئے سینگوں والی نہ ہوگی۔ جو مالدار آدمی مال کا حق ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا، جب وہ سانپ اس کے پاس آئے گا تو وہ آدمی اس سے بھاگ جائے گا۔ سانپ اسے آواز دے گا کہ اپنا مال لے جا، جسے تو چھپا چھپا کر رکھتا تھا، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب وہ کوئی چارہ نہیں پائے گا تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کر دے گا، وہ اسے اونٹ کی طرح کاٹے گا۔ ابوزبیر کہتے ہیں: یہ الفاظ میں نے عبید بن عمیر سے سنے ہیں، پھر میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بھی عبید بن عمیر کی طرح ہی بیان کیا۔ نیز عبید بن عمیر کہتے ہیں: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ فرمایا: گھاٹ پر اس کا دودھ دوہ کر دینا، پانی پلانا، جفتی کے لیے مستعار دینا، تھن دینا اور اللہ کے راستے میں اس پر سوار کرنا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 988/27»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 336
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ، وَمَنْ جَمَعَ مَالا حَرَامًا فَتَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ نے اپنے مال کی زکاة ادا کر دی تو آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، نیز جس نے حرام مال اکٹھا کر کے اس میں سے صدقہ دیا تو اسے صدقے کا اجر تو نہیں ملے گا، البتہ گناہ اسی کے ذمہ ہو گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن الترمذي: 618، سنن ابن ماجه: 1788، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2471) امام ابن حبان رحمہ اللہ (3216) امام حاکم رحمہ اللہ (1/390) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، راوی دراج ابوالسمح جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: ثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنِي عَلَى بَعْضِ مَا وَلاكَ اللَّهُ، وَقَالَ الآخَرُ مثل ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا لا نُوَلِّي هَذَا الْعَمَلَ أَحَدًا سَأَلَهُ، وَلا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ" .
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو چچازاد بھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے جو کام آپ کے سپرد کیے ہیں، ان میں سے کسی کا مجھے امیر مقرر کر دیجیے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم یہ کام کسی ایسے شخص کے سپرد نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے یا اس کی خواہش رکھتا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 7149، صحيح مسلم: 1732»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا".
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگ کر امارت نہ لینا۔ اگر بغیر مانگے آپ کو امارت دی گئی تو آپ کی مدد کی جائے گی، اور اگر آپ نے مانگ کر امارت لی تو آپ کو اس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6722، صحيح مسلم: 1652»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ: أَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ" يَعْنِي الْعَشَّارَ .
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی ٹیکس خور جنت میں داخل نہیں ہوگا، یعنی دسواں حصہ وصول کرنے والا آدمی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 339]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 4/143-150، سنن أبي داود: 2937، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2333) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/404) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔ محمد بن اسحاق مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنَ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةَ رِوَايَةً: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ چاندی، پانچ وسق غلہ اور پانچ اونٹوں سے کم مقدار پر صدقہ زکاة فرض نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1447، صحيح مسلم: 979»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ: ثَنِي أَبِي ، عَنٍ جَدِّي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي الأَرْبَعِينَ مِنَ الإِبِلِ بِنْتُ لَبُونٍ، لا تَفَرَّقَ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنْعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ، عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لا يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ" .
بہر بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس چرنے والے اونٹوں پر بنت لبون ہے، اونٹوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹائیں، جو حصول اجر کی نیت سے زکاة ادا کرتا ہے اسے اجر ملے گا، اور جو شخص زکاة نہیں دے گا ہم اس کی زکاة کے ساتھ آدھا مال بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور ان صدقات میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ بھی جائز نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/2-5 سنن أبي داود: 1575، سنن النسائي: 2446، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2266) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/398) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لِي هَذَا الْكِتَابَ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وجُوهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهُ فَلا يُعْطِهِ، فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنْ بَلَغَتْ سِتَّةً وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حَقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَتُهُ مِنَ الإِبِلِ الْجَذَعَةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يَقْبَلُ مِنْهُ ابْنُ اللَّبُونِ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ، وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِمِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلا يُجْمَعْ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرَّقْ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعَشْرِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالُهُ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" .
بہر بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس چرنے والے اونٹوں پر بنت لبون ہے، اونٹوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹائیں، جو حصول اجر کی نیت سے زکاة ادا کرتا ہے اسے اجر ملے گا، اور جو شخص زکاة نہیں دے گا ہم اس کی زکاة کے ساتھ آدھا مال بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور ان صدقات میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ بھی جائز نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1448, 1450, 1455»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا سُفْيَانُ ، ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمَنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً" , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ: قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ.
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکاة لینے کے لیے یمن بھیجا، تو چالیس گائیوں سے ایک مسنہ دو سالہ بچہ اور تیس گائیوں سے ایک تبیعہ ایک سالہ بچہ لینے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 343]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 1578، سنن النسائي: 2454، سنن الترمذي: 623، سنن ابن ماجه: 1803، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2268) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4886) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/398) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ (التمهيد: 2/130)، نیز فرماتے ہیں: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاذٍ هَذَا الْخَبَرُ بِإِسْنَادٍ مُّتَصِلٍ وَصَحِيحٌ ثَابِتٌ (التمهيد: 2/275) اعمش مدلس ہیں، مسند الشاشي (1348) میں ان سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، لہذا یہ روایت سماع پر محمول ہے، سنن الدارمي (1664, 1709) اور المعجم الكبير للطبراني (20/129، ح: 262) میں اعمش کی متابعت عاصم بن بہدلہ نے کر رکھی ہے، رہا مسروق کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع کا مسئلہ تو یہ سب سے پہلے علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، ان سے اس کا رجوع بھی ثابت ہے۔ (المحلی: 6/16) حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هُوَ الَّذِي كَانَ رَمَاهَا بِالِانْقِطَاعِ ثُمَّ رَجَعَ (بيان الوهم والإيهام: 2/574) ابن القطان رحمہ اللہ نے بھی انقطاع کا رد کیا ہے، ان سے پہلے یہ رد امام اندلس ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کیا ہے، نیز ائمہ محدثین نے اس حدیث کی تصحیح کر کے انقطاع کا رد کر دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن