صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1147 ترقیم شاملہ: -- 2692
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ، صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ".
ہارون بن سعید، احمد بن عیسیٰ، ابن وہب، عمر بن حارث، عبیداللہ بن ابی جعفر، محمد بن جعفر بن زبیر، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی انتقال کر جائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2692]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان اس حالت میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ کچھ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2692]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1147
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2693
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ ".
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزے لازم ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟“ اس نے عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا قرض زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2693]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتائیے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا کرتی؟“ اس نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2693]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2694
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟، فَقَالَ: " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى "، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقَالَ الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا: وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَا: سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
احمد بن عمر وکیعی، حسین بن علی، زائدہ، سلیمان، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟“ عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا قرض زیادہ اس کا حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2694]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اوراس نےکہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں تومیں ان کو اس کی طرف سے رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری ماں کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سےاسے ادا کرتا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض زیادہ حق دار ہے کہ اس کو چکایا جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2694]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2695
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابوسعید اشج، ابوخالد، اعمش، سلمہ بن کہیل، حکم بن عتیبہ، مسلم بن جبیر، مجاہد، عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2695]
امام صاحب نے اپنے استاد ابو سعید اشج سے یہ روایت اعمش (سلیمان) سے سلمہ بن کہیل حکم بن عتیبہ اور مسلم بطین تینوں نے سعید بن جبیر، مجاہد اور عطاء کے واسطہ سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2695]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2696
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وعبد بن حميد جميعا، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ عَبد: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ، أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ ".
اسحاق بن منصور، ابن ابی خلف، عبدبن حمید، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، حکم بن عتیبہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، اس پر منت کا روزہ لازم تھا، تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے؟ کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟“ اس نے عرض کیا: ہاں! آپ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ آپ نے فرمایا: ”تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2696]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کے روزے ہیں کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتائیے! اگر تیری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو اس کو ادا کردیتی تو کیا یہ اس کی طرف سے ادا ہوجاتا؟“ اس نےکہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2696]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2697
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: فَقَالَ: " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ "، قَالَتْ " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " صُومِي عَنْهَا "، قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟، قَالَ: " حُجِّي عَنْهَا "،
علی بن مسہر، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ (والدہ) فوت ہو گئی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اجر پکا ہو گیا۔ اور وراثت نے وہ (لونڈی) تمہیں لوٹا دی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔“ اس نے پوچھا: انہوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2697]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آ گئی اور اس نے پوچھا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ میں دی اور اب میری ماں فوت ہوئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر ثابت ہو گیا اور وراثت کی بنا پر تیری لونڈی واپس مل گئی۔“ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے تو کیا میں اس کی طرف سے رکھ سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے روزہ رکھو۔“ اس نے پوچھا: اس نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2697]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2698
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبداللہ بن نمیر نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ (آگے) ابن مسہر کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) مگر انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2698]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں جس میں ”انا جالس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم“ کے بجائے ”كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم“ ہے اور اس میں ایک ماہ کے بجائے دو ماہ کے روزے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2698]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2699
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ،
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں (سفیان) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی، انہوں نے ابن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔۔۔ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2699]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں ایک ماہ کے روزہ کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2699]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2700
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان (ثوری) سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2700]
امام صاحب ایک اور استاد سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں دوماہ کے روزوں کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2700]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2701
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔۔۔ (آگے) ان کی حدیث کے مانند (بیان کیا) اور انہوں نے بھی کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2701]
امام صاحب ایک اور استاد سے سلیمان بن بریدہ کی اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2701]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة