مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
94. ما قالوا في الرجل يقول لامرأته: لست لي بامرأة: ما يكون؟
اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18665 ترقیم الشثری: -- 19372
١٩٣٧٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن إبراهيم بن ميمون مولى آل سمرة عن عروة بن (فائد) (١) ان وجلا قال لامراته: إن فعلت كذا وكذا فلست لي بامراة، ⦗٢٥٠⦘ (ففعلت) (٢) فانطلقت معه إلى عبد الرحمن بن ابي ليلى (فقال) (٣) : ما نوى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، ط، هـ]: (قائد).
(٢) في [جـ، ك]: (ففعلته).
(٣) في [جـ]: (قال).
حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن إبراهيم بن ميمون مولى آل سمرة، عن عروة بن فائد، ان رجلا قال لامراته: إن فعلت كذا وكذا فلست لي بامراة , ففعلت فانطلقت معه إلى عبد الرحمن بن ابي ليلى؟ , فقال:" ما نوى" ,
حضرت عروہ بن فائد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو فلاں فلاں کام کرے تو میری بیوی نہیں ہے، اس عورت نے وہی کام کیا، پھر وہ اپنے خاوند کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی انہوں نے فرمایا کہ جو نیت کی تھی وہ واقع ہوگیا، پھر وہ اپنے خاوند کے ساتھ حضرت ابو عبداللہ جدلی کے پاس گئی انہوں نے بھی فرمایا کہ جو نیت کی ہے وہ واقع ہوگیا، اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19372]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19372، ترقيم محمد عوامة 18665)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19373
١٩٣٧٣ - (واتت) (١) معه ابا (عبد الله) (٢) (الجدلي) (٣) فقال: ما نوى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ز]: (وأنت).
(٢) في [س، ط، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [س]: (الجذلي)، وفي [هـ]: (الهذلي).
واتت معه ابا عبد الله الجدلي فقال:" ما نوى" ,
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19373، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19374
١٩٣٧٤ - (وقال) (١) سعيد بن جبير: ليس بشيء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (قال).
وقال سعيد بن جبير: ليس بشيء"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19374، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 18666 ترقیم الشثری: -- 19375
١٩٣٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن هشام الدستوائي عن قتادة قال: قلت لسعيد بن المسيب: إن (الحجاج) (١) يحدث عن ابيه انه قال في رجل قال لامراته: لست لي بامراة، فقال: تطليقة، فقال سعيد: (ما) (٢) ابعد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (حجاج).
(٢) في [ط]: (مما).
حدثنا ابو بكر، قال: نا غندر، عن هشام الدستوائي، عن قتادة، قال: قلت لسعيد بن المسيب: إن الحجاج يحدث , عن ابيه، انه قال في رجل قال لامراته: لست لي بامراة , فقال:" تطليقة؟" , فقال سعيد: ما ابعد!
حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا کہ حجاج اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتا ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں تو ایک طلاق ہوجائے گی، یہ سن کر حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت بعید از قیاس بات ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19375]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19375، ترقيم محمد عوامة 18666)
ترقیم عوامۃ: 18667 ترقیم الشثری: -- 19376
١٩٣٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم سئل (١) (عن رجل) (٢) قال لامراته: (ما انت لي) (٣) بامراة مرارا وهو غضبان، قال إبراهيم: ما اراه بلغ هذا (٤) إلا وهو يريد الطلاق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: زيادة (جابر).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [س]: (لست بي).
(٤) في [هـ]: زيادة (الحد).
حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن مغيرة، عن إبراهيم: سئل جابر عن رجل قال لامراته: ما انت لي بامراة مرارا وهو غضبان , قال إبراهيم:" ما اراه بلغ هذا إلا وهو يريد الطلاق"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کئی مرتبہ غصے کی حالت میں کہے کہ تو میری بیوی نہیں تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں وہ طلا ق کا ارادہ کرکے ہی اس حد کو پہنچ سکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19376]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19376، ترقيم محمد عوامة 18667)
ترقیم عوامۃ: 18668 ترقیم الشثری: -- 19377
١٩٣٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري انه قال (في رجل قال) (١) لامراته: لست لي بامراة، قال: ما نوى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، انه قال في رجل قال لامراته: لست لي بامراة؟ قال:" ما نوى"
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں تو اس کی نیت کا اعتبار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19377]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19377، ترقيم محمد عوامة 18668)
ترقیم عوامۃ: 18669 ترقیم الشثری: -- 19378
١٩٣٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن سواء عن سعيد عن مطر عن الحسن (١) وعطاء في رجل قال لامراته: لست لي بامراة (قالا) (٢) : كذبة (ليست) (٣) بشيء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زاد في [س، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، هـ]: (قال).
(٣) في [س]: (ليس).
حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن سواء، عن سعيد، عن مطر، عن الحسن، وعن عطاء في رجل قال لامراته: لست لي بامراة؟ قالا:" كذبة ليست بشيء"
حضرت حسن رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں تو یہ جھوٹ ہے اور یہ کچھ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19378]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19378، ترقيم محمد عوامة 18669)
ترقیم عوامۃ: 18670 ترقیم الشثری: -- 19379
١٩٣٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن سواء عن سعيد عن قتادة قال: إذا واجهها (به) (١) واراد الطلاق فهي واحدة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (بطلاق)، وفي [أ، ب، جـ، ك]: (بطلاق به).
(٢) في [خ]: (تم السفر السابع من مصنف أبي بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة يتلوه في السفر الذي يليه من كتاب الطلاق: أما قالوا في الرجل يسأل لك امرأة؟ وله، فيقول: لا، ما عليه).
حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن سواء، عن سعيد، عن قتادة، قال: " إذا واجهها به واراد الطلاق ؛ فهي واحدة"
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس کی طرف منہ کرکے کہا اور طلاق کا ارادہ کیا تو ایک طلاق ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19379]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19379، ترقيم محمد عوامة 18670)