مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32376 ترقیم الشثری: -- 33879
٣٣٨٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن انس قال: ما شممت ريحا قط، مسكا ولا عنبرا اطيب من ريح رسول الله ﷺ، ولا مسست خزا ولا حريرا الين من كف رسول الله ﷺ (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٩٧٣)، وأحمد (١٣٠٧٤).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مشک یا عنبر اور کوئی بھی خوشبو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ اچھی نہیں سونگھی، اور میں نے خالص عنبر یا خالص ریشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں پایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33879]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33879، ترقيم محمد عوامة 32376)
ترقیم عوامۃ: 32377 ترقیم الشثری: -- 33880
٣٣٨٨٠ - حدثنا ابن نمير عن الاجلح عن (ذيال) (١) بن حرملة عن جابر بن عبد الله قال: اقبلنا مع رسول الله ﷺ من سفر حتى إذا (دفعنا) (٢) إلى حائط من حيطان بني النجار إذا فيه جمل قطم -يعني هائجا-، لا يدخل (احد الحائط) (٣) إلا شد عليه، قال: فجاء النبي ﷺ حتى اتى الحائط فدعا البعير، فجاء واضعا مشفره (في الارض) (٤) حتى برك بين يديه فقال النبي ﷺ:"هاتوا خطاما"، فخطمه ودفعه إلى اصحابه، ثم التفت إلى الناس فقال:"إنه ليس شيء بين السماء والارض ⦗٤٤٦⦘ إلا ويعلم اني رسول الله غير عاصي الجن والإنس" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (رمال).
(٢) في [ب]: (رفعت).
(٣) في [م]: (الحائط أحد).
(٤) في [جـ]: (بالأرض).
(٥) حسن؛ ذيال بن حرملة صدوق، أخرجه أحمد (١٤٣٣٣)، وعبد بن حميد (١١٢٢)، والدارمي (١٨)، وأبو نعيم في الدلائل (٢٧٩)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٢٨، وابن حبان في الثقات ٤/ ٢٢٣، وأخرجه الطبراني (١٢٧٤٤) من حديث ابن عباس.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے واپس آئے، یہاں تک کہ جب بنو نجار کے باغ تک پہنچے تو اس میں ایک وحشی اونٹ تھا، جو بھی اس باغ میں داخل ہوتا اس پر حملہ کردیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور اونٹ کو بلایا، وہ زمین میں اپنا جبڑا گھسیٹتا ہوا آیا اور اس نے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نکیل لاؤ، آپ نے اس کو نکیل ڈالی اور اس کے مالکوں کے حوالے کردیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان کوئی بھی ایسا نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے نافرمان انسانوں اور جنوں کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33880]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33880، ترقيم محمد عوامة 32377)
ترقیم عوامۃ: 32378 ترقیم الشثری: -- 33881
٣٣٨٨١ - حدثنا ابو معاوية ووكيع عن الاعمش عن عبد الله بن مرة عن ابي الاحوص عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ (١) :"إني (ابرا) (٢) إلى كل خليل من (خلته) (٣) غير ان الله قد اتخذ صاحبكم خليلا"، قال وكيع: من خله (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [أ، ب]: (لأبرأ).
(٣) في [ط]: (خليله).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٨٣)، وأحمد (٣٥٨٠).
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ہر دوست کی دوستی سے بری ہوں، مگر اللہ نے تمہارے ساتھی کو دوست بنایا ہے، وکیع کی روایت میں ”من خلّٖہ“ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33881]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33881، ترقيم محمد عوامة 32378)
ترقیم عوامۃ: 32379 ترقیم الشثری: -- 33882
٣٣٨٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الله (بن السائب) (١) عن زاذان عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إن لله ملائكة سياحين في الارض (يبلغونني) (٢) من امتي السلام" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ، هـ]: (يبلغوني).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (٤٢١٠)، والنسائي ٣/ ٤٣، والحاكم ٢/ ٤٢١، وابن حبان (٩١٤)، وأبو يعلى (٥٢١٣)، والطبراني (١٠٥٢٩)، والدارمي ٢/ ٣١٧، والبزار (٨٤٥/ كشف)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٠٠، والبغوي (٦٨٧)، وإسماعيل القاضي (٢١).
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بعض فرشتے زمین میں چکر لگانے والے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33882]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33882، ترقيم محمد عوامة 32379)
ترقیم عوامۃ: 32380 ترقیم الشثری: -- 33883
٣٣٨٨٣ - حدثنا (عبيد الله) (١) عن إسرائيل عن منصور (عن إبراهيم) (٢) عن علقمة عن عبد الله قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ وليس معنا ماء، فقال رسول ⦗٤٤٧⦘ الله ﷺ لنا:"اطلبوا من معه فضل ماء"، فاتي بماء فصبه في إناء، (ثم) (٣) وضع كفه فيه فجعل الماء يخرج من بين اصابعه، ثم قال:"حي على الطهور المبارك والبركة من الله"، قال: فشربنا منه، قال عبد الله: وكنا نسمع تسبيح الطعام ونحن ناكل (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) تكرر في [هـ].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٧٩)، وأحمد (٤٣٩٣).
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس پانی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کے پاس بچا کھچا پانی ہو لاؤ، آپ کے پاس پانی لایا گیا، آپ نے اس کو ایک برتن میں ڈالا پھر اپنا ہاتھ اس میں ڈالا، تو آپ کی انگلیوں سے پانی نکلنے لگا، پھر آپ نے فرمایا کہ مبارک پاک پانی اور اللہ کی طرف سے برکت پر آؤ، کہتے ہیں کہ ہم نے اس میں سے پیا، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم کھاتے ہوئے کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33883]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33883، ترقيم محمد عوامة 32380)
ترقیم عوامۃ: 32381 ترقیم الشثری: -- 33884
٣٣٨٨٤ - حدثنا عبيدة بن حميد عن الاسو بن قيس عن نبيح بن عبد الله (العنزي) (١) عن جابر بن عبد الله قال: سافرنا مع رسول الله ﷺ فحضرت الصلاة، فجاء رجل (بفضلة) (٢) في إداوة فصبه في قدح، قال: فتوضا رسول الله ﷺ (٣) ، ثم إن القوم اتوا بقية الطهور وقالوا: تمسحوا تمسحوا، قال: فسمعهم رسول الله ﷺ فقال:"على رسلكم"، قال: فضرب رسول الله ﷺ يده في (القدح) (٤) في جوف الماء ثم قال:"اسبغوا الطهور"، قال: فقال جابر بن عبد الله: والذي اذهب بصره (٥) ، لقد رايت الماء يخرج من بين اصابع رسول الله ﷺ، فما (رفع) (٦) يده حتى توضؤوا اجمعون، (قال) (٧) الاسود: (احسبه) (٨) قال: كنا مائتين او زيادة (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (العربي).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (بفضله)
(٣) في [م]: ﵇.
(٤) في [أ، ب، جـ]: (قدح).
(٥) في [هـ]: زيادة (بصري قال: وكان قد ذهب).
(٦) في [أ، ب]: (رفعوا).
(٧) في [أ، ب، م]: (فقال).
(٨) في [م]: (حسبته).
(٩) صحيح؛ أخرجه مسلم (٣٠١٣)، وأحمد (١٤٨٦٠).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو نماز کا وقت ہوگیا، ایک آدمی ایک برتن میں بچا ہوا پانی لایا، اس نے اس کو ایک پیالے میں ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر لوگ اپنا وضو کا بچا ہوا پانی لانے لگے اور کہنے لگے کہ مسح کرلو مسح کرلو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سن لیا، فرمایا کہ ٹھہر جاؤ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی میں رکھا اور فرمایا کہ کامل وضو کرو، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس نے میری بصارت لے لی، میں نے پانی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے نکلتے ہوئے دیکھا، آپ نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا یہاں تک کہ سب نے وضو کرلیا، اسود راوی فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ ہم دو سو یا اس سے زیادہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33884]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33884، ترقيم محمد عوامة 32381)
ترقیم عوامۃ: 32382 ترقیم الشثری: -- 33885
٣٣٨٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد الطويل عن انس بن مالك قال: حضرت الصلاة فقام من كان قريبا من المسجد فتوضا، وبقي ناس فاتي رسول الله ﷺ بمخضب من حجارة فيه ماء، فوضع كفه في المخضب فصغر المخضب (١) ان يبسط كفه فيه، فضم اصابعه فتوضا القوم جميعا، قلنا: كم كانوا؟ قال: ثمانين (رجلا) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن).
(٢) في [هـ]: زيادة (أو زيادة).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٧٥)، وأحمد (١٢٠٣٢).
حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوا اور جو لوگ مسجد کے قریب تھے کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور کچھ لوگ باقی رہ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک برتن لایا گیا جس میں پانی تھا، آپ نے اپنا ہاتھ ا س میں رکھ دیا وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ ہاتھ کو پھیلا نہ سکے، آپ نے انگلیاں ملا لیں اور سب لوگوں نے وضو کرلیا، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا کہ وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے کہا کہ اسّی آدمی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33885]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33885، ترقيم محمد عوامة 32382)
ترقیم عوامۃ: 32383 ترقیم الشثری: -- 33886
٣٣٨٨٦ - حدثنا ابو اسامة عن زكريا عن ابي إسحاق عن البراء قال: نزلنا يوم الحديبية فوجدنا (ماءها) (١) قد شربه اوائل الناس فجلس النبي ﷺ على البئر ثم دعا بدلو منها فاخذ منه (بغية) (٢) ثم مجه فيها ودعا الله، فكثر ماؤها حتى تروى الناس منها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ماءه).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (بقية).
(٣) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند البخاري (٤١٥١)، وأخرجه البخاري (٣٥٧٧)، وأحمد (١٨٥٦٣).
حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ کے دن پڑاؤ کیا تو ہم نے دیکھا کہ اس کا پانی پہلے آنے والے لوگوں نے پی لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں پر بیٹھ گئے اور ایک ڈول منگایا، اور اس میں سے اپنے منہ مبارک میں پانی لیا اور اس میں ڈال دیا اور اللہ سے دعا کی، چناچہ اس کا پانی زیادہ ہوگیا، یہاں تک کہ لوگ اس سے سیراب ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33886]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33886، ترقيم محمد عوامة 32383)
ترقیم عوامۃ: 32384 ترقیم الشثری: -- 33887
٣٣٨٨٧ - حدثنا مروان عن عوف عن ابي رجاء قال: ثنا عمران بن الحصين قال: كنا مع رسول الله ﷺ في سفر فشكا الناس إليه العطش، فدعا فلانا ودعا عليا، (فقال) (١) :"اذهبا (فابغياني) (٢) الماء"، فانطلقا فتلقيا امراة معها مزادتان او سطحيتان، قال: فجاءا بها إلى النبي ﷺ (٣) فدعا النبي ﷺ (٤) بإناء فافرغ فيه من ⦗٤٤٩⦘ افواه المزادتين او السطحيتين ثم اوكا افواههما، واطلق العزالى، ونودي في الناس: ان اسقوا واستقوا، قال: فسقى من سقى (واستقى من استقى) (٥) ، قال: وهي قائمة تنظر إلى ما يصنع بمائها، قال: فوالله لقد اقلع عنها حين اقلع وإنه ليخيل إلينا انها اشد (ملاءا) (٦) منها (حيث) (٧) ابتدا فيها فقال رسول الله ﷺ:"والله ما رزاناك من ماءك شيئا، ولكن الله سقانا" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٢) في [هـ]: (فابغيا لي).
(٣) في [م]: ﵇.
(٤) في [م]: ﵇.
(٥) في [أ، ب، جـ]: (واستستقى من استسقى).
(٦) في [هـ]: (ملاءة).
(٧) في [هـ]: (حين).
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٨)، ومسلم (٦٨٢).
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگوں کو پیاس کی شکایت ہوئی، آپ نے فلاں کو اور علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور فرمایا کہ جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو، چناچہ وہ چلے اور انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس دو مٹکے یا مشکیزے تھے، وہ اس عورت کو نبی 5 کے پاس لائے، نبی 5 نے ایک برتن منگایا اور اس میں مشکیزوں یا مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا پھر ان کے منہ بند کردیے اور رسّی چھوڑی، اور لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ پانی لے لو اور بھر لو، چناچہ جس نے پینا تھا پی لیا اور جس نے بھرنا تھا بھر لیا، اور وہ کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کا کیا کیا جار ہا ہے، کہتے ہیں واللہ! اس کو اس طرح چھوڑا گیا کہ ہمیں گمان ہو رہا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ! ہم نے تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا بلکہ ہمیں اللہ نے پلایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33887]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33887، ترقيم محمد عوامة 32384)
ترقیم عوامۃ: 32385 ترقیم الشثری: -- 33888
٣٣٨٨٨ - حدثنا محمد بن بشر (قال: ثنا مسعر) (١) قال: ثنا عمرو بن مرة (قال: حدثنا) (٢) عبد الله بن سلمة قال: قال عبد الله: كل شيء اوتي (نبيكم) (٣) إلا مفاتيح الخمس ﴿إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الارحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا (وما تدري نفس باي ارض تموت) (٤) ﴾ الآية (كلها) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [جـ]: (عن).
(٣) في [أ]: (نبئكم)، وفي [ب]: (نيئكم).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٥) زيادة من: [أ، ب، م].
(٦) حسن؛ الصواب أن عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه أحمد (٤٢٥٣)، والطيالسي (٣٨٥)، وأبو يعلى (٥١٥٣)، والشاشي (٨٨٧)، وابن جرير في التفسير ٢١/ ٨٩، والحميدي (١٢٤).
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی کو ہر چیز دی گئی سوائے پانچ چیزوں کی کنجیوں کے، { اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}۔ ترجمہ: بیشک قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے۔ یہی بارش برساتا ہے۔ وہی جانی ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے۔ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33888]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33888، ترقيم محمد عوامة 32385)