مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
30. في كراهية الكي (والرقى)
داغنے اور تعویذ کرنے کی کراہت کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 24088 ترقیم الشثری: -- 25169
٢٥١٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حصين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"عرضت علي الامم، فإذا سواد عظيم، ⦗١٨١⦘ فقلت هذه امتي، فقيل: هذا موسى وقومه، (قال) (١) : ثم قيل لي: انظر إلى الافق، فنظرت فإذا سواد قد ملا الافق، (قال) (٢) : (فقيل) (٣) : (هذه) (٤) امتك، ويدخل الجنة (٥) سبعون الفا بغير حساب"، ثم دخل رسول الله ﷺ ولم يبين لهم، فافاض القوم (فقالوا) (٦) : نحن (الذين) (٧) آمنا بالله واتبعنا (رسوله) (٨) ، فنحن (هم) (٩) ، او (اولادنا) (١٠) الذين ولدوا في الإسلام، قال: فبلغ ذلك رسول الله ﷺ فقال:"هم الذين لا يسترقون ولا (يتطيرون) (١١) (ولا) (١٢) يكتوون، وعلى ربهم يتوكلون" (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ز].
(٢) في [ط، هـ]: (فقال).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) في [أ، ح]: (فهذا).
(٥) في [جـ، ز]: زيادة (سواها).
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [ح]: (الذي).
(٨) في [ط، هـ]: (رسله).
(٩) في [أ، ح]: (نم).
(١٠) في [جـ]: (أولاده).
(١١) في [ط]: (يقطيرون).
(١٢) في [ط]: (فلا).
(١٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٤١)، ومسلم (٢٢٠).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر اُمّتوں کو پیش کیا گیا۔ پس ایک بہت بڑی تعداد نظر آئی تو میں نے پوچھا۔ یہ میری امت ہے؟ کہا گیا۔ یہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ پھر مجھے کہا گیا۔ آسمان کی طرف دیکھو۔ چناچہ میں نے دیکھا تو ایک بڑی تعداد تھی جس نے افق کو بھر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ کہا گیا۔ یہ آپ کی امت ہے اور ان میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔“ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں مزید بیان نہیں کیا۔ تو لوگ افاض اور کہنے لگے۔ ہم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اس کے رسول کی اتباع کی ہے۔ پس ہم ہی وہ لوگ ہیں۔ یا اس کا مصداق ہمارے وہ بچے ہیں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو تعویذ نہیں کروائیں گے اور فال نہیں نکالیں گے اور نہ داغیں گے بلکہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کریں گے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25169]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25169، ترقيم محمد عوامة 24088)
ترقیم عوامۃ: 24089 ترقیم الشثری: -- 25170
٢٥١٧٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا مجالد عن الشعبي عن جابر بن عبد الله قال: اشتكى (رجل) (١) منا شكوى شديدة، فقال الاطباء: لا يبرا ⦗١٨٢⦘ إلا بالكي، فاراد اهله ان (يكووه) (٢) ، فقال بعضهم: لا، (حتى) (٣) (نستامر) (٤) رسول الله ﷺ، فاستامروه فقال:"لا (حتى) (٥) يبرا (٦) الرجل"، فلما رآه رسول الله ﷺ قال:"هذا صاحب بني فلان؟"، قالوا: نعم فقال: رسول الله ﷺ:"إن هذا لو كوى، قال الناس إنما ابراه الكي" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (رجلًا).
(٢) في [ز]: (يكوونه).
(٣) في [ط]: (حق).
(٤) في [ط]: (يستامر).
(٥) سقط من: [جـ، ز].
(٦) في [جـ، ز]: (فبرأ).
(٧) ضعيف؛ لحال مجالد، وقد رواه المؤلف في المسند كما في المطالب العالية (٢٥٠٤).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی کو (کسی مرض کی) شدید شکایت ہوگئی تو اطباء نے کہا۔ یہ آدمی صرف داغنے سے صحیح ہوگا۔ اس کے گھر والوں نے ارادہ کیا کہ وہ اس کو داغ لگوا دیں۔ لیکن پھر بعض نے کہا۔ نہیں۔ یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لیں۔ چناچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر وہ آدمی ٹھیک ہوگیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”یہ فلاں قبیلہ کا آدمی ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ آدمی اگر داغا جاتا تو لوگ یہی کہتے کہ اس کو داغنے نے صحت یاب کردیا ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25170]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25170، ترقيم محمد عوامة 24089)
ترقیم عوامۃ: 24090 ترقیم الشثری: -- 25171
٢٥١٧١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد عن حسان بن ابي (وجزة) (١) قال: حدثني (عقار) (٢) عن ابيه عن النبي ﵇ (٣) (انه قال) (٤) :"لم يتوكل من استرقى واكتوى" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (وجرة).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (عفان).
(٣) في [جـ]: ﷺ.
(٤) في [جـ، ز]: زيادة (أنه قال).
(٥) حسن؛ عقار صدوق، أخرجه أحمد (١٨٢١٧)، والبخاري في التاريخ ٧/ ٩٥، والطبراني ٢٠/ (٨٩٢)، والنسائي في الكبرى (٧٦٠٥)، وابن عبد البر ٢٤/ ٦٥، والطيالسي (٦٩٧)، والبيهقي في الشعب (١١٦٦)، كما أخرجه الترمذي (٢٠٥٥)، وابن حبان (٦٠٨٧)، والحاكم ٤/ ٤١٥، والحميد (٧٦٣)، وعبد بن حميد (٣٩٣)، والدارقطني في العلل ٧/ ١١٦، والمزي ٢٠/ ١٨٧، والبغوي (٣٢٤١).
حضرت عقّار اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تعویذ کروائے یا داغ لگوائے اس آدمی نے توکل نہیں کیا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25171]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25171، ترقيم محمد عوامة 24090)
ترقیم عوامۃ: 24091 ترقیم الشثری: -- 25172
٢٥١٧٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن قتادة عن الحسن عن عمران بن حصين عن ابن مسعود (قال) (١) : تحدثنا عند ⦗١٨٣⦘ رسول الله ﷺ ذات ليلة فقال النبي ﷺ:"سبعون الفا يدخلون الجنة لا حساب عليهم: الذين لا يكتوون (ولا يسترقون) (٢) ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقطة في: [هـ].
(٢) سقط من: [ز].
(٣) منقطع؛ الحسن لم يثبت سماعه من عمران، أخرجه أحمد (٣٩٨٧)، وعبد الرزاق (١٩٥١٩)، وابن حبان (٦٠٨٤)، والطيالسي (٤٠٤)، والبزار (٣٥٣٨/ كشف)، وأبو يعلى (٥٣١٨)، والطبراني (٩٧٦٧)، والشاشي (٦٦٠).
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے۔ اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ستر ہزار لوگ جنت میں یوں داخل ہوں گے کہ ان پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگوائیں گے اور نہ ہی تعویذ کروائیں گے اور نہ ہی بدفالی کریں گے بلکہ وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25172]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25172، ترقيم محمد عوامة 24091)
ترقیم عوامۃ: 24092 ترقیم الشثری: -- 25173
٢٥١٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن ابي مجلز قال: من اكتوى كية بنار خاصم فيه الشيطان.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (جرير).
حضرت ابو مجلز سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جس آدمی نے آگ سے داغ لگوایا تو اس میں شیطان جھگڑے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25173]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25173، ترقيم محمد عوامة 24092)
ترقیم عوامۃ: 24093 ترقیم الشثری: -- 25174
٢٥١٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان (عن) (١) محمد بن عمرو عن ابيه عن جده قال: اخذتني ذات الجنب (٢) في زمن عمر (فدعي رجل) (٣) من العرب ان يكويني فابى إلا ان (ياذن) (٤) له عمر، فذهب (ابي) (٥) إلى عمر، فاخبره القصة، فقال عمر: لا (تقربن) (٦) النار، فإن له اجلا لن (يعدوه) (٧) ولن (يقصر) (٨) عنه (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عمن).
(٢) ذات الجنب: التهاب في الغشاء المحيط بالرئة، أو ورم في الحاجز بين البطن والصدر، انظر: المصباح المنير ١/ ١١٠، والمعجم الوسيط ١/ ٣٠٨.
(٣) في [أ، ح، هـ]: (فدعا رجلًا).
(٤) في [ط]: (يوذن).
(٥) في [هـ]: (لي)، وفي [أ، ح، ط]: (بي).
(٦) في [أ، جـ، ح، ز]: (تقرب).
(٧) في [أ، ح، ط]: (تعدوه).
(٨) في [ط]: (تقصر).
(٩) حسن؛ عمرو بن علقمة بن وقاص صدوق.
حضرت محمد بن عمرو، اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر کے زمانہ میں ذات الجنب ہوگیا۔ تو ایک اعرابی کو مجھے داغنے کے لئے بلایا گیا۔ اس نے حضرت عمر کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر میرے والد حضرت عمر کی خدمت میں گئے اور انہیں یہ واقعہ بتایا تو حضرت عمر نے کہا۔ تم آگ کے قریب نہ جانا کیونکہ اس مریض کا ایک وقت مقرر ہے جس سے یہ مریض نہ تو آگے ہوسکتا ہے اور نہ ہی پھے ت رہ سکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25174]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25174، ترقيم محمد عوامة 24093)
ترقیم عوامۃ: 24094 ترقیم الشثری: -- 25175
٢٥١٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد الحميد بن جعفر عن عمران ابن ابي انس قال: قال رسول الله ﷺ:"انهى عن الحميم واكره الكي" (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زاد في نسخة [هـ]: (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ليث عن مجاهد عن عقار بن المغيرة عن أبيه عن النبي ﷺ قال: "من أكتوى أو استرقى فقد برئ من التوكل"، وهذا حديث ضعيف، أخرجه ابن ماجه (٣٤٨٩)، والدارقطني في العلل ٧/ ١١٦، وسبق برقم [٢٥١٧١].
(٢) مرسل؛ عمران تابعي.
حضرت عمران بن ابی انس سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”میں کھولتے ہوئے پانی سے منع کرتا ہوں اور داغنے کو ناپسند کرتا ہوں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25175]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25175، ترقيم محمد عوامة 24094)