المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. باب ما جاء في الأيمان
قسموں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 922
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِيِّ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: وَأَبِي أَبِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ" ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهِ بَعْدُ ذَاكِرًا وَلا آثِرًا، الْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباء کی قسمیں کھانے سے منع فرماتا ہے۔ سیدنا عمر بیان فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی اپنی طرف سے بات کرتے ہوئے یا کسی اور سے بیان کرتے ہوئے یہ (باپ کی قسم) نہیں کھائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 922]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6647، صحيح مسلم: 1646۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 923
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا هِشَامٌ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلا بِالطَّوَاغِيتِ" .
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اپنے آباء کی قسمیں کھاؤ اور نہ ہی بتوں کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 923]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1648۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 924
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْخَصِيبِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ" ، الْحَدِيثُ لِعَلِيٍّ وَزَادَ: وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ.
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دین اسلام کی بجائے کسی اور دین کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کہا۔ (یعنی یوں کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں، تو میں یہودی ہو جاؤں وغیرہ تو وہ یہودی ہو جائے گا۔) یہ حدیث علی بن محمد کی ہے، اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ ان صحابہ کرام میں شامل ہیں، جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کی بیعت (بیعت رضوان) کی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 924]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6047، صحيح مسلم: 110۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 925
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ سورة البقرة آية 225 قَالَتْ: أنزلت فِي قَوْلِ الرَّجُلِ: بَلَى وَاللَّهِ، وَلا وَاللَّهِ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرآن مجید کی اس آیت ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ (البقرة: 225) (اللہ تعالیٰ لغو قسموں پر تمہارا مؤاخذہ نہیں کرتے) کے متعلق فرماتی ہیں: یہ آیت لوگوں کے یوں کہنے کے متعلق اتری ہے: اللہ کی قسم! ہاں اللہ کی قسم! نہیں اللہ کی قسم! (یعنی گفتگو کے دوران تکیہ کلام کے طور پر غیر ارادی قسمیں کھانا یمین لغو ہے۔) [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 925]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6663۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 926
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، قَالَ: ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ" فنزلت: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 الآيَةَ ، فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قُلْنَا: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: صَدَقَ، فِيَّ نزلت، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِي خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ لَنَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَيِّنَتُكَ، فَلَمْ تَكُنْ لِيَ بَيِّنَةٌ، فَقَالَ لَهُ: احْلِفْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا يَحْلِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُو عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فنزلت: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 الآيَة".
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بھی معاملے میں مسلمان آدمی سے مال چھینے کے لیے جھوٹی قسم کھاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ (آل عمران: 77) (جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی جھوٹی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں۔) اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آکر پوچھنے لگے: ابو عبد الرحمن (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ ہم نے کہا: یہ حدیث بیان کر رہے ہیں، تو وہ کہنے لگے: وہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ آیت میرے ہی متعلق اتری تھی، میرے اور میری قوم کے ایک آدمی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا، میں وہ جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، تو آپ نے فرمایا: اپنی دلیل لاؤ۔ میرے پاس دلیل نہیں تھی، تو آپ نے دوسرے آدمی سے کہا: قسم اٹھاؤ۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! قسم تو یہ اٹھا لے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بھی معاملے میں مسلمان آدمی سے مال چھینے کے لیے جھوٹی قسم کھاتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کو ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ (آل عمران: 77) [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 926]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2666، صحيح مسلم: 138/220۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: ثنا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: أَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نِسْطَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَحْلِفُ رَجُلٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمًا عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ إِلا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائی، اگرچہ وہ تازہ مسواک پر ہی کیوں نہ ہو، تو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 927]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 3/344، سنن أبي داؤد: 3246، اس حدیث کو امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (5980) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4368) نے صحیح قرار دیا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (4/297) نے "صحيح الإسناد" کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ عبداللہ بن نسطاس راوی جمہور محدثین کے نزدیک "حسن الحدیث" ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 928
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھانے کے بعد ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہہ دیا، تو اس نے استثناء کر لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 928]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/10، سنن أبي داود: 3261، سنن النسائي: 3860، سنن الترمذي: 1531، سنن ابن ماجه: 2105، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5991) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4339) نے صحیح کہا ہے، مسند الحمیدی (707) میں سفیان بن عیینہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، ان کے بہت سارے متابع بھی ہیں۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 929
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" .
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ کوئی کام کرنے کی قسم کھائیں، پھر (کوئی) دوسرا کام اس سے بہتر دیکھیں، تو بہتر کام کر لیں اور قسم کا کفارہ دے دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 929]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6722، صحيح مسلم: 1652۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 930
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَلْجَجَ أَحَدُكُمْ بِالْيَمِينِ فِي أَهْلِهِ فَإِنَّهُ آثَمٌ، لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اپنے گھر میں قسم پر اصرار کرے، تو وہ اسے اللہ کے نزدیک اس کفارے سے زیادہ گناہ کا مرتکب کرتا ہے، جس کے ادا کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 930]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6624-6625، صحيح مسلم: 1655۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتِقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَعْتِقْهَا" .
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ ایک انصاری شخص سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک کالے رنگ کی لونڈی لے کر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! ایک مؤمن گردن آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے، اگر آپ اسے مؤمنہ سمجھتے ہیں، تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) پوچھا: کیا آپ گواہی دیتی ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتی ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھتی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مصنف عبدالرزاق: 16814، مسند الإمام أحمد: 3/451-452، امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف