🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

181. الرجل يجد مع امرأته رجلا (فيقتلها)
اس آدمی کا بیان جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پایا پس اس نے اسے قتل کردیا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28458 ترقیم الشثری: -- 29709
٢٩٧٠٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب ان رجلا من اهل الشام يقال: له ابن خيبري -وجد مع امراته رجلا (فقتلها) (١) -او قتلهما- فرفع إلى معاوية فاشكل عليه القضاء في ذلك، فكتب إلى ابي موسى: ان سل عليا (في) (٢) ذلك، فسال ابو موسى عليا فقال: إن هذا لشيء ما هو بارضنا، عزمت عليك لتخبرني، فاخبره فقال علي: انا، ابو حسن، إن لم يجئ باربعة شهداء فليدفعوه برمته (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فقتله).
(٢) في [م]: (عن).
(٣) صحيح.

حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا: شام کے باشندوں میں سے ایک شخص جس کا نام ابن خیبری تھا اس نے اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا تو اس نے بیوی کو یا ان دونوں کو قتل کردیا یہ معاملہ حضرت معاویہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ پر اس بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔ آپ نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ وہ اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں۔ پھر حضرت ابو موسیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا؟ آپ نے فرمایا: بیشک یہ معاملہ ہماری زمین میں پیش نہیں آیا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ضرور مجھے اس بارے میں بتلاؤ۔ تو حضرت ابو موسیٰ نے آپ کو اس بارے میں بتلادیا۔ پس حضر ت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ چار گواہ نہ لائے تو تم اس کو مکمل طور پر حوالہ کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29709، ترقيم محمد عوامة 28458)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28459 ترقیم الشثری: -- 29710
٢٩٧١٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا اسباط عن الشيباني عن سلمة قال: رفع إلى مصعب رجل وجد مع امراته رجلا فقتله فابطل دمه.
حضرت مسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب کے سامنے ایک ایسے آدمی کو پیش کیا گیا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پایا تھا تو اس نے اسے قتل کردیا آپ نے اس کا خون رائیگاں قراردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29710، ترقيم محمد عوامة 28459)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28460 ترقیم الشثری: -- 29711
٢٩٧١١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابي عاصم عن الشعبي قال: كان رجلان اخوان من الانصار يقال لاحدهما: اشعث، فغزا في جيش من جيوش المسلمين، قال: فقالت امراة اخيه لاخيه: هل لك في امراة اخيك معها رجل يحدثها؟ فصعد فاشرف عليه وهو معها على فراشها، وهي تنتف له دجاجة: وهو يقول: ⦗٢٧٠⦘ واشعث غرة الإسلام منى … خلوت بعرسه ليل التمام ابيت على حشاياها ويمسي … على دهماء لاحقة الحزام كان مواضع الربلات منها … (فئام) (١) قد جمعن إلى (فئامي) (٢)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (تمام).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (تمامي).

حضرت ابو عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا: دو انصاری آدمی آپس میں بھائی تھے ان میں سے ایک کا نام اشعث تھا وہ مسلمانوں کے لشکروں میں سے کسی لشکر میں جہاد کرنے گیا۔ تو اس کے بھائی کی بیوی اس کے بھائی کو کہنے لگی: تمہارے بھائی کی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی ہے کیا تم اس کا کچھ کرسکتے ہو؟ پس پیچھے رہنے والا آدمی چھت پر چڑھا اور اس نے اپنے بھائی کے گھر میں جھانکا تو اس نے ایک آدمی کو اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ بسترپر دیکھا اور وہ عورت اس کے لیے مرغی کی کھال اتار رہی تھی اور وہ شخص یہ شعر پڑھ رہا تھا۔ ترجمہ:”اشعث کو اسلام نے میرے بارے میں دھوکہ دیا۔ میں نے اس کی دلہن کے ساتھ رات گزاری۔ میں اس کی بیوی کے ساتھ لپٹ کر رات گزار رہا تھا جبکہ وہ موت کی مصیبت میں شام کر رہا تھا۔ اس کی بیوی کے جسم کا گوشت ایسے ہے جیسے پالکی کے گدے ایک دوسرے کے اوپر ڈالے گئے ہوں۔“ یہ سن کر وہ بھائی اس پر کود پڑا اور اس نے تلوار سے وار کر کے قتل کردیا پھر اس کو پھینک دیا اس مقتول نے مدینہ میں صبح کی تو حضرت عمر نے فرمایا: میں اللہ کی قسم دیتا ہوں اس آدمی کو جس کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو مگر یہ کہ وہ کھڑا ہوجائے وہ شخص کھڑا اور اس نے واقعہ کی آپ کو خبر دی اس پر آپ نے فرمایا: یہ شخص برباد اور ہلاک ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29711]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29711، ترقيم محمد عوامة 28460)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29712
0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29712، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29713
0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29713، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29714
0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29714، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29715
٢٩٧١٥ - [*] قال: فوثب إليه الرجل فضربه بالسيف حتى قتله ثم القاه فاصبح قتيلا بالمدينة، فقال عمر: انشد الله رجلا كان عنده من هذا علم إلا قام به، فقام الرجل فاخبره بالقصة فقال: سحق وبعد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، الشعبي لم يدرك عمر.

[*] قال مُعِدُّ الكتاب للشاملة: كذا بالمطبوع، قفز في الترقيم

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29715، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28461 ترقیم الشثری: -- 29716
٢٩٧١٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: الرجل يجد على امراته رجلا فيقتله (١) ، ايهدر دمه؟ قال: ما من امر إلا بالبينة، قلت: إذا شهد عليه انه (زان) (٢) في اهلي قال: وإن اشهد، لا امر إلا بالبينة، (لا امر إلا بالبينة) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (رَآني)، وفي [ب، جـ]: (زاني).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا اس آدمی کے متعلق جو اپنی بیوی کے ہمراہ کسی آدمی کو پائے اور اسے قتل کردے تو کیا اس کا خون رائیگاں جائے گا؟ آپ نے فرمایا: کوئی معاملہ نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ میں نے عرض کی اگر اس شخص کے خلاف گواہی دے دی گئی کہ اس نے میرے گھر میں زنا کیا آپ نے فرمایا: اگر چہ گواہی دے کوئی حکم نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ کوئی حکم نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29716]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29716، ترقيم محمد عوامة 28461)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28462 ترقیم الشثری: -- 29717
٢٩٧١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال: بينا نحن ليلة (١) في المسجد إذ جاء رجل فقال: لو ان رجلا وجد مع امراته رجلا فقتله قتلتموه؟ او تكلم (٢) جلدتموه؟ لاذكرن ذلك ⦗٢٧١⦘ للنبي [صلى الله (عليه وسلم) (٣) ] (٤) فاتاه فذكر ذلك فسكت عنه، فنزلت آية اللعان، فدعاه النبي ﷺ فقراها عليه، فجاء الرجل بعد يقذف امراته، فلاعن رسول الله ﷺ بينهما وقال:"عسى ان تجيء به اسود جعدا"، فجاءت به اسود جعدا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (المسجد).
(٢) في [هـ]: زيادة (به).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [ك]: ﵇.
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٩٥)، وابن حبان (٢٠٦٨)، وأبو داود (٢٢٥٣).

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا: اس درمیان کہ ایک رات ہم مسجد میں تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا؟ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ہمراہ کسی مرد کو پائے اور اسے قتل کردے تو تم اس کو قتل کردو گے یا وہ اس پر تہمت لگائے تو تم اسے کوڑے مارو گے؟ میں ضرور یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کروں گا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے اتنے میں لعان کی آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس پر یہ آیات تلاوت فرمائیں پس اس کے بعد وہ شخص آیا اور اس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا فیصلہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ یہ عورت کالا سکڑا ہوا بچہ لائے پس وہ عورت کالا سکڑا ہوا بچہ ہی لائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29717]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29717، ترقيم محمد عوامة 28462)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28463 ترقیم الشثری: -- 29718
٢٩٧١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك عن وراد عن المغيرة قال: بلغ النبي ﷺ (١) ان سعد بن عبادة يقول: لو وجدت معها رجلا لضربته بالسيف غيرمصفح قال: فقال النبي ﷺ (٢) :"اتعجبون من غيرة سعد، فوالله لانا اغير من سعد، والله اغير مني، ومن اجل غيرة الله (حرم) (٣) (الله) (٤) الفواحش ما ظهر منها وما بطن" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: ﵇.
(٢) في [أ، ب، ط، ك، م]: ﵇.
(٣) سقط من: [أ، ط].
(٤) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٨٤٦)، ومسلم (١٤٩٩).

حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت سعد بن عبادہ یوں فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو میں اسے تلوار کی دھار سے ضرب لگاؤں گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو؟ پس اللہ کی قسم! میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ رب العزت مجھ سے زیادہ غیرت مند ہیں اور اسی وجہ سے اللہ نے بری باتوں کو حرام کیا جن کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29718]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29718، ترقيم محمد عوامة 28463)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں