مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32356 ترقیم الشثری: -- 33859
٣٣٨٥٩ - حدثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن (زر) (١) عن حذيفة ان رسول الله ﷺ اتي بالبراق -وهو دابة ابيض طويل- يضع حافره عند منتهى طرفه -قال: فلم يزايل ظهره هو وجبريل حتى اتيا بيت المقدس، (وفتحت لهما ابواب السماء، وراى الجنة والنار، قال حذيفة: لم يصل في بيت المقدس) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ذر).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) ضعيف؛ لضعف رواية عاصم عن زر، أخرجه أحمد (٢٣٣٤٣)، والترمذي (٣١٤٧)، وابن حبان (٤٥)، والحاكم ٢/ ٣٥٩، والبزار (٢٩١٥)، والحميدي (٤٤٨)، والطيالسي (٤١١)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٠١٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٤.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس براق لایا گیا جو سفید لمبا جانور ہے، اور وہ اپنی نظر کی انتہاء پر ایک قدم رکھتا ہے، آپ اس کی پیٹھ پر جبرئیل کے ساتھ بیٹھے رہے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے، اور ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور آپ نے جنت اور دوزخ کو دیکھا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیت المقدس میں آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33859]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33859، ترقيم محمد عوامة 32356)
ترقیم عوامۃ: 32357 ترقیم الشثری: -- 33860
٣٣٨٦٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الله بن شداد قال: لا اسري بالنبي ﷺ اتي بدابة دون البغل وفوق الحمار، يضع حافره عند منتهى طرفه، يقال له: البراق، ومر رسول الله ﷺ (بعير) (١) للمشركين (فنفرت) (٢) فقالوا: يا هؤلاء ما هذا؟ قالوا: ما نرى شيئا، ما هذه إلا ريح، حتى اتى بيت المقدس فاتي بإنائين في واحد خمر وفي الآخر لبن، فاخذ اللبن، فقال له جبريل: هديت وهديت امتك ثم سار إلى (قصر) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، م]: (بعيره).
(٢) في [أ، ب]: (فنفر به).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (مصر)، وفي الخصائص الكبرى ١/ ٢٩٧: (مضر).
(٤) مرسل؛ أخرجه ابن جرير ١٠/ ١٥.
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ جب نبی 5 کو معراج کروائی گئی تو آپ کے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، وہ اپنا پاؤں وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نظر کی انتہاء ہوتی اس کا نام براق تھا، اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے ایک قافلے کے پاس سے گزرے، وہ اونٹ بدک گئے، وہ کہنے لگے یہ کیا ہے؟ دوسروں نے جواب دیا کہ ہم کو تو کچھ نظر نہیں آرہا، یہ تو ایک ہوا ہی تھی، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچ گئے، پھر آپ کے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا، آپ نے دودھ کو لیا، جبرئیل نے کہا کہ آپ کو ہدایت دی گئی اور آپ کی امت کو بھی ہدایت دی گئی، پھر آپ مصر کی طرف چلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33860]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33860، ترقيم محمد عوامة 32357)
ترقیم عوامۃ: 32358 ترقیم الشثری: -- 33861
٣٣٨٦١ - حدثنا هوذة قال: ثنا عوف عن (زرارة) (١) بن اوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول الله ﷺ:"لما كان ليلة اسري بي واصبحت بمكة (فظعت) (٢) بامري وعرفت ان الناس مكذبي"، فقعد رسول الله ﷺ معتزلا حزينا فمر به ابو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال له كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال:"نعم"، [قال: وما هو؟ قال:"إني اسري بي الليلة"، قال: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قال: ثم اصبحت بين (اظهرنا؟) (٣) قال:"نعم"] (٤) ، فلم (يره) (٥) انه يكذبه مخافة ان (يجحد) (٦) الحديث إن دعا قومه إليه، قال: اتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال:"نعم"، قال: هيا يا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: (فتنفضت) (٧) المجالس، فجاؤوا (حتى) (٨) جلسوا إليهما، فقال له: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول الله ﷺ:"إني اسري بي الليلة"، قالوا: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم اصبحت بين ظهرانينا؟ قال:"نعم"، قال: فبين مصفق وبين واضع يده على راسه متعجبا للكذب زعم، وقالوا (لي) (٩) : اتستطيع ان تنعت لنا المسجد، قال: وفي القوم من قد سافر إلى ذلك البلد وراى المسجد، قال رسول الله ﷺ:"فذهبت انعت لهم، فما زلت انعت لهم وانعت حتى التبس علي بعض ⦗٤٣٧⦘ النعت، فجيء بالمسجد وانا انظر إليه حتى وضع دون دار عقيل او دار عقال، فنعته وانا انظر إليه"، (فقال) (١٠) القوم: اما النعت -فوالله- قد اصاب (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ذرارة).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فصعب).
(٣) في [هـ]: (ظهرانينا).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [هـ]: (يرد).
(٦) في [هـ]: (يجحده).
(٧) في [أ، ب، جـ، م]: (فتنقضت).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) زيادة (لي) من: [أ، ب، جـ، م].
(١٠) في [جـ]: (فقام).
(١١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٨١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٥)، والطبراني (١١٧٨٢)، والبزار (٥٦/ كشف)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٣، والضياء في المختارة ١٠/ ٣٩.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب معراج کی رات ہوئی اور میں نے مکہ میں صبح کی تو میں اپنے معاملے میں حیران ہوگیا اور مجھے لگا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے غمزدہ بیٹھ گئے، چناچہ ابو جہل آپ کے پاس سے گزرا تو آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا، اور آپ سے مذاق کے انداز میں کہا کہ کیا کچھ ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! اس نے کہا کیا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے آج رات معراج کروائی گئی، اس نے کہا کہاں کی؟ فرمایا بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر صبح آپ ہمارے پاس پہنچ گئے؟ فرمایا جی ہاں! اس نے تکذیب ظاہر نہ کی اس خوف سے کہ اگر وہ اپنی قوم کو آپ کے پاس بلائے گا تو کہیں آپ انکار نہ کردیں، چناچہ اس نے کہا اے بنو کعب بن لؤیّ کی جماعت! آؤ، چناچہ مجلس چھٹ گئی اور وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے، اس نے آپ سے کہا کہ اپنی قوم کو بھی وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے مجھے بیان کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات مجھے معراج کروائی گئی، انہوں نے کہا کہاں کی؟ آپ نے فرمایا بیت المقدس کی، وہ کہنے لگے پھر صبح کے وقت آپ ہمارے پاس پہنچ گئے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! کہتے ہیں کہ بعض تالیاں پیٹنے لگے اور بعض نے تعجب سے اپنے سر پر ہاتھ رکھا، اور مجھے کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں مسجد کی صفت بیان کرسکتے ہیں؟ اور لوگوں میں سے بعض نے اس شہر کا سفر کیا ہوا تھا اور مسجد کو دیکھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کو صفت بیان کرنے لگا، یہاں تک کہ بعض صفات میں مجھے شک ہوگیا، چناچہ مسجد کو میرے سامنے لایا گیا جبکہ میں اس کو دیکھ رہا تھا، اور دار عقیل یا دار عقال کے سامنے رکھ دی گئی، میں اس کو دیکھ کر اس کی صفت بیان کرنے لگا، لوگ کہنے لگے کہ صفت تو بخدا بالکل درست ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33861]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33861، ترقيم محمد عوامة 32358)
ترقیم عوامۃ: 32359 ترقیم الشثری: -- 33862
٣٣٨٦٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا عمار بن (رزيق) (١) عن عبد الله ابن عيسى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: بينما جبريل (جالسا) (٢) عند رسول الله ﷺ إذ سمع نقيضا من فوقه فرفع راسه فقال: لقد فتح باب من السماء ما فتح قط، قال: فاتاه ملك فقال: ابشر بنورين اوتيتهما لم يعطهما من كان (قبلك) (٣) : فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة، لم تقرا (منها) (٤) حرفا إلا اعطيته (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (زريق).
(٢) في [هـ]: (جالس).
(٣) في [أ، ب، جـ]. (قبلي).
(٤) في [هـ]: (منهما).
(٥) حسن؛ معاوية بن هاشم صدوق، أخرجه مسلم (٨٠٦)، والنسائي (٨٠١٤)، وابن حبان (٧٧٨)، والحاكم ١/ ٥٥٨.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے اپنے اوپر ٹوٹنے کی آواز سنی، آپ نے سر اٹھایا تو فرمایا کہ آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، چناچہ آپ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا کہ آپ کو دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کو عطا کیے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کئے گئے، سورة الفاتحۃ اور سورة البقرہ کی آخری آیات، آپ ان میں سے جس حرف کو پڑھیں گے آپ کو عطا کردیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33862]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33862، ترقيم محمد عوامة 32359)
ترقیم عوامۃ: 32360 ترقیم الشثری: -- 33863
٣٣٨٦٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن ابي هند قال: حدثني عبد الله بن قيس قال: كنت عند ابن ابي بردة ذات ليلة فدخل (علينا) (١) الحارث بن (اقيش) (٢) فحدث الحارث ان رسول الله ﷺ قال:"إن من امتي من يدخل الجنة ⦗٤٣٨⦘ (بشفاعته) (٣) اكثر من مضر" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (عليها علينا)، وفي [جـ، م]: (عليه).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (قيس)، وفي [م]: (قيش).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن قيس، أخرجه أحمد (١٧٨٥٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٠٥٥)، والطبراني (٣٣٥٩)، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٣٧٧، والحاكم ١/ ١٤٢ (٢٣٨)، وابن المبارك في المسند (١٠٨)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٢٦١، والمزي ٥/ ٢١٤، وهناد (١٨٤).
عبد اللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت ابو بردہ کے پاس تھا کہ حارث بن أقیش ہمارے پاس آئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کی شفاعت سے قبیلہ مضر کے لوگوں سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33863]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33863، ترقيم محمد عوامة 32360)
ترقیم عوامۃ: 32361 ترقیم الشثری: -- 33864
٣٣٨٦٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا زكريا قال: ثنا عطية عن ابي سعيد ان النبي ﷺ قال:"إن من امتي من يشفع للرجل (ولاهل) (١) (بيته) (٢) فيدخلون الجنة بشفاعته" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (وللأهل).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) ضعيف؛ لضعف عطية، أخرجه أحمد (١١١٤٨)، والترمذي (٢٤٤٠)، وعبد بن حميد (٩٠٣)، وأبو يعلى (١٠١٤)، والبزار (٣٤٥٨/ كشف).
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ میری امت میں بعض لوگ ایسے ہوں گے جو کسی آدمی اور اس کے اہل بیت کے لئے شفاعت کریں گے اور وہ اس کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33864]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33864، ترقيم محمد عوامة 32361)
ترقیم عوامۃ: 32362 ترقیم الشثری: -- 33865
٣٣٨٦٥ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن انس قال: قال رسول الله ﷺ:"لقد اوذيت في الله وما يؤذى احد، ولقد اخفت في الله وما يخاف احد، ولقد اتت علي (ثالثة) (١) ما بين يوم وليلة ما لي ولبلال طعام ياكله ذو كبد إلا ما واراه إبط بلال" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (ثلاث).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٢٢١٢)، والترمذي (٢٤٧٤)، وابن ماجه (١٥١)، وابن حبان (٦٥٦٠)، وأبو يعلى (٣٤٢٣)، وعبد بن حميد (١٣١٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٦٣٢)، والضياء في المختارة (١٦٣٣)، وأبو عوانة ٢/ ٣٩، وأبو نعيم في الدلائل (٣٥٣).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ کے راستے میں اتنی اذیتیں دی گئیں جتنی کسی کو نہیں دی گئیں، اور مجھے اللہ کے بارے میں اتنا ڈرایا گیا جتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا، اور ہم پر تیسری رات ایسی آئی کہ میرے اور بلال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کو کوئی کلیجہ رکھنے والا شخص کھائے، سوائے اس کے جس کو بلال کی بغل چھپالے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33865]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33865، ترقيم محمد عوامة 32362)
ترقیم عوامۃ: 32363 ترقیم الشثری: -- 33866
٣٣٨٦٦ - حدثنا يحيى بن (ابي) (١) بكير قال: حدثني إبراهيم بن طهمان قال: ⦗٤٣٩⦘ حدثني سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إني لاعرف حجرا بمكة يسلم علي قبل ان ابعث، إني لاعرفه الآن" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (٢٢٧٧)، وأحمد (٢٠٨٢٨).
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مکہ میں ایسے پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھے میری بعثت سے پہلے سلام کرتا تھا، میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33866]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33866، ترقيم محمد عوامة 32363)
ترقیم عوامۃ: 32364 ترقیم الشثری: -- 33867
٣٣٨٦٧ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: ثنا موسى بن مسلم عن عبد الرحمن ابن سابط قال: قال رسول الله ﷺ (١) :"إن الله (تجلى) (٢) لي في احسن صورة فسالني فيما اختصم الملا الاعلى؟ قال: فقلت: ربي لا علم لي به، قال: فوضع يده بين كتفي (حتى وجدت بردها بين ثديي، او وضعهما بين ثديي حتى وجدت بردها بين كتفي) (٣) فما سالني عن شيء إلا علمته" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [م]: (تحلى).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) مرسل، وأخرجه من حديث ابن سابط عن أبي أمامة الطبراني (٨١١٧)، والقزويني في التدوين ١/ ٢٠٠، والدارقطني في الرؤية (٢٧٧)، والروياني ٢/ ٢٩٩، وأبو يعلى كما في المطالب (٣٧٠٠)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ٣٢٤، وابن أبي عاصم في السنة (٤٦٦).
حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے بہترین صورت میں تجلی فرمائی اور مجھ سے سوال کیا کہ ملأ اعلیٰ کس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہیں، میں نے عرض کیا اے میرے رب! مجھے اس کا علم نہیں، کہتے ہیں کہ پھر اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں پائی، یا فرمایا کہ اللہ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے کندھوں کے درمیان پائی، اور مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا اس کو میں نے جان لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33867]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33867، ترقيم محمد عوامة 32364)
ترقیم عوامۃ: 32365 ترقیم الشثری: -- 33868
٣٣٨٦٨ - حدثنا عبد الله بن نمير قال حدثني سعد بن سعيد قال: حدثني انس ابن مالك قال: بعثني ابو طلحة إلى رسول الله ﷺ لادعوه، قال: فاقبلت ورسول الله ﷺ (١) مع الناس، قال: فنظر إلي فاستحييت فقلت: اجب ابا طلحة، فقال للناس:"قوموا"، فقال ابو طلحة: يا رسول الله، إنما صنعت شيئا لك، قال: فمسها رسول الله ﷺ ودعا فيها بالبركة، وقال:"ادخل نفرا من اصحابي عشرة"، فاكلوا حتى شبعوا، فما زال يدخل عشرة ويخرج عشرة، حتى لم يبق منهم احد إلا دخل فاكل حتى شبع، ثم هياها فإذا هي (مثلها) (٢) حين اكلوا منها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) حسن؛ سعد صدوق، أخرجه البخاري (٥٤٥٠)، ومسلم (٢٠٤٠).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ کو بلانے کے لئے بھیجا، چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ لوگوں کے ساتھ تھے، آپ نے مجھے دیکھا تو میں شرمایا، اور میں نے عرض کیا کہ ابو طلحہ کے پاس چلیے، آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو، ابو طلحہ نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو صرف آپ کے لیے چیز تیار کی تھی، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہاتھ لگایا اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، اور فرمایا کہ میرے دس صحابہ کو بلاؤ، انہوں نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، چناچہ آپ مسلسل دس کو بلاتے اور دس کو فارغ کرتے رہے یہاں تک کہ کوئی نہ بچا جو کھانا کھا کر سیر نہ ہوگیا ہو، پھر آپ نے اس کو برابر کیا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا کھانے سے پہلے تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33868]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33868، ترقيم محمد عوامة 32365)