🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32346 ترقیم الشثری: -- 33849
٣٣٨٤٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن حذيفة قال: الحوض ابيض (من) (١) اللبن، واحلى من العسل، وابرد من الثلج، واطيب ريحا من المسك، آنيته عدد نجوم السماء، ما بين إيلة وصنعاء، من شرب منه لم يظما بعد ذلك ابدا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (مثل).
(٢) ضعيف؛ رواية عاصم عن زر ضعيفة، أخرجه أحمد ٥/ ٣٩٤ (٢٣٣٩٤)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٢٥)، والبزار (٢٩١١)، وأخرجه مرفوعًا مسلم (٢٤٨)، وابن ماجه (٤٣٠٢)، وأحمد (٢٣٣٦٥)، وابن حبان (٧٢٤١).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حوض دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں، اور وہ ایلہ سے صنعاء تک کی مسافت جتنا ہے، جس نے اس سے پی لیا کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33849]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33849، ترقيم محمد عوامة 32346)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32347 ترقیم الشثری: -- 33850
٣٣٨٥٠ - حدثنا ابن عيينة عن ابن ابي نجيح عن مجاهد ﴿وإنه لذكر لك ولقومك (وسوف تسالون) (١) ﴾ [الزخرف: ٤٤] ، يقال: ممن هذا الرجل؟ (فيقال) (٢) : من العرب، فيقال: من اي العرب؟ (فيقال) (٣) : من قريش، ﴿ورفعنا لك ذكرك﴾ [الشرح: ٤] ، لا اذكر إلا ذكرت: اشهد ان لا إله إلا الله واشهد ان محمدا رسول الله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، م].
(٢) في [هـ]: (فيقول).
(٣) في [هـ]: (فيقول).

مجاہد اللہ کے فرمان { وَإِنَّہُ لَذِکْرٌ لَک وَلِقَوْمِک } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ پوچھا جائے گا کہ یہ آدمی کن لوگوں میں سے ہے؟ جوا ب دیا جائے گا کہ عرب میں سے، پوچھا جائے گا کہ عرب کے کون سے قبیلے سے؟ جواب دیا جائے گا قریش سے، { وَرَفَعْنَا لَک ذِکْرَک } کی تفسیر یہ ہے کہ جب بھی میرا ذکر ہوگا تمہارا بھی ذکر ہوگا، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33850]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33850، ترقيم محمد عوامة 32347)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32348 ترقیم الشثری: -- 33851
٣٣٨٥١ - حدثنا شريك بن عبد الله عن ابن شبرمة عن الحسن في قوله: ﴿الم نشرح لك صدرك﴾ (بلى) (١) مليء حكما وعلما، ﴿ووضعنا عنك وزرك (٢) الذي انقض ظهرك﴾ قال: ما اثقل الحمل الظهر: ﴿ورفعنا لك ذكرك﴾ [الشرح: ١ - ٤] ، بلى لا يذكر إلا ذكرت معه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (أي).
ابن شبرمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن نے اللہ کے ارشاد { أَلَمْ نَشْرَحْ لَک صَدْرَک } کی تفسیر میں فرمایا ”کیوں نہیں! بلکہ آپ حکمت اور علم سے بھرے ہوئے ہیں“، { وَوَضَعْنَا عَنْک وِزْرَک الَّذِی أَنْقَضَ ظَہْرَک } فرمایا کہ بوجھ نے پشت کو بوجھل نہیں کیا، { وَرَفَعْنَا لَک ذِکْرَک } کہ جب بھی اللہ کا ذکر ہوگا آپ کا ذکر بھی ساتھ ہوگا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33851]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33851، ترقيم محمد عوامة 32348)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32349 ترقیم الشثری: -- 33852
٣٣٨٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن (حسين) (١) عن الزهري عن محمد ابن جبير بن مطعم عن ابيه ان النبي ﷺ قال:"إن لي اسماء: انا محمد، وانا احمد، وانا الماحي، يمحو الله بي الكفر، وانا الحاشر، احشر الناس على قدمي، وانا العاقب"، قال له إنسان: ما العاقب؟ قال:"لا نبي بعده" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عيينة).
(٢) ضعيف؛ سفيان ضعيف في الزهري، أخرجه الطبراني (١٥٢٦)، وورد بطريق آخر.

حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ میرے بہت سے نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، میرے ذریعے اللہ کفر کو مٹائیں گے، اور میں حاشر ہوں، لوگوں کو میرے قدموں سے اٹھایا جائے گا، اور میں عاقب ہوں، ایک شخص نے عرض کیا کہ عاقب کا کیا معنی ہے؟ فرمایا کہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33852]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33852، ترقيم محمد عوامة 32349)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32350 ترقیم الشثری: -- 33853
٣٣٨٥٣ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن عاصم عن (زر) (١) عن حذيفة قال: مر بي رسول الله ﷺ فقال:" (انا) (٢) محمد واحمد والمقفى والحاشر" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ذر).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) ضعيف؛ رواية عاصم عن زر ضعيفة، أخرجه أحمد (٢٣٤٤٣)، والترمذي في الشمائل (٣٦٠)، وابن حبان (٦٣١٥)، والدولابي ١/ ٢، والبزار (٢٩١٢)، وابن الأعرابي في المعجم (٣٠٣)، والبغوي (٣٦٣١)، وابن سعد ١/ ١٠٤.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد ہوں، مُقفِّی ہوں اور حاشر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33853]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33853، ترقيم محمد عوامة 32350)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32351 ترقیم الشثری: -- 33854
٣٣٨٥٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن المسعودي عن عمرو بن مرة عن ابي عبيدة عن ابي موسى قال: سمى لنا رسول الله ﷺ (لنفسه) (١) اسماء، فمنها ما حفظنا، قال:"انا محمد، وانا احمد، والمقفى، والحاشر، ونبي التوبة، ونبي الملحمة" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نفسه).
(٢) صحيح؛ سماع أبي نعيم من المسعودي قديم، أخرجه مسلم (٢٣٥٥)، وأحمد (١٩٥٢٥).

حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے نا م بیان فرمائے ان میں سے بعض ہم نے یاد کرلیے، فرمایا میں محمد ہوں، احمد ہوں، مُقفِّی ہوں، حاشر ہوں، نبی التوبہ ہوں اور نبی الملحمہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33854]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33854، ترقيم محمد عوامة 32351)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32352 ترقیم الشثری: -- 33855
٣٣٨٥٥ - حدثنا العلاء بن عصيم عن حماد بن زيد عن ايوب عن ابي قلابة ⦗٤٣٣⦘ عن ابي (اسماء) (١) عن ثوبان قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الله زوى لي الارض فرايت مشارقها ومغاريها، وإن امتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها، واعطيت الكنزين الاحمر والابيض"، -قال حماد: وسمعته مرة واحدة يقول:"فاولتها ملك فارس والروم- وإني سالت ربي لامتي ان لا يهلكها بسنة (بعامة) (٢) ، ولا يسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم، يستبيح بيضتهم، وإن ربي قال (لي) (٣) : يا محمد، إني إذا قضيت قضاء فإنه لا يرد، وإني اعطيك لامتك ان لا اهلكها بسنة بعامة، ولا اسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم يستبيح بيضتهم، ولو (اجتمع) (٤) عليهم من بين اقطارها او قال: من اقطارها" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (إسحاق).
(٢) في [أ، ب]: (معامة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب، ط، هـ]: (أجمع).
(٥) صحيح؛ العلاء ثقة، أخرجه مسلم (١٩٢٠)، وأحمد (٢٢٣٩٥).

حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھے، اور میری امت کی حکومت وہاں تک جائے گی جہاں تک میرے لیے لپیٹا گیا، اور مجھے دو خزانے دیے گئے، سرخ وسفید، حماد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے راوی کو یہ کہتے سنا کہ ”میں نے اس کی تعبیر ملک فارس اور روم سے لی، اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ فرمانا، اور ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ فرمانا جوا ان کو جڑ سے ختم کر دے، اور میرے رب نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کردیتا ہوں تو وہ رد نہیں کیا جاسکتا، اور میں نے آپ کی یہ دعا قبول کرلی کہ ان کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور ان پر غیروں میں سے کوئی دشمن مسلّط نہیں کروں گا جو ان کو جڑ سے ختم کر دے، اگرچہ ان پر پوری طاقت جمع کر کے حملہ آور ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33855]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33855، ترقيم محمد عوامة 32352)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32353 ترقیم الشثری: -- 33856
٣٣٨٥٦ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: ثنا عثمان بن حكيم عن عامر بن سعد عن ابيه ان رسول الله ﷺ (١) اقبل ذات يوم من العالية حتى إذا مر بمسجد بني معاوية قال: دخل (فركع) (٢) فيه ركعتين وصلينا معه، ودعا ربه طويلا ثم انصرف إلينا فقال:"سالت ربي ثلاثا، فاعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سالت ربي: ان لا يهلك امتي بالسنة فاعطانيها، وسالته ان لا يهلك امتي بالغرق فاعطانيها، وسالته ان لا يجعل باسهم بينهم (فردت) (٣) علي" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [أ، ب]: (ركع).
(٣) في [هـ]: (فرد).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٩٠)، وأحمد (١٥٧٤).

حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عوالی مدینہ سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب مسجد بنی معاویہ سے گزرے تو اس میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھیں اور آپ نے اللہ سے طویل دعا مانگی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی، دو اللہ نے قبول فرما لیں اور ایک کے قبول کرنے سے انکار فرما دیا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمائے، اللہ نے اس کو قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ میری امت کو ڈوبنے کے عذاب سے ہلاک نہ فرمائے، اس کو بھی قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ ان کو آپس میں لڑنے سے بچا لے، اس دعاء کو رد فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33856]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33856، ترقيم محمد عوامة 32353)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32354 ترقیم الشثری: -- 33857
٣٣٨٥٧ - حدثنا عبد الله بن نميرقال: ثنا محمد بن إسحاق عن حكيم بن حكيم عن علي بن عبد الرحمن عن حذيفة بن اليمان قال: خرج رسول الله ﷺ إلى حرة بني معاوية واتبعت اثره حتى ظهر عليها، فصلى الضحى (ثماني) (١) ركعات طول فيهن ثم انصرف فقال:"يا حذيفة طولت عليك؟"، قلت: الله ورسوله اعلم، قال:"إني سالت الله (٢) ثلاثا فاعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سالته ان لا يظهر على امتي غيرها فاعطانيها، وسالته ان لا يهلكها بالسنين فاعطانيها، وسالته ان لا يجعل باسهم بينهم فمنعني" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (ثمان).
(٢) في [هـ]: زيادة (فيها).
(٣) مجهول؛ لجهالة علي بن عبد الرحمن المعاوي الأنصاري، والحديث أخرجه البخاري في التاريخ ٦/ ٢٨٥، وابن مردويه كما في تفسير ابن كثير ٢/ ١٤١، وابن أبي شيبة في المسند كما في المطالب العالية (٦٤٨).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو معاویہ کے محلہ کی طرف تشریف لے گئے اور میں آپ کے پیچھے چلا، یہاں تک کہ آپ وہاں پہنچ گئے تو آپ نے چاشت کی آٹھ رکعات پڑھیں اور طویل پڑھیں، پھر مڑے اور فرمایا اے حذیفہ رضی اللہ عنہ! میں نے تم پر طوالت کردی؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا کہ میں نے اللہ سے تین چیزوں کا سوال کیا دو اس نے عطاء فرما دیں اور ایک سے منع فرما دیا، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر غیر کو غالب نہ کرنا، اس کو قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ اس کو قحط سے ہلاک نہ فرمانا، اس کو بھی قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ ان کو آپس کی جنگ میں مبتلا نہ فرمانا، اس کو منع فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33857]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33857، ترقيم محمد عوامة 32354)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32355 ترقیم الشثری: -- 33858
٣٣٨٥٨ - حدثنا ابو اسامة عن مالك بن مغول عن الزبير بن عدي عن طلحة عن مرة عن عبد الله قال: لما اسري برسول الله ﷺ انتهي به إلى سدرة المنتهى وهي (بالسماء) (١) السادسة، وإليها ينتهي ما يخرج به من الارض (فيقبض) (٢) منها، ﴿إذ يغشى السدرة ما يغشى﴾ [النجم: ١٦] ، قال: فراش (٣) من ذهب قال: (فاعطي) (٤) ثلاثا: (اعطي) (٥) الصلوات الخمس، واعطي (خواتيم) (٦) سورة البقرة، وغفر لمن ⦗٤٣٥⦘ لا يشرك بالله من امته المقحمات (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ك]: (السماء)، وفي [هـ]: (في السماء).
(٢) في [أ، ب]: (فيفيض)، وفي [م]: (ففيض).
(٣) في [هـ]: زيادة (به).
(٤) في [أ، ب، جـ، ح، م]: (فأعطاني).
(٥) في [أ، ب]: (أعطاني).
(٦) في [م]: (خواتم).
(٧) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣)، وأحمد (٣٦٦٥).

مُرّہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا، جو چھٹے آسمان میں ہے، اور اسی تک وہ اعمال پہنچتے ہیں جو زمین سے لائے جاتے ہیں، اور وہاں سے ان سے لے لیے جاتے ہیں، اور اسی تک وہ چیزیں پہنچتی ہیں جو اوپر سے اتاری جاتی ہیں اور اس جگہ لے لی جاتی ہیں، {إذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی } کا معنی ہے کہ سونے کی تتلیاں اس کو ڈھانپ لیتی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ وہاں آپ کو تین چیزیں عطا کی گئیں، پانچ نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات، اور آپ کی امت کے شرک نہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردیے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33858]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33858، ترقيم محمد عوامة 32355)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں