🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32366 ترقیم الشثری: -- 33869
٣٣٨٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سليمان التيمي عن ابي العلاء ابن الشخير عن سمرة بن جندب ان رسول الله ﷺ اتي بقصعة من ثريد فوضعت بين يدي القوم فتعاقبوها (إلى الظهر) (١) من (غدوة) (٢) يقوم قوم ويجلس آخرون، فقال رجل: يا سمرة اكانت تمد، قال سمرة: من اي شيء (٣) (تعجب؟) (٤) ما كانت تمد إلا من ها هنا واشار بيده إلى السماء (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [أ، ب]: (غزوة).
(٣) زيادة في [أ، ب]: (كانت)، وفي [جـ، م]: (كنا).
(٤) في [جـ، م]: (نعجب).
(٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٠١٩٦)، والترمذي (٣٦٢٥)، والنسائي في الكبرى (٦٧٤٠)، وابن حبان (٦٥٢٩)، والحاكم ٢/ ٦١٨، والطبراني (٦٩٦٧)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣٣٥)، والفريابي في دلائل النبوة (١٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٩٣.

حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا، وہ ایک دوسرے کے بعد صبح سے دوپہر تک آ کر کھاتے رہے، ایک جماعت اٹھتی اور دوسری بیٹھ جاتی، ایک آدمی نے پوچھا اے سمرہ! کیا وہ بڑھ رہا تھا؟ سمرہ نے فرمایا کہ بھلا ہمیں کس چیز پر تعجب ہوتا، وہ تو وہاں سے بڑھ رہا تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33869]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33869، ترقيم محمد عوامة 32366)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32367 ترقیم الشثری: -- 33870
٣٣٨٧٠ - حدثنا المحاربي عن عبد الواحد بن ايمن عن ابيه قال: قلت لجابر بن عبد الله: حدثني بحديث عن رسول الله ﷺ (١) سمعته منه ارويه عنك، فقال جابر: كنا مع رسول الله ﷺ يوم الخندق نحفر (٢) فلبثنا ثلاثة ايام لا نطعم طعاما ولا نقدر عليه، فعرضت في الخندق كدية، فجئت إلى رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله هذه كدية قد عرضت في الخندق، فرششنا عليها الماء، قال: فقام رسول الله ﷺ وبطنه معصوب بحجر، فاخذ المعول او المسحاة ثم سمى ثلاثا ثم ضرب فعادت كثيبا اهيل، فلما رايت ذلك من رسول الله ﷺ (قلت: يا رسول الله) (٣) ائذن لي، فاذن لي، فجئت امراتي فقلت: ثكلتك امك، قد رايت من رسول الله ﷺ شيئا لا اصبر ⦗٤٤١⦘ عليه، فما عندك؟ قالت: عندي صاع من شعير وعناق، (قال) (٤) : (فطحنا) (٥) الشعير (وذبحنا) (٦) العناق وسلخناها وجعلناها في البرمة وعجنا الشعير، ثم رجعت إلى رسول الله ﷺ (فلبثت) (٧) ساعة واستاذنته (٨) فاذن لي فجئت، فإذا العجين قد امكن، فامرتها بالخبز، وجعلت القدر على الاثافي، ثم جئت رسول الله ﷺ (فساررته) (٩) فقلت: إن عندنا طعيما لنا، فإن رايت ان تقوم معي انت ورجل او رجلان معك فعلت، قال:"وكم هو؟" قلت: صاع من شعير وعناق، قال:"ارجع إلى اهلك وقل لها لا تنزعي البرمة من الاثافي ولا تخرجي الخبز من التنور حتى آتي"، ثم قال للناس:"قوموا إلى بيت جابر"، قال: فاستحييت حياء لا يعلمه إلا الله، فقلت لامراتي: ثكلتك امك جاءك رسول الله ﷺ باصحابه اجمعين، فقالت: اكان رسول الله ﷺ سالك عن الطعام؟ فقلت: نعم، فقالت: الله ورسوله اعلم، قد اخبرته بما كان عندنا، قال: فذهب عني بعض ما (١٠) اجد، قلت لها: صدقت، قال: فجاء رسول الله ﷺ فدخل ثم قال لاصحابه:"لا تضاغطوا"، ثم برك على التنور وعلى البرمة، ثم جعلنا ناخذ من التنور الخبز وناخذ اللحم من البرمة، فنثرد ونغرف ونقرب إليهم، وقال رسول الله ﷺ:"ليجلس على الصحفة سبعة او ثمانية"، قال: فلما اكلوا كشفنا التنور والبرمة فإذا هما قد عادا إلى املا ما كانا [فنثرد ⦗٤٤٢⦘ ونغرف ونقرب إليهم فلم نزل نفعل كذلك كلما فتحنا التنور وكشفنا عن البرمة وجدناهما املا ما كانا] (١١) ، حتى شبع المسلمون كلهم، وبقي طائفة من الطعام، فقال لنا رسول الله ﷺ:"إن الناس قد اصابتهم نحمصة فكلوا واطعموا"، قال: فلم نزل يومنا ناكل ونطعم، قال: واخبرني انهم كانوا ثمانمائة او ثلاثمائة (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [هـ]: زيادة (فيه).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ]: (قالت).
(٥) في [م]: (فطبخنا).
(٦) في [أ، ب]: (وطبخنا).
(٧) في [ب]: (فلبث).
(٨) في [هـ]: زيادة (الثانية).
(٩) في [أ، ب]: (فساورته).
(١٠) في [هـ]: زيادة (كنت).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٢) صحيح؛ أخرجه ابن عبد البر في التمهيد ١/ ٢٩٢، وأبو عوانة (٨٩٣٨)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٤٢٤، والفريابي (١٨)، وأصله عند البخاري (٤١٠١)، وأحمد (١٤٢٥٨).

ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے ان سے سنی ہو میں اس کو آپ کے حوالے سے روایت کروں گا، حضرت جابر نے فرمایا کہ ہم خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خندق کھود رہے تھے، چناچہ ہم نے تین دن نہ کچھ کھایا اور نہ اس پر قادر تھے، چناچہ خندق میں ایک چٹان آڑے آگئی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ چٹان خندق میں آڑھے آگئی ہے، ہم نے اس پر پانی چھڑکا، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا، آپ نے کدال کو یا پھاوڑے کو پکڑا، پھر تین مرتبہ بسم اللہ پڑھی، پھر اس پر ضرب لگائی تو وہ ریت کی طرح ہوگیا۔ (٢) جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے، آپ نے مجھے اجازت دی، میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور میں نے کہا تجھے تیری ماں روئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھے صبر نہیں آتا، تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرے پاس ایک صاع جو اور بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے جو کو ٹے اور بکری کو ذبح کیا، اور ہم نے اس کی کھال اتاری اور اس کو ہنڈیا میں ڈال دیا اور جو کا آٹا گوندھا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایک گھڑی ٹھہرا اور پھر آپ سے اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی، پھر میں آیا توآٹا تیار تھا، میں نے اس کو روٹیاں پکانے کا کہا اور ہنڈیا کو چولہے پر چڑھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سرگوشی کی، میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے، اگر آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی میرے ساتھ شریک آجائیں تو بہتر ہے، آپ نے پوچھا کہ وہ کتنا ہے؟ میں نے عرض کیا ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھر جاؤ اور گھر والوں سے کہو کہ ہنڈیا کو چولہے سے نہ اتاریں اور روٹیوں کو تنور سے نہ نکالیں یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔ (٣) پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جابر کے گھر کی طرف چلو، کہتے ہیں کہ مجھے ایسی شرم آئی کہ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیری ماں تجھے روئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے گھر تمام صحابہ کے ساتھ آ رہے ہیں، اس نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کھانے کا پوچھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے ان کو اپنا کھانا بتلا دیا ہے، میری پریشانی کم ہوگئی اور میں نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ (٤) کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اندر داخل ہوگئے اور آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ہجوم نہ کرو، پھر آپ نے تنور اور ہنڈیا پر برکت کی دعا فرمائی، اور ہم تنور سے روٹی اور ہنڈیا سے گوشت لیتے رہے اور ثرید بنا کر لوگوں کو پیش کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک پیالے پر سات یا آٹھ آدمی بیٹھیں، جب انہوں نے کھالیا تو ہم نے تنور سے پردہ ہٹایا اور ہنڈیا سے ڈھکن اٹھایا، تو وہ پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے تھے، پھر ہم ثرید کرتے اور چمچ بھر کر اس میں ڈالتے اور ان کے قریب کرتے اور ایسا ہی کرتے رہے، جب بھی تنور کھولتے اور ہنڈیا کھولتے ان کو پہلے سے زیادہ بھرا ہوا پاتے، یہاں تک کہ تمام مسلمان سیر ہوگئے، اور کھانا بھی بچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ لوگوں کو بھوک لگی ہے اس لئے تم کھاؤ اور کھلاؤ، کہتے ہیں کہ ہم سارا دن کھاتے اور کھلاتے رہے، کہتے ہیں کہ ہم اس وقت آٹھ سو یا تین سو تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33870]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33870، ترقيم محمد عوامة 32367)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32368 ترقیم الشثری: -- 33871
٣٣٨٧١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي عن جابر قال: توفي او استشهد عبد الله بن عمرو بن حرام، فاستعنت برسول الله ﷺ على غرمائه ان يضعوا من (دينهم) (١) شيئا فابوا، فقال لي رسول الله ﷺ:"اذهب فصنف تمرك اصنافا ثم اعلمني"، قال: ففعلت (فجعلت) (٢) العجوة على حدة وصنفته اصنافا، ثم اعلمت رسول الله ﷺ قال: فجاء فقعد على اعلاه او في وسطه ثم قال:"كل للقوم"، فكلت لهم حتى وفيتهم و (بقي) (٣) تمري كانه لم ينقص منه شيء (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (دينه).
(٢) في [جـ]: (جعلت).
(٣) في [أ، ب، جـ، هـ]: (هي).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٢٧)، وأحمد (١٤٣٥٩).

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن حرام فوت ہوئے، یا فرمایا کہ شہید ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے قرض خواہوں پر مدد چاہی کہ وہ اپنے قرضے سے کچھ چھوڑ دیں، انہوں نے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور اپنی کھجوروں کی ڈھیریاں لگاؤ اور پھر مجھے بتاؤ، کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا اور عجوہ کو علیحدہ کیا اور علیحدہ علیحدہ ڈھیریاں لگا دیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ان کے اوپر کی طرف یا ان کے درمیان میں بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ لوگوں کے لئے وزن کرو، میں نے وزن کیا یہاں تک کہ ان کو پورا پورا دے دیا، اور میری کھجوروں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33871]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33871، ترقيم محمد عوامة 32368)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32369 ترقیم الشثری: -- 33872
٣٣٨٧٢ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن انيس بن ابي يحيى عن إسحاق بن سالم عن ابي هريرة قال: خرج علي رسول الله ﷺ يوما فقال:"ادع لي اصحابك"، -يعني اصحاب الصفة-، فجعلت اتبعهم رجلا رجلا اوقظهم حتى جمعتهم، فجئنا باب رسول الله ﷺ فاستاذنا، فاذن لنا، قال ابو هريرة: ووضعت بين ايدينا صحفة فيها صنيع قدر (مد من) (١) شعير، قال: فوضع رسول الله ﷺ يده ⦗٤٤٣⦘ عليها، فقال:"خذوا بسم الله"، فاكلنا ما شئنا، ثم رفعنا ايدينا، فقال رسول الله ﷺ حين وضعت الصحفة:"والذى نفس محمد بيده ما امسى في آل محمد طعام غير شيء ترونه"، فقيل لابي هريرة: قدركم كانت حين (فرغتم؟) (٢) قال: مثلها (٣) حين وضعت إلا ان فيها اثر الاصابع (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مدى).
(٢) في [أ، ب]: (فزعم).
(٣) زيادة في [أ، ب]: (حين فزعم قال: مثلها).
(٤) مجهول؛ لجهالة إسحاق بن سالم، أخرجه ابن سعد ١/ ٢٥٥، والطبراني في الأوسط (٢٩٠٧)، والخطيب في الموضح ١/ ٦٢، والفريابي في دلائل النبوة (١٣).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میرے پاس اپنے ساتھیوں کو بلاؤ یعنی اصحاب صفہ کو، میں ایک ایک آدمی کو تلاش کرنے لگا، اور ان کو بیدار کر کے جمع کرنے لگا، پھر ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئے اور اجازت چاہی آپ نے اجازت دے دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک پیالہ رکھا گیا جس میں ایک مد جو کے بقدر کھانا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ اللہ کے نام پر لے لو، ہم نے جتنا چاہا کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ پیالہ رکھا گیا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے آل محمد میں اس کے علاوہ کوئی کھانا نہیں جو تم دیکھ رہے ہو، حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ جب تم فارغ ہوئے اس وقت کتنا بچا ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا اتنا ہی جتنا رکھتے ہوئے تھا، مگر اس میں انگلیوں کے نشانات تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33872]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33872، ترقيم محمد عوامة 32369)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32370 ترقیم الشثری: -- 33873
٣٣٨٧٣ - حدثنا عبد الله بن نمير قال ثنا موسى الجهني عن الشعبي قال: سمعته يقول قال: نبي الله ﷺ لجلسائه (يوما) (١) :"ايسركم ان تكونوا ثلث اهل الجنة"، قالوا: الله ورسوله اعلم، قال:" (افيسركم) (٢) ان تكونوا نصف اهل الجنة"، قالوا: الله ورسوله اعلم، قال:"فإن امتي يوم القيامة ثلثا اهل الجنة، إن الناس يوم القيامة عشرون ومائة صف، وإن امتي من ذلك ثمانون صفا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أيومًا).
(٢) في [جـ، م]: (فيسركم).
(٣) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه هناد في الزهد (١٩٦)، وابن المبارك في الزهد (٣٧٩).

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی 5 نے اپنے اھل مجلس سے فرمایا کہ کیا اس پر تم خوش ہو کہ تم اھل جنت کا ایک تہائی ہو؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کا نصف ہو؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ پھر میری امت قیامت کے دن اہل جنت کا دو تہائی ہوگی، لوگ قیامت کے دن ایک سو بیس صفوں میں ہوں گے اور میری امت کی اسّی صفیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33873، ترقيم محمد عوامة 32370)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32371 ترقیم الشثری: -- 33874
٣٣٨٧٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن ابي سنان ضرار بن مرة عن محارب بن دثار عن ابن بريدة عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"اهل الجنة عشرون ومائة صف، هذه الامة منها ثمانون صفا" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٢٩٤٥)، والترمذي (٢٥٤٦)، وابن حبان (٧٤٥٩)، وابن ماجه (٤٢٨٩)، والحاكم ١/ ٨١، والدارمي (٢٨٣٥)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٧٥، وابن أبي الدنيا في حسن الظن باللَّه (٧٤)، وأبو يعلى في معجم شيوخه (٢١١)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٦٦)، وابن عدي ٤/ ١٤٢٠، والطبراني في الأوسط (٨٤٨٨).
حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، اور اس امت کی اسّی صفیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33874]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33874، ترقيم محمد عوامة 32371)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32372 ترقیم الشثری: -- 33875
٣٣٨٧٥ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن (زياد) (١) قال: سمعت ابا امامة الباهلي يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"وعدني ربي ان يدخل الجنة من امتي سبعين الفا، مع كل الف سبعون الفا، لا حساب عليهم ولا عذاب، وثلاث حثيات من حثيات ربي" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (دثار).
(٢) حسن؛ إسماعيل بن عياش صدوق في روايته عن أهل بلده، أخرجه أحمد (٢٢٣٠٣)، والترمذي (٢٤٣٧)، وابن ماجه (٤٢٨٦)، وابن حبان (٦٤٥٧)، وابن أبي عاصم في السنة (٥٨٩)، والطبراني (٧٥٢٠)، والدارقطني في الصفات (٥٠)، والبيهقي في الأسماء والصفات ص ٣٢٩.

حضرت ابو امامہ باھلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میر ی امت میں سے ایسے ستر ہزار کو جنت میں داخل فرمائیں گے کہ ہر ہزار کے ساتھ ایسے ستر ہزار ہوں گے جن پر کوئی حساب ہوگا نہ عذاب، پھر میرے رب کی تین لپیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33875]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33875، ترقيم محمد عوامة 32372)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32373 ترقیم الشثری: -- 33876
٣٣٨٧٦ - حدثنا عفان قال: ثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا الحارث بن (حصيرة) (١) قال: ثنا القاسم بن عبد الرحمن عن ابيه عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"كيف (٢) انتم (و) (٣) ربع الجنة، لكم ربعها، ولسائر الناس ثلاثة ارباعها"، (قال) (٤) : فقالوا: الله ورسوله اعلم، (قال:"فكيف) (٥) انتم وثلثها؟" قالوا: فذاك كثير، (قال:"فكيف) (٦) انتم والشطر؟"، قالوا: فذاك اكثر، فقال رسول الله ﷺ:"اهل الجنة يوم القيامة عشرون ومائة صف، انتم ثمانون صفا" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (حصرة)، وفي [هـ]: (الحصين)، وفي [س]: (خضيرة).
(٢) في [أ، ب، هـ]: زيادة (و).
(٣) سقط (الواو) من: [أ، ب، هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب]: (فقال: كيف).
(٦) في [أ، ب]: (فقال: كيف).
(٧) منقطع حكمًا؛ أخرجه أحمد (٤٣٢٨)، والبزار (١٩٩٩) (٣٥٣٤/ كشف)، وأبو يعلى (٥٣٥٨)، والطبراني (١٠٣٥٠)، وأصله عند البخاري (٦٦٤٢)، ومسلم (٢٢١).

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے جنت کے ایک چوتھائی حصّے کے بارے میں، کہ تمہارے لئے اس کا ایک چوتھائی اور بقیہ لوگوں کے لئے تین چوتھائی ہو؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، پھر فرمایا کہ پھر جنت کے ایک تہائی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ تم نصف کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت ہی زیادہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت قیامت کے دن ایک سو بیس صفوں میں ہوں گے اور تم اسّی صفوں میں ہو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33876]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33876، ترقيم محمد عوامة 32373)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32374 ترقیم الشثری: -- 33877
٣٣٨٧٧ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن زيد قال: ثنا بديل عن عبد الله بن شقيق عن قيس بن عباد عن كعب قال: اهل الجنة عشرون ومائة صف، ثمانون من هذه الامة.
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور اس امت کی اسّی صفیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33877]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33877، ترقيم محمد عوامة 32374)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32375 ترقیم الشثری: -- 33878
٣٣٨٧٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حميد عن انس ان رسول الله ﷺ قال:"لما انتهيت إلى سدرة المنتهى إذا ورقها امثال آذان الفيلة، وإذا نبقها امثال القلال، فلما غشيها من امر الله ما غشيها تحولت فذكرت الياقوت" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه مسلم (١٦٢)، وأحمد (١٢٥٠٥)، وأصله عند البخاري (٣٢٠٧) من حديث أنس عن مالك بن صعصعة.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا تو اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جتنے تھے، اس کا پھل بڑے مٹکوں کی طرح تھا، جب اس کو اللہ کے حکم سے عجیب کیفیت طاری ہوئی تو وہ بدل گیا اور مجھے یاقوت یاد آگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33878]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33878، ترقيم محمد عوامة 32375)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں