المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
16. باب ما جاء في الأشربة
مشروبات (پینے کی چیزوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 862
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، وَالْعَلاءُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَنْهَاكُمْ عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ" .
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے نشہ آتا ہو، تو میں آپ کو اس کی کم مقدار سے بھی منع کرتا ہوں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 862]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن النسائي: 5611، سنن الدارمي: 2099، مسند أبي يعلى: 694، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5370) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ أُمِّهِ، وَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الآخِرَةَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَنْ تُمْسِكُوا عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاثٍ، أَرَدْتُ بِذَلِكَ أَنْ يَتَّسِعَ أَهْلُ السَّعَةِ عَلَى مَنْ لا سَعَةَ لَهُ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ وَإِنَّ ظَرْفًا لا يَحِلُّ شَيْئًا وَلا يُحَرِّمُهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آپ کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، سواب ان کی زیارت کیا کریں، کیونکہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنی ماں کی (قبر کی) زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے، یہ آخرت یاد دلاتی ہے، میں نے آپ کو تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا، میرا مقصد یہ تھا کہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے فراخی پیدا کریں، جن کے پاس (قربانی کی) گنجائش نہیں ہے، اب آپ کھائیں بھی اور جمع بھی کر سکتے ہیں اور میں نے آپ کو کچھ برتنوں (کے استعمال) سے روکا تھا، برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا، ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 863]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 977/106»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 864
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا، وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ گدر (آدھی پکی ہوئی) کھجور اور (مکمل) پکی ہوئی کھجور، نیز خشک انگور (کشمش) اور کھجور کو اکٹھ ملا کر نبیذ بنایا جائے، نیز آپ نے جرش والوں کو لکھ بھیجا کہ وہ خشک انگور اور کھجور کو ملا کر نبیذ نہ بنائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 864]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1990»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 865
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِيِّ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَأَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالا: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَتَاهُ دِهْقَانُ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَحَذَفَهُ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ فِيمَا صَنَعَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ نُهِيتُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَلا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ" .
ابن ابی لیلی اور ابو فروہ دونوں عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا، تو دہقان (گاؤں کا چوہدری) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، آپ نے اسے گرا دیا، پھر اس پر ان لوگوں سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا: مجھے اس سے منع کر دیا گیا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی دیباج و حریر (ریشم کے کپڑے پہنو، کیونکہ دنیا میں یہ ان (کافروں) کے لیے ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 865]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 5837، صحیح مسلم: 2067»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، وَالْحَدِيثُ لأَبِي جَعْفَرٍ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثني قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2025/114»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، فَقَالَ" كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابو بزری یزید بن عطارد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کھڑے ہو کر پینے کے متعلق پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم عہد نبوی میں کھڑے ہو کر پی لیا کرتے تھے اور چلتے پھرتے کھا لیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 867]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 12/2، 24، 29، شرح معانی الآثار للطحاوی: 273/4، 274»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 868
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أمَّهُ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَقِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ قَائِمًا، قَالَتْ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقَطَعْتُهُ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے لٹکے ہوئے مشکیزے کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا۔ کہتی ہیں: میں نے کھڑے ہو کر اس (کے منہ) کو کاٹ لیا (اور محفوظ کر لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 868]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 431/6، شمائل الترمذي: 215»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن