🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما قالوا في ثواب الحمى والمرض
بخار اور بیماری پر ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10915 ترقیم الشثری: -- 11121
١١١٢١ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن علقمة بن مرثد عن حفص بن (عبيد الله) (١) عن ابي هريرة قال: ذكرت الحمى عند رسول الله ﷺ فسبها رجل فقال له:"لا تسبها فإنها (تنفي) (٢) (الذنوب كما (تنفي) ) (٣) (٤) النار خبث الحديد" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، أ، ص]: (عبد اللَّه].
(٢) في [أ، ب، ح]: (تنقي).
(٣) في [أ، ب، ح]: (تنقي).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه ابن ماجة (٣٤٦٩)، والطبراني في الدعاء (٢٠٦٩)، وفي الأوسط (٦٢٤٨).

حدثنا وكيع ، عن موسى بن عبيدة ، عن علقمة بن مرثد ، عن حفص بن عبيد الله ، عن ابي هريرة ، قال: ذكرت الحمى عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسبها رجل فقال له:" لا تسبها فإنها تنقي الذنوب كما تنقي النار خبث الحديد"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بخار کا ذکر کیا گیا تو اس کو ایک شخص نے برا بھلا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: بخار کو برا بھلا مت کہو، بیشک یہ گناہوں کو ایسے صاف کردیتا ہے جیسے آگ لوہے کی گندگی کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11121، ترقيم محمد عوامة 10915)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10916 ترقیم الشثری: -- 11122
١١١٢٢ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن رسول الله ﷺ قال:" [لا يزال البلاء بالمؤمن والمؤمنة حتى يلقى الله وما عليه من خطيئة" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه مسلم (٢٨٠٩) وأحمد (٧٨٥٩).
حدثنا علي بن مسهر ، عن محمد بن عمرو ، عن ابي سلمة ، عن ابي هريرة ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم , قال: " لا يزال البلاء بالمؤمن والمؤمنة حتى يلقى الله وما عليه من خطيئة"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کو کوئی تکلیف مسلسل رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں (گناہوں) کو گرا دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11122]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11122، ترقيم محمد عوامة 10916)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10917 ترقیم الشثری: -- 11123
١١١٢٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار يبلغ به النبي ﷺ قال] (١) :"إذا مرض العبد قال الله للكرام الكاتبين: اكتبوا لعبدي مثل الذي كان (يعمله) (٢) حتى اقبضه او اعافيه" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٢) في [ح، ص، ز، ك]: (يعمل).
(٣) مرسل؛ عطاء تابعي.

حدثنا حدثنا سفيان بن عيينة ، عن زيد بن اسلم ، عن عطاء بن يسار ، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إذا مرض العبد قال الله للكرام الكاتبين: اكتبوا لعبدي مثل الذي كان يعمله حتى اقبضه او اعافيه"
حضرت عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مؤمن بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کراما کاتبین کو حکم فرماتے ہیں میرے بندے کے لئے لکھ دو اس کے مثل جو یہ تندرست ہونے کی حالت میں کرتا تھا یہاں تک کہ میں اس کو اپنے پاس بلا لوں یا اس کو اس تکلیف سے عافیت عطا فرما دوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11123]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11123، ترقيم محمد عوامة 10917)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10918 ترقیم الشثری: -- 11124
١١١٢٤ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الاعمش عن عمارة عن سعيد بن (وهب) (١) قال: انطلقت مع سلمان إلى صديق له يعوده من كندة فقال: إن المؤمن يصيبه الله بالبلاء ثم يعافيه فيكون [كفارة لسيئاته (ويستعتب) (٢) فيما بقي، وإن الفاجر يصيبه الله بالبلاء ثم يعافيه فيكون] (٣) كالبعير عقله اهله لا يدري لم عقلوه ثم ارسلوه، فلا يدري (لم) (٤) ارسلوه (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (فوهب) وفي [أ، ز، هـ]: (موهب).
(٢) في [ص]: (ومستعينًا) وفي [ز]: (مستعتب).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤) في [ز]: (لمن)، وفي [أ، هـ]: (لما).
(٥) صحيح.

حدثنا حدثنا عبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن عمارة، عن سعيد بن موهب، قال: انطلقت مع سلمان إلى صديق له يعوده من كندة فقال:" إن المؤمن يصيبه الله بالبلاء ثم يعافيه فيكون كفارة لسيئاته ومستعتب فيما بقي، وإن الفاجر يصيبه الله بالبلاء ثم يعافيه فيكون كالبعير، عقله اهله لا يدري لم عقلوه، ثم ارسلوه فلا يدري لم ارسلوه"
حضرت سعید بن موھب فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ ان کے دوست کی عیادت کے لئے کندہ سے چلا، آپ نے فرمایا مسلمان کو جب کوئی تکلیف اللہ پہنچاتا ہے پھر اس کو دور کرتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، اور راضی کردیا جاتا ہے جو کچھ باقی ہے اس میں۔ اور گناہ گار اور فاجر کو جب اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچاتا ہے۔ پھر اس کو عافیت دیتا ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوجاتا ہے جس کا مالک اس کی ران اور کلائی کو باندھ دے تا کہ وہ چل نہ سکے اس کو نہیں پتا کہ اس کو کیوں باندھا گیا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیا جائے تو اس کو نہیں معلوم کہ کیوں چھوڑا گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11124]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11124، ترقيم محمد عوامة 10918)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10919 ترقیم الشثری: -- 11125
١١١٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: (نا) (١) (عبد الله) (٢) بن نمير عن فضيل ⦗٤٣١⦘ (ابن) (٣) غزوان عن (عبد الله) (٤) بن السائب (عن زاذان) (٥) قال: قال سلمان: إذا مرض العبد قال الملك: يا رب ابتليت عبدك بكذا (قال) (٦) فيقول: ما دام في وثاقي اكتبوا له مثل (عمله) (٧) الذي كان يعمل (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ح، ص، ز]: (حدثنا).
(٢) زيادة من [ك، أ، ب، ص، ز].
(٣) في [ك]: (عن).
(٤) في [ز]: (عبيد اللَّه).
(٥) سقط من: (أ، ب).
(٦) زيادة من [ك، أ، ب، ص، ز].
(٧) في [هـ]: (عمل).
(٨) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن نمير، عن فضيل بن غزوان، عن عبد الله بن السائب، عن زاذان، قال: قال سلمان : " إذا مرض العبد قال الملك: يا رب ابتليت عبدك بكذا قال: يقول: ما دام في وثاقي اكتبوا له مثل عمله الذي كان يعمل"
حضرت سلمان سے مروی ہے کہ جب کوئی (مؤمن) بندہ بیمار ہوتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے اے رب! تیرا فلاں بندہ بیماری میں مبتلا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب تک یہ میرے عہد میں ہے اس کے لئے اس عمل کے مثل لکھتے رہو جو یہ (تندرستی میں) کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11125]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11125، ترقيم محمد عوامة 10919)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10920 ترقیم الشثری: -- 11126
١١١٢٦ - حدثنا جعفر بن عون قال: حدثنا هشام بن سعد قال: سمعت (عروة) (١) بن رويم يذكر عن القاسم عن معاذ قال: إذا ابتلى الله العبد (بالسقم) (٢) قال (لصاحب) (٣) الشمال: ارفع، وقال لصاحب اليمين: اكتب (لعبدي ما كان) (٤) يعمل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عمروه).
(٢) سقط من: [ح].
(٣) في [هـ]: (لصاحبه).
(٤) في [ح]: بياض.
(٥) منقطع؛ القاسم بن عبد الرحمن الشامي لم يثبت سماعه من معاذ.

حدثنا حدثنا جعفر بن عون، قال: حدثنا هشام بن سعد، قال: سمعت عروة بن رويم، يذكر عن القاسم، عن معاذ ، قال: إذا ابتلى الله العبد بالسقم قال: لصاحب الشمال" ارفع" وقال لصاحب اليمين:" اكتب لعبدي ما كان يعمل"
حضرت معاذ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو بیماری سے آزماتا ہے تو بائیں کندھے والے فرشتہ سے کہتا قلم اٹھا لے اور (لکھنا روک دے) اور بائیں کندھے والے فرشتے سے فرماتا ہے میرے بندے کے لئے وہ عمل لکھ لو جو یہ (تندرستی میں) کیا کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11126]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11126، ترقيم محمد عوامة 10920)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10921 ترقیم الشثری: -- 11127
١١١٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن (مرة) (١) قال: سمعت (ابا وائل يحدث) (٢) عن عائشة (قالت) (٣) : سمعت رسول الله ﷺ يقول:" (ما من ⦗٤٣٢⦘ مسلم) (٤) يشاك بشوكة فما فوقها إلا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عروة).
(٢) في [ح]: (بياض).
(٣) في [ص]: (قال).
(٤) في [ح]: (بياض).
(٥) صحيح، أخرجه البخاري (٥٦٤٠) ومسلم (٢٥٧٢).

حدثنا غندر ، عن شعبة ، عن عمرو بن مرة ، قال: سمعت ابا وائل ، يحدث عن عائشة ، قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما من مسلم يشاك بشوكة فما فوقها إلا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جس کو کوئی کانٹا یا اس سے بڑی کوئی چیز لگے مگر اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کی خطا (گناہ) کو معاف فرما دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11127]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11127، ترقيم محمد عوامة 10921)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10922 ترقیم الشثری: -- 11128
١١١٢٨ - حدثنا وكيع عن (إياس بن ابي تميمة عن عطاء) (١) عن ابي هريرة قال: ما من وجع يصيبني احب إلي من الحمى؛ (لانها) (٢) تدخل في كل مفصل (٣) من ابن آدم، وإن الله ليعطي كل مفصل قسطا من الاجر (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (بياض).
(٢) في [أ]: (إنها).
(٣) في [ح]: (بياض).
(٤) صحيح، أخرجه الدولابي ٣/ ٩٩٥، وابن سعد ٤/ ٣٣٦.

حدثنا حدثنا وكيع، عن إياس بن ابي تميمة، عن عطاء، عن ابي هريرة ، قال: " ما من وجع يصيبني احب إلي من الحمى إنها تدخل في كل مفصل من ابن آدم، وان الله ليعطي كل مفصل قسطا من الاجر"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بخار سے زیادہ کوئی تکلیف پسند نہیں، (کیونکہ) بیشک وہ ابن آدم کے ہر جوڑ میں داخل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہر جوڑ کو اجر میں سے حصہ عطا فرماتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11128]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11128، ترقيم محمد عوامة 10922)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10923 ترقیم الشثری: -- 11129
١١١٢٩ - حدثنا (ابو معاوية) (١) عن الاعمش عن سالم قال: راى ابو الدرداء يوما رجلا فتعجب (من) (٢) (جلده) (٣) فقال ابو الدرداء: هل حممت قط، هل صدعت قط؟ فقال الرجل: لا، فقال ابو الدرداء: بؤس لهذا يموت (بخطيآته) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: بياض.
(٢) في [ح]: (منه).
(٣) سقط من [ح].
(٤) في [ك، ز]: (بخطئته).
(٥) منقطع؛ سالم بن أبي الجعد لم يثبت سماعه من أبي الدرداء.

حدثنا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن سالم، قال: راى ابو الدرداء يوما رجلا فتعجب من جلده، فقال ابو الدرداء : " هل حممت قط؟ هل صدعت قط؟" فقال الرجل: لا، فقال ابو الدرداء:" بؤس لهذا يموت بخطيئته"
حضرت سالم سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت ابودردائ نے ایک شخص کو دیکھا تو اس کی صحت و طاقت کو دیکھ کر آپ کو تعجب ہوا، آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کبھی بھی بخار نہیں ہوا؟ تمہیں کبھی کوئی تکلیف (سر درد وغیرہ) نہیں ہوئی؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا برائی ہے اس کے لئے، یہ گناہوں کے ساتھ مرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11129، ترقيم محمد عوامة 10923)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10924 ترقیم الشثری: -- 11130
١١١٣٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن بعض اصحابه عن الحكم عن ربيع بن عميلة عن عمار [قال: كان عنده اعرابي فذكروا الوجع فقال عمار: (ما) (١) اشتكيت قط؟ فقال: لا، فقال عمار] (٢) : ما انت منا -او لست منا-، ما من عبد يبتلى إلا حط عنه خطاياه كما تحط الشجرة ورقها، وإن الكافر يبتلى، فمثله (كمثل) (٣) البعير عقل (فلم يدر (لم) (٤) عقل (٥) (فاطلق) (٦) فلم يدر (لم) (٧) اطلق (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ] (هل).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [ح].
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [هـ، ص، أ، ب]: [لما].
(٥) سقط من: [ك].
(٦) في [ز]: (وأطلق).
(٧) في [هـ، ص، أ، ب]: [لما].
(٨) مجهول؛ لجهالة شيخ شعبة.

حدثنا حدثنا غندر، عن شعبة، عن بعض اصحابه، عن الحكم، عن ربيع بن عميلة، عن عمار، قال: كان عنده اعرابي فذكروا الوجع فقال عمار:" ما اشتكيت قط؟" فقال: لا، فقال عمار:" ما انت منا او لست منا ما من عبد يبتلى إلا حط عنه خطاياه كما تحط الشجرة ورقها، وإن الكافر يبتلى فمثله كمثل البعير، عقل فلم يدر لما عقل، فاطلق فلم يدر لما اطلق"
حضرت ربیع بن عمیلہ سے مروی ہے کہ حضر ت عمار کے پاس ایک اعرابی تھا، ان کے سامنے لوگوں نے تکلیف اور بیماری کا ذکر کیا۔ حضرت عمار نے فرمایا: تجھے کبھی بیماری کی شکایت ہوئی ہے؟ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا تو ہم میں سے نہیں ہے۔ کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جس کو تکلیف میں مبتلا کیا جائے مگر اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درخت کے پتے اور بیشک کافر کو تکلیف میں مبتلا کیا جاتا ہے اس کی مثال تو اونٹ کی طرح ہے جب اس کو باندھا جائے تو وہ نہیں جانتا کہ کیوں باندھا گیا ہے اور جب اس کو چھوڑ دیا جائے تو نہیں جانتا کیوں چھوڑا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11130، ترقيم محمد عوامة 10924)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں