🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. ما قالوا في الرجل يهب امرأته لأهلها
اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18517 ترقیم الشثری: -- 19210
١٩٢١٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن الشعبي عن مسروق (١) عن عبد الله في الرجل يهب امراته لاهلها قال: إن قبلها اهلها فتطليقة ⦗٢١٢⦘ يملك رجعتها، وإن لم يقبلوها فلا شيء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (و).
(٢) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن الشعبي، عن مسروق، عن عبد الله في الرجل يهب امراته لاهلها، قال:" إن قبلها اهلها ؛ فتطليقة يملك رجعتها , وإن لم يقبلوها ؛ فلا شيء".
حضرت عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر اس کے گھر والے قبول کرلیں تو ایک طلاق ہے اور اسے رجوع کا حق ہوگا اور اگر وہ قبول نہ کریں تو کچھ لازم نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19210، ترقيم محمد عوامة 18517)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18518 ترقیم الشثری: -- 19211
١٩٢١١ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إن قبلوها فتطليقة (يملك) (١) (رجعتها) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تملك).
(٢) في [ك]: (رجعها).

حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن منصور، عن إبراهيم، قال:" إن قبلوها ؛ فتطليقة يملك رجعتها"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق ہے اور اسے رجوع کا حق ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19211]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19211، ترقيم محمد عوامة 18518)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18519 ترقیم الشثری: -- 19212
١٩٢١٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا شريك عن ابي حصين عن يحيى بن (وثاب) (١) -قال بعض اصحابنا هو عن مسروق (٢) - عن عبد الله قال: إذا قال الرجل لامراته: (استفلحي) (٣) (بامرك) (٤) او اختاري (او) (٥) قد (وهبتك) (٦) لاهلك فهي تطليقة (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وتاب)، وفي [س]: (ثابت).
(٢) رواه عبد الرزاق (١١٢٤٢) عن قيس بن الربيع عن أبي حصين عن ابن وثاب عن مسروق عن عبد اللَّه، وأخرجه البيهقي ٧/ ٣٤٦ من طريق شعبه عن أبي حصين به؛ وهكذا رواه أحمد في العلل ٢/ ١٦٦ من طريق غندر عن شعبة به و ٣/ ١٦٩ من طريق عبد الرحمن ابن
مهدي عن شعبة به.
(٣) في [ك]: (استفلى)، وفي [س]: (استحلقي).
(٤) في [س]: (بأهلك).
(٥) في [أ، ب]: (و).
(٦) في [ط]: (وهبك).
(٧) منقطع.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا شريك، عن ابي حصين، عن يحيى بن وثاب، قال: بعض اصحابنا هو، عن مسروق، عن عبد الله ، قال: " إذا قال الرجل لامراته: استفلحي بامرك , او اختاري , او قد وهبتك لاهلك ؛ فهي تطليقة".
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو اپنے معاملے کو خود دیکھ لے، یا کہا کہ تجھے اختیار ہے یا کہا کہ میں نے تجھے تیرے گھر والوں کے لئے ہبہ کردیا تو یہ ایک طلاق کے کلمات ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19212]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19212، ترقيم محمد عوامة 18519)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18520 ترقیم الشثری: -- 19213
١٩٢١٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن يزيد (بن) (١) إبراهيم عن الحسن عن ⦗٢١٣⦘ رجل من اصحاب النبي ﷺ قال: إن قبلوها فواحدة بائنة وإن لم يقبلوها فواحدة وهو احق (برجعتها) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [ك]: (رجعها).
(٣) رجاله ثقات.

حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن يزيد بن إبراهيم، عن الحسن، عن رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إن قبلوها ؛ فواحدة بائنة , وإن لم يقبلوها ؛ فواحدة، وهو احق برجعتها"
حضرت حسن رحمہ اللہ ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر وہ قبول نہ کریں تو ایک طلاق ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19213]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19213، ترقيم محمد عوامة 18520)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18521 ترقیم الشثری: -- 19214
١٩٢١٤ - (١) حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن زيد بن ثابت قال: إذا وهبها لاهلها فقبلوها فثلاث، لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره، وإن ردوها فواحدة وهو احق بها، وبه كان ياخذ الحسن (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: زيادة (و).
(٢) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن زيد بن ثابت ، قال: " إذا وهبها لاهلها فقبلوها ؛ فثلاث لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره , وإن ردوها ؛ فواحدة وهو احق بها" , وبه كان ياخذ الحسن
حضرت زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو یہ تین طلاقوں کے قائم مقام ہے، اب وہ عورت اس خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔ اگر وہ قبول کرنے سے انکار کردیں تو ایک طلاق ہے اور آدمی کو رجوع کا حق حاصل ہوگا۔ حضرت حسن رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19214]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19214، ترقيم محمد عوامة 18521)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18522 ترقیم الشثری: -- 19215
١٩٢١٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عطاء في (رجل) (١) تزوج امراة ثم وهبها لاهلها قال عطاء: إن قبلوها فهي تطليقة بائنة، وإن ردوها فلا شيء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، ك]: (رجل) وكذلك [جـ]، وفي [ز، هـ]: (الرجل).
حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن سفيان، عن عبد الكريم، عن عطاء في الرجل تزوج امراة ثم وهبها لاهلها؟ قال عطاء:" إن قبلوها ؛ فهي تطليقة بائنة , وإن ردوها فلا ؛ شيء"
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق اور اگر وہ قبول نہ کریں تو کچھ لازم نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19215، ترقيم محمد عوامة 18522)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18523 ترقیم الشثری: -- 19216
١٩٢١٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا يونس بن محمد عن (عبد الواحد) (١) بن زياد (٢) عن ليث عن (طاوس) (٣) في التي توهب لاهلها: تطليقة وهو (احق) (٤) برجعتها (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [س]: (عن) زيادة.
(٣) في [ب]: (عطا وسن).
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [ك]: (رجعها).

حدثنا ابو بكر، قال: نا يونس بن محمد، عن عبد الواحد بن زياد، عن ليث، عن طاوس في التي توهب لاهلها:" تطليقة وهو احق برجعتها"
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو ایک طلاق ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19216]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19216، ترقيم محمد عوامة 18523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18524 ترقیم الشثری: -- 19217
١٩٢١٧ - حدثنا (ابو بكر) (١) قال: نا (وكيع قال: حدثنا) (٢) سفيان عن مطرف عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن علي في الموهوبة لاهلها: إن قبلوها فتطليقة بائنة وإن ردوها فهي واحدة وهو احق بها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (وكيع).
(٢) سقط من: [س، ط، هـ].
(٣) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا سفيان، عن مطرف، عن الحكم، عن يحيى بن الجزار، عن علي في الموهوبة لاهلها:" إن قبلوها ؛ فتطليقة بائنة , وإن ردوها ؛ فهي واحدة وهو احق بها".
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ قبول کرلیں تو ایک طلاق بائنہ اور اگر وہ انکار دیں تو ایک طلاق رجعی ہے اور مرد کو رجوع کا حق ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19217]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19217، ترقيم محمد عوامة 18524)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18525 ترقیم الشثری: -- 19218
١٩٢١٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن مطرف عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن علي بنحو منه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد السلام بن حرب، عن مطرف، عن الحكم، عن يحيى بن الجزار، عن علي بنحو منه
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19218]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19218، ترقيم محمد عوامة 18525)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18526 ترقیم الشثری: -- 19219
١٩٢١٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع: إذا وهبها لاهلها وهو لا يريد بذلك الطلاق؛ فليس بشيء: قبلوها او ردوها، وإن نوى طلاقا فهو ما نوى من الطلاق؛ قبلوها او ردوها.
حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع: " إذا وهبها لاهلها وهو لا يريد بذلك الطلاق ؛ فليس بشيء قبلوها او ردوها , وإن نوى طلاقا ؛ فهو ما نوى من الطلاق قبلوها او ردوها"
حضرت وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی اسی کے گھر والوں کو ہبہ کردے تو اگر طلاق کا ارادہ نہیں تھا تو کچھ نہ ہوا خواہ وہ قبول کرلیں یا واپس کردیں اور اگر طلاق کی نیت کی تو جو نیت کی وہ واقع ہوگا خواہ وہ واپس کردیں یا قبول کرلیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19219، ترقيم محمد عوامة 18526)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں