🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. باب الاِعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي:
باب: نمازی کے سامنے لیٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 512 ترقیم شاملہ: -- 1140
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ ".
زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے، میں جنازے کی طرح آپ کے اور قبلے کے درمیان چوڑائی میں لیٹی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1140]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح چوڑائی میں لیٹی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1140]
ترقیم فوادعبدالباقی: 512
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 512 ترقیم شاملہ: -- 1141
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ كُلَّهَا، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ، أَيْقَظَنِي، فَأَوْتَرْتُ ".
ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنی پوری نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ وتر پڑھنا چاہتے، مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھ لیتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1141]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پوری نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی۔ اور جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1141]
ترقیم فوادعبدالباقی: 512
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 512 ترقیم شاملہ: -- 1142
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ ، " مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، فَقَالَتْ إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سَوْءٍ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ، وَهُوَ يُصَلِّي ".
ابوبکر بن حفص نے عروہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون سی چیز نماز قطع کر دیتی ہے؟ تو ہم نے کہا: عورت اور گدھا۔ اس پر انہوں نے کہا: عورت برا چوپایہ ہے! میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چوڑائی رخ جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1142]
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا، کون سی چیز نماز قطع کر دیتی ہے؟ تو ہم نے کہا: عورت اور گدھا۔ اس پر انہوں نے کہا: عورت برا چوپایہ ہے! میں نے آپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنازہ کی طرح عرض میں لیٹے ہوئے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 512
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 512 ترقیم شاملہ: -- 1143
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح قَالَ الأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَتْ: " قَدْ شَبَّهْتُمُونَا بِالْحَمِيرِ وَالْكِلَابِ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي، وَإِنِّي عَلَى السَّرِيرِ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدُو لِي الْحَاجَةُ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ، فَأُوذِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْدِ رِجْلَيْهِ ".
اعمش نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: مجھے ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے اسود سے اور اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ اعمش نے (مزید) کہا: مجھے مسلم بن صبیح نے مسروق سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ان کے سامنے ان چیزوں کا تذکرہ کیا گیا جو نماز قطع کرتی ہیں (یعنی) کتا، گدھا اور عورت۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے مشابہ بنا دیا ہے! اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ میں چارپائی پر آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، مجھے ضرورت پیش آتی تو میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا پسند نہ کرتی، اس لیے میں اس (چارپائی یا بستر) کے پایوں (والی جگہ کی طرف) سے کھسک جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1143]
حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے ان چیزوں کا تذکرہ کیا گیا جن کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے کتا، گدھا اور عورت تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: تم نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے مشابہ بنا دیا ہے، اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی ضرورت پیش آتی تو میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا پسند نہیں کرتی، اس لیے (چارپائی) کے پایوں کی طرف سے کھسک جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1143]
ترقیم فوادعبدالباقی: 512
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 512 ترقیم شاملہ: -- 1144
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ، فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ، فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَهُ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ، حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي ".
منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: تم نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا ہے، حالانکہ میں نے اپنے آپ کو (اس طرح) دیکھا ہے کہ میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور چارپائی کے وسط میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، میں آپ کے سامنے ہونا پسند نہ کرتی، اس لیے میں چارپائی کے پایوں کی طرف سے کھسکتی یہاں تک کہ اپنے لحاف سے نکل جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1144]
حضرت اسود بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا، تم نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا ہے حالانکہ میں نے آپ کو اس حالت میں پایا ہے کہ میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور چارپائی کے درمیان نماز پڑھتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ظاہر ہونا ناپسند کرتی تو میں چارپائی کے پایوں سے کھسک کر، اپنے لحاف سے نکل جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 512
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 512 ترقیم شاملہ: -- 1145
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، قَالَتْ: وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے (والے حصے) میں ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو (پاؤں پر ہاتھ لگا کر) مجھے اشارہ کر دیتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سکیڑ لیتی اور جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو پھیلا لیتی۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: گھر ان دنوں ایسے تھے کہ ان میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1145]
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے بتایا کہ میں نے امام مالک کو ابو نضر کی ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت سنائی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ کے قبلہ میں ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے تو میں اپنے پاؤں سکیڑ لیتی اور جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو پھیلا لیتی۔ انہوں نے (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) بتایا ان دنوں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1145]
ترقیم فوادعبدالباقی: 512
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 513 ترقیم شاملہ: -- 1146
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ جَمِيعًا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سامنے ہوتی، بسا اوقات آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے لگ رہا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1146]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متوازی ہوتی۔ بسا اوقات جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھ سے لگ جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 513
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 514 ترقیم شاملہ: -- 1147
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَعَلَيَّ مِرْطٌ، وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ إِلَى جَنْبِهِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو کی جانب ہوتی۔ مجھ پر چادر ہوتی اور اس چادر کا کچھ حصہ آپ کے پہلو (کی طرف) سے آپ پر (بھی) ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1147]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہوتی، مجھ پر چادر ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہونے سے کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 514
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں